0
Monday 16 Oct 2017 20:53

ملت جعفریہ کے لاپتہ افراد کے بارے میں آگاہی دینا ریاستی ذمہ داری ہے، علی حسین نقوی

ملت جعفریہ کے لاپتہ افراد کے بارے میں آگاہی دینا ریاستی ذمہ داری ہے، علی حسین نقوی
اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین سندھ کے سیکرٹری سیاسیات سید علی حسین نقوی نے کہا ہے کہ ملت جعفریہ کے مسنگ پرسنز کے بارے میں آگاہی دینا ریاستی ذمہ داری ہے، اگر وہ کسی بھی ادارے کے تحویل میں نہیں ہیں، تو کیا ہم یہ سمجھیں کہ جو انہیں لے گئے ہیں، وہ ایلینز تھے اور ہمارے لاپتہ افراد کسی دوسرے سیارے سے ملیں گے، خاموشی کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتی، آئین پاکستان اور قانون پاکستان ہمیں یہ سوال پوچھنے کی اجازت دیتی ہے کہ ہمارے لاپتہ افراد کہاں ہیں، لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے علماء کی گرفتاری پیش کرنا خود اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم ایک ذمہ دار ملت ہیں اور نازک حالات کا ادراک رکھتے ہیں، ہم وہ ملت ہیں، جنہیں بسوں سے اتار کر شناختی کارڈ چیک کرکے مارا گیا، لیکن ملت جعفریہ نے آئین قانون اور اداروں پر اپنا اعتماد برقرار رکھتے ہوئے قانون کو ہاتھ میں صرف اس لئے نہیں لیا کہ اس ارض پاک کے گلشن میں ہمارے لہو رنگ گل بدلے اور نفرت کی آگ سے جھلس نہ جائیں، ان خیالات کے اظہار انہوں نے وحدت ہاؤس سولجر بازار میں ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر علامہ مبشر حسن، آصف صفوی، میثم عابدی، یعقوب حسینی، عالم کربلائی و دیگر ذمہ داران موجود تھے۔

علی حسین نقوی نے کہا کہ ہمارے انجینئرز، ڈاکٹرز، پروفیسرز، علماء، ادیب، دانشور، شعراء، بینکرز، گولڈ میڈلسٹ، ہونہار طالب علم اور جوانوں کو مسلک کی بنیاد پر چن چن کر مارا گیا، ہم نے ایک ایک دن میں سو سو جنازوں کی تدفین کی، لیکن اسکے باوجود ہم نے پاکستان پائندہ باد کا نعرہ لگا کر یہ ثابت کیا کہ ارض پاک کی مٹی سے ہمیں پیار ہے اور دشمن کی جانب سے فرقہ وارانہ فسادات کرانے کی ہر سازش کو ہم ہر قدم پر ناکام بناتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں گلگت بلتستان سے لیکر کراچی تک روزانہ کی بنیاد پر قتل کیا گیا اور پھر ان قتل کی ذمہ داری ببانگ دہل میڈیا پر قبول کی جاتی رہی، ہمیں یہ علم ہونے کے باوجود کہ ہمارا قاتل کون ہے، ہمارے علماء نے ہمیں کبھی انتقام لینے کا درس نہیں دیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے امام بارگاہ اور مساجد جلائی گئیں، بڑے بڑے جلسے منعقد کرکے حکومتی مشنری کے حفاظتی حصاروں میں ہمارے خلاف کافر کافر کے نعرے لگائے گئے، لیکن جواب میں ہم نے کبھی کسی کو کافر قرار نہیں دیا۔

صوبائی سیکریٹری سیاسیات نے کہا کہ کب تک آپ ہم سے ہماری حب الوطنی کا ثبوت مانگتے رہو گے، کیا اتنی قربانیاں دینے کے باوجود ملت جعفریہ کا حب الوطنی کا امتحان ختم نہیں ہوتا، یاد رکھیئے ہمارے لہو میں ظلم کیخلاف مزاحمت کا عنصر شامل ہے، ہم کربلا سے لیکر آج تک ظلم کیخلاف مزاحمت کرتے چلے آئے ہیں، 1400 سال کا جبر ہمارے حوصلوں کو شکست نہیں دے سکا، تو یہ زندان اور یہ خاموشی ہمارے حوصلوں کو کہاں شکست دے سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وطن کی بنیادوں میں ہمارا لہو شامل ہے، اس چمن کی آبیاری ہم نے اپنے خون سے کی ہے، اس لئے اس ملک کے آئین اور قانون کی بالادستی کیلئے ملت جعفریہ کے مسنگ پرسنز کے خانوادگان کو انکا آئینی و قانونی حق دلانے کیلئے ہم ہر قربانی دیں گے، یہ جیل بھرو تحریک ملک کے طول و عرض میں پھیلے گی اور ملت جعفریہ کے مسنگ پرسنز کے خانوادگان کو انصاف دلانے کیلئے آئین پاکستان اور قانون پاکستان کی بالادستی قائم ہونے تک جاری رہے گی۔
خبر کا کوڈ : 677056
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش