0
Saturday 9 Dec 2017 19:57

پشاور، 70 فیصد بچوں کا حفا ظتی ٹیکوں سے محروم ہونیکا انکشاف

پشاور، 70 فیصد بچوں کا حفا ظتی ٹیکوں سے محروم ہونیکا انکشاف
اسلام ٹائمز۔ خیبرپختونخوا میں حاملہ خواتین اور نوزائیدہ بچوں کی صحت سے متعلق ہیلتھ سروے 2017 کی جاری رپورٹ میں گزشتہ 5 برسوں میں صوبے میں 17 فیصد سے زائد بچوں کا حفاظتی ٹیکوں سے محروم ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ 5.55 فیصد بچوں کی مکمل ایمونائزیشن کی گئی، جس میں 62.5 فیصد شہری اور 1.53 فیصد کا تعلق دیہی علاقوں سے تھا۔ سروے رپورٹ وزیر صحت شہرام ترکئی نے پشاور میں منعقد ہونے والی تقریب میں پیش کی، جس میں سیکرٹری صحت عابد مجید، سیکرٹری پی اینڈ ڈی شہاب علی، ڈی جی ہیلتھ سروسز ایوب روز اور دیگر نے شرکت کی۔ رپورٹ کے مطابق ماں کا دودھ پینے والے بچوں کی شرح 1.59 فیصد رہی۔ 54 فیصد خواتین کو زچگی کے دوران بہترین طبی سہولیات ملیں۔ 7 فیصد کی ڈیلیوری گھروں میں دائی، 9 فیصد کی ایل ایچ اویز کے ذریعے ہوئی، 5 سال میں 67.5 فیصد زچگیاں طبی مراکز میں ہوئیں۔ جن میں 36 فیصد نجی کلینک وہسپتالوں، 6.30 سرکاری ہسپتالوں جبکہ 32.4 خواتین اپنے گھر میں ہی زچگی کےعمل سے گزریں۔ سروے میں 15167 ماوں، نوزائیدہ بچوں سے لیکر 2 سال تک کے 15487 بچوں کو شامل کیا گیا، جن میں سے 75 فیصد کا تعلق دیہی اور 25 فیصد کا تعلق شہری علاقوں سے تھا۔ سروے میں یہ بات سامنے آئی کہ 13۔ 2012 کے 48 کے فیصد کے مقابلے میں اب 72 فیصد بچوں کی پیدائش کسی ماہر ڈاکٹر، نرس، یادائی کی موجودگی میں ہوئیں۔ اسی طرح 58 فیصد بچوں کو ماں کا دودھ میسر ہے، جن میں دیہی اور غریب طبقے سے تعلق رکھنے والی خواتین شامل ہیں تاہم صوبے میں صرف 19 فیصد بچوں تک یہ نعمت پہنچتی ہے۔ صحت کے شعبے میں ہر سطح پر بہتری کیلئے 2013 میں حکومت برطانیہ کے ڈیپارٹمنٹ فار انٹرنیشنل ڈیویلپمنٹ کے تعاون سے پراونشل ہیلتھ اینڈ نیوٹریشن پروگرام متعارف کیا تاکہ حاملہ خواتین اور نوزائیدہ بچوں کی صحت کےحوالے سے اعداد و شمار جمع کیاجاسکے اور حفاظتی ٹیکوں اور صحت کی دیگر سہولیات کی فراہمی، ماہر ڈاکٹر کے ذریعے بچے کی پیدائش اور بچے کو ماں کے دودھ کی فراہمی جیسے توجہ طلب مسائل کے حل کو یقینی بنایاجاسکے۔ سروے ڈی ایف بی ایس، پی اینڈ ڈی ڈیپارٹمنٹ، ٹی آرایف اور ڈی ایف آئی ڈی کے باہمی تعاون سے کیا گیا۔
خبر کا کوڈ : 688837
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب