0
Wednesday 1 Nov 2017 20:30
دنیا بھر میں موجود علمائے اسلام کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ فلسطین و لبنان میں موجود اسلامی مزاحمت کی مدد کریں

اسرائیل اور اسکے نمک خواروں کیخلاف اسلامی مزاحمت کی حمایت جاری رکھیں گے، مفتی اعظم لبنان شیخ ماہر حمود

مقاومت اسلامی ہے ماضی سے لیکر اب تک امریکہ اور اسرائیل جیسے دشمن کے سامنے فلسطینی اور لبنانی قوم کی عظمت و سربلندی کو قائم رکھا ہے
اسرائیل اور اسکے نمک خواروں کیخلاف اسلامی مزاحمت کی حمایت جاری رکھیں گے، مفتی اعظم لبنان شیخ ماہر حمود
اسلام ٹائمز۔ علمائے اسلام و مقاومت اسلامی کی حمایت کرنے والے علمائے کرام اور مفتیان عظام کی دوسری عالمی فلسطین کانفرنس ’’الوعد الحق‘‘ کی افتتاحی تقریب بدھ کے روز یونیسکو سینٹر بیروت میں منعقد ہوئی، جس میں دنیا بھر سے علمائے کرام اور مفتیان عظام نے شرکت کی۔ عالمی فلسطین کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے علمائے اسلام و مقاومت کے سیکرٹری جنرل اور مفتی اعظم لبنان شیخ ماہر حمود نے کہا کہ اسرائیل اور اس کے نمک خواروں کے خلاف اسلامی مزاحمت کی حمایت جاری رکھیں گے، انہوں نے کہا کہ تحریک آزادی فلسطین و القدس کے لئے اسلامی مزاحمت کے فرزندوں کا فلسطین و لبنان میں پاکیزہ خون شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مقاومت اسلامی ہی ہے کہ جس نے ماضی سے لے کر اب تک امریکہ اور اسرائیل جیسے دشمن کے سامنے فلسطینی اور لبنانی قوم کی عظمت و سربلندی کو قائم کر رکھا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اسلامی مزاحمت ہی ہے کہ جس نے اسرائیل جیسے خونخوار دشمن کی ناک زمین پر رگڑ ڈالی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں موجود علمائے اسلام کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ فلسطین و لبنان میں موجود اسلامی مزاحمت کی مدد کریں۔

شیخ ماہر حمود کا کہنا تھا کہ آج مسلم و عرب دنیا میں چند افراد اسلامی مزاحمت کو مسخ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو کہ دراصل امریکہ اور اسرائیل کی خدمت کرنے میں مصروف ہیں، لیکن اسلامی مزاحمت ایک خالص مزاحمتی تحریک ہے، جسے دنیا کی کوئی طاقت بھی دہشت گردی کے ساتھ موازنہ کرنے کی جرات نہیں کرسکتی۔ شیخ ماہر حمود نے خطے میں جاری تکفیری سازشوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر اسلامی مزاحمت کا وجود نہ ہوتا تو آج شام، عراق اور پورے خطے میں اسلام کا لبادہ اوڑھ کر آنے والے دہشت گرد گروہ خطے کو تہس نہس کرچکے ہوتے۔ انہوں نے شام اور عراق میں اسلامی مزاحمت کو حاصل ہونے والی کامیابیوں کو اسرائیل کے خلاف ہونے والی کامیابیوں کا تسلسل قرار دیا۔ انہوں نے فلسطین پر غاصبانہ صیہونی تسلط کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایک سو سال بیت چکے ہیں اور فلسطین کے عوام بالفور اعلامیہ کے بعد سے تاحال مسلسل صیہونیوں کے ظلم و تشدد کا نشانہ بن رہے ہیں، لیکن ہماری بدقسمتی رہی ہے کہ عالم اسلام و عرب دنیا نے فلسطین کے معاملے میں جو کردار ادا کرنا چاہئیے تھا نہیں کیا۔ انہوں نے فلسطین کی تقسیم کے بالفور وعدے کو جھوٹا اور فسق وعدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بالفور اعلامیہ کے آج سو سال مکمل ہونے پر بھی دنیا کے باضمیر لوگ فلسطینی اور اسلامی مزاحمت کے کیمپ کی طرف کھڑے ہیں، جو وعدہ الہٰی کی دلیل ہے، فلسطین فلسطینیوں کا ہے۔
خبر کا کوڈ : 680741
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے