0
Thursday 23 Nov 2017 11:26

کوہاٹ میں صوبے کی سب سے بڑی پولیس لائن کا افتتاح

کوہاٹ میں صوبے کی سب سے بڑی پولیس لائن کا افتتاح
اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سربراہ عمران خان کا کہنا ہے کہ ایک شخص کو سپریم کورٹ کے 5 ججز نااہل قرار دے چکے ہیں، ایسے میں عوامی نمائندوں نے اسے اہل قرار دے دیا۔ کوہاٹ میں پولیس لائنز کے افتتاح کے موقع پر میڈیا نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ کوہاٹ میں صوبے کی سب سے بڑی پولیس لائن قائم کی گئی ہے۔ خیبر پختونخوا پولیس پورے ملک کی ایک مثالی پولیس ہے اور 2018ء میں سارے ملک کی پولیس کو مثالی بنایا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا کے ہسپتالوں اور پولیس نظام کے حوالے سے فیصلہ صوبے کے عوام کریں گے۔ خیال رہے کہ تین سال کے عرصہ میں تعمیر کی جانے والی کوہاٹ پولیس لائن پر 55 کروڑ روپے کی لاگت آئی ہے۔ افتتاح کے بعد پی ٹی آئی چیئرمین نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ نواز شریف نے ان ارکانِ پارلیمنٹ کو ترقیاتی کاموں کے نام پر 94 ارب روپے کی رشوت دی جنہوں نے نااہل شخص کو پارٹی کی سربراہی کرنے سے روکنے کے حوالے سے بل کو مسترد کیا اور اس دوران قومی اسمبلی میں ان ہی 94 ارب روپے کی گونج سنائی دی۔ خیال رہے کہ گذشتہ روز پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی جانب سے قومی اسمبلی میں نااہل شخص کو کسی بھی سیاسی جماعت کی سربراہی سے روکنے کیلئے بل پیش کیا گیا جو حکمراں جماعت اور ان کے اتحادی اراکین کی اکثریتی بنیاد پر مسترد کر دیا گیا۔ عمران خان نے کہا کہ پارلیمنٹ میں مذکورہ بل کو مسترد کرنے کیلئے ووٹ دینے والے شرم سے ڈوب جائیں کیونکہ دنیا بھر کی جمہوری حکومتوں میں آج تک ایسا نہیں ہوا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ میں قائدِ اعظم محمد علی جناح کے بعد پاکستان کا واحد لیڈر ہوں جس نے پیسہ باہر کما کر پاکستان منتقل کیا جبکہ نواز شریف قوم کا 300 ارب روپیہ چوری کر کے ملک سے باہر لے گئے۔ انہوں نے شریف خاندان پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ شریف خاندان گذشتہ 30 سال سے ملک کو لوٹ رہا ہے، اگر میں ایک کرکٹر ہو کر 60 دستاویزات عدالت میں پیش کر سکتا ہوں تو یہ کیوں نہیں پیش کرسکتے؟ عمران خان کا کہنا تھا کہ شریف خاندان نے اب تک عدالت میں جو دستاویزات پیش کیں ہیں وہ صرف ایک قطری خط تھا۔ عدالت میں شریف خاندان کی پیش کی گئیں دستاویزات جعلی نکلیں، میری ایک بھی دستاویز جعلی نکلی تو سیاست چھوڑ دوں گا۔ عمران خان نے کہا کہ نواز شریف خیبر پختونخوا میں کھڑے ہو کر نئے خیبر پختونخوا کی بات کرتے ہیں لیکن اسی صوبے میں وہ بلٹ پروف اسٹیج کے بغیر جلسے کررہے ہیں تو کیا یہ تبدیلی نہیں؟ عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے سربراہ اسفند یار ولی خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گذشتہ حکومت میں اسفندیار ولی ملک سے باہر تھے اور آج وہ بھی خیبر پختونخوا میں جلسے کر رہے ہیں۔ ڈیرہ اسمٰعیل خان میں لڑکی کو برہنہ کرنے کے واقعے پر بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ اس واقعے میں ملوث 9 میں سے 8 افراد کو خیبر پختونخوا پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ڈی آئی خان معاملے پر علی امین گنڈا پور پر الزام لگایا گیا جبکہ میں نے کبھی بھی صوبے کی پولیس کو کسی وزیر کو نہ پکڑنے کی ہدایت نہیں کیں۔
خبر کا کوڈ : 685225
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے