0
Sunday 12 Nov 2017 20:43
ایٹمی معاہدہ ایران، بین الاقوامی برادری اور این پی ٹی کو مستحکم بنانے کیلئے بہت اہم ہے

اگر ایٹمی معاہدے پر عمل نہ کیا گیا تو تہران اپنے جوابی اقدام سے مقابل فریق کو حیران کر دیگا، ڈاکٹر علی اکبر صالحی

10 ارب ڈالر کی مالیت کے دو ایٹمی بجلی گھر بھی ایران میں تعمیر کئے جائینگے
اگر ایٹمی معاہدے پر عمل نہ کیا گیا تو تہران اپنے جوابی اقدام سے مقابل فریق کو حیران کر دیگا، ڈاکٹر علی اکبر صالحی
اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوری ایران نے کہا ہے کہ اگر ایٹمی معاہدے پر عمل نہ کیا گیا تو تہران اپنے جوابی اقدام سے مقابل فریق کو حیرت زدہ کر دے گا۔ ایران کی ایٹمی توانائی کے ادارے کے سربراہ ڈاکٹر علی اکبر صالحی نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ ایٹمی معاہدہ سب کے مفاد میں ہے، اس امید کا اظہار کیا کہ ایٹمی معاہدے کی حفاظت کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی تو ایران اپنے اقدامات سے مقابل فریق کو حیرت زدہ کردے گا۔ ڈاکٹر صالحی نے تہران کے ایٹمی تحقیقاتی ری ایکٹر کی سرگرمیوں کے پچاس سال پورے ہونے پر کہا کہ ایٹمی مذاکرات کے مسئلے پر مقابل فریق کی جانب سے وعدہ خلافیوں کا امکان پایا جاتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے اس صورتحال سے نمٹنے اور معاہدے سے پہلی والی پوزیشن پر واپس لوٹنے کے لئے ضروری تدابیر اپنا رکھی ہیں، کیونکہ ایران نے مذاکرات میں بہت زیادہ خوش فہمی کے ساتھ شرکت نہیں کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ایٹمی معاہدہ ایران، بین الاقوامی برادری اور اسی طرح این پی ٹی کو مستحکم بنانے کے لئے بہت اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران میں نیوکلیئر اسپتال کی تعمیر کے لئے آسٹریا سے معاہدے کی بات جاری ہے اور جلد ہی ایران میں اس نوعیت کا ایک جدید ترین اسپتال تعمیر ہو جائے گا، جو مغربی ایشیا میں اس طرح کا پہلا اسپتال ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ دس ارب ڈالر کی مالیت کے دو ایٹمی بجلی گھر بھی ایران میں تعمیر کئے جائیں گے۔
خبر کا کوڈ : 682998
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب