0
Monday 20 Nov 2017 23:03
حزب اللہ نے عرب ممالک میں کارروائی کے الزام کو مسترد کر دیا

عرب لیگ کے وزراء خارجہ کا بیان مضحکہ خیز اور بے بنیاد ہے، سید حسن نصراللہ

عرب لیگ کے وزراء خارجہ کا بیان مضحکہ خیز اور بے بنیاد ہے، سید حسن نصراللہ
اسلام ٹائمز۔ حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے عرب ممالک کے وزراء خارجہ کے حزب اللہ کے خلاف بیان کو مضحکہ خیز اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس بیانیہ کی کوئی اہمیت نہیں۔ لبنان کی انقلابی تحریک حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے حزب الله کی جانب سے یمن کو بیلسٹک میزائل کی فراہمی سے متعلق عرب لیگ کے دعووں کو مسترد کر دیا۔ سید حسن نصرالله نے عرب لیگ کی جانب سے ایران اور حزب الله کے خلاف بیان پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ حزب الله کو دہشتگرد قرار دینے اور ایران کو دہشتگردوں کی حمایت کرنے کے الزامات نئے نہیں ہیں اور دشمنوں کی جانب سے اس قسم کے الزامات ماضی میں بھی لگائے گئے تھے۔ سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ شام کے آخری شہر البوکمال کو بھی داعش کے ناپاک وجود سے پاک کر دیا گیا ہے اور یہ آخری شہر تھا جو داعش کے قبضہ میں تھا۔ انہوں نے کہا کہ داعش کا شام سے خاتمہ ہوگیا ہے اور عراقی فورسز شام کی سرحد کے قریب پہنچ چکی ہیں۔ سید حسن نصراللہ نے کہا کہ البوکمال میں داعش کو امریکی سرپرستی اور پشتپناہی حاصل تھی، امریکہ بظاہر داعش کے مقابلے کے بہانے داعش کو تحفظ فراہم کر رہا تھا۔ سید حسن نصراللہ نے سعد حریری کے استعفٰی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ سعد حریری ابھی لبنان کے وزیراعظم ہیں، وہ وطن واپس آجائیں۔ سید حسن نصر اللہ نے سپاہ قدس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل نے ایران کے صوبہ کرمانشاہ میں زلزلہ سے متاثرہ افراد کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے رہبر انقلاب اسلامی، ایران کے صدر او عوام کو تعزیت پیش کی۔

دیگر ذرائع کے مطابق حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے سعودی عرب اور بحرین کی جانب سے لگائے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ دہشت گرد تنظیم دولت اسلامیہ (داعش) کے خاتمے کے اعلان کے بعد عراق سے اپنے جنگجووں کو واپس بلانے کو تیار ہیں۔ سید حسن نصراللہ نے ٹیلی ویژن کے ذریعے اپنے خطاب میں کہا کہ لبنانی تحریک نے عراق میں داعش کے خلاف لڑنے کے لئے اپنے کمانڈرز اور جنگجووں بڑی تعداد میں بھیجے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ مشن مکمل ہوگیا ہے، لیکن عراق کی جانب سے حتمی اعلان کے منتظر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جیسے ہی سرکاری سطح پر اعلامیہ آئے گا تو حزب اللہ عراق میں اپنی موجودگی کا ازسرنو جائزہ لے گی اور اپنے کارکنوں کو واپس بلا سکتی ہے۔ حزب اللہ کے سربراہ نے کہا کہ اگر ہم یہ سمجھ گئے کہ کام مکمل ہوا ہے تو پھر ہمارے بھائیوں کی وہاں موجودگی کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور وہ کسی دوسری جگہ جہاں پر ان کی ضرورت ہو، وہاں جانے کے لئے واپس آئیں گے۔ خیال رہے کہ حزب اللہ نے عراق کی عوامی رضاکار فورس الحشد الشعبی کی تریبت اور مشاورت کے لئے تجربہ کار کمانڈرز کو عراق بھیج دیا ہے۔ عراقی فورسز کی جانب سے 17 نومبر کو الراوہ کا قبضہ دوبارہ حاصل کرنے کا اعلان کیا تھا، جو عراق میں داعش کے قبضے میں آخری قصبہ تھا، جس کو تین سال کی طویل جدوجہد کے بعد حاصل کیا گیا۔

دوسری جانب گذشتہ روز سعودی عرب کی درخواست پر ہونے والے عرب لیگ کے غیر معمولی اجلاس میں سعودی عرب اور بحرین کے وزراء خارجہ نے ایران اور حزب اللہ پر شدید تنقید کی تھی۔ بحرین کے وزیر خارجہ شیخ خالد بن احمد الخلیفہ کا کہنا تھا کہ لبنان کی شیعہ تحریک حزب اللہ کو ملک پر مکمل قبضہ حاصل ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ خطے میں اس وقت ایران کا سب سے بڑا بازو دہشت گرد حزب اللہ کا بازو ہے۔ بحرینی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ حزب اللہ نہ صرف لبنان کی سرحد کے اندر کارروائی کرتی ہے بلکہ ہم تمام ملکوں کی سرحدوں کو پار کرتی ہے، جو عرب قومی سلامتی کے لئے خطرہ ہے۔ انہوں نے عرب لیگ کے اراکین سے مطالبہ کیا ہے کہ حزب اللہ حکومت کی شراکت دار ہے، اس لئے ذمہ داری کا مظاہرہ کرے۔ تاہم سید حسن نصراللہ نے اپنے خطاب میں عرب لیگ کے اجلاس میں لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یمن کی جانب سے سعودی عرب پر کئے گئے میزائل حملوں میں ان کا کوئی کردار نہیں تھا۔ لبنان کے وزیراعظم سعد حریری کی جانب رواں ماہ کے اوائل میں ایران پر ملکی معاملات میں مداخلت کا الزام عائد کرتے ہوئے سعودی عرب میں اپنے عہدے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد لبنان اور سعودی عرب کے درمیان معاملات کشیدہ صورت اختیار کر گئے تھے۔
خبر کا کوڈ : 684690
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے