0
Saturday 9 Dec 2017 16:39
آئین پاکستان میں مقدسات اور شخصیات کے تحفظ کے جو قوانین موجود ہیں انہی پر عمل کرنیکی ضرورت ہے، علامہ عارف واحدی

قانون ختم نبوت کا ہر فورم پر علمی دفاع کیا جائیگا اور کسی حکومتی بل کو قبول نہیں کیا جا سکتا، قاضی ظفرالحق

آج امت کے اتحاد کی کوشش کرنا اور انتشار پھیلانے کی کوششوں کا سدباب کرنا سب سے بڑا شرعی فریضہ ہے، ثاقب اکبر
قانون ختم نبوت کا ہر فورم پر علمی دفاع کیا جائیگا اور کسی حکومتی بل کو قبول نہیں کیا جا سکتا، قاضی ظفرالحق
اسلام ٹائمز۔ ملی یکجہتی کونسل کے علمی و تحقیقاتی کمیشن کا حقیقی کام امت کے مسائل کی نظریاتی بنیادوں کو تلاش کرنا اور ان کا علمی حل پیش کرنا ہے۔ یہ ایک بڑا کام ہے، ان خیالات کا اظہار ملی یکجہتی کونسل کے علمی و تحقیقاتی کمیشن کے کنوینئر قاضی ظفر الحق نے کمیشن کے اجلاس میں کیا۔ یہ اجلاس ملی یکجہتی کونسل کے مرکزی دفتر اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں علمی تحقیقی کمیشن کے متعلقہ تمام مسالک کی جماعتوں کے ممبران نے شرکت کی۔ قاضی ظفر الحق نے کہا کہ پاکستانی قوم کے اختلافات مختلف نوعیت کے ہیں، ان میں کچھ مذہبی ہیں تو کچھ سیاسی، علاقائی اور لسانی اختلافات ان کے علاوہ ہیں۔ امت کے اتحاد اور مسالک کے مقدسات کے حوالے سے اہل تشیع اور اہل تسنن کے علماء و مراجع عظام کے فتاویٰ کو عوام الناس تک پہنچانے کی اشد ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دشمن کی سازش واضح ہوچکی ہے، بیت المقدس جیسے مسائل کو پیدا کرکے عالم اسلام کو مزید تفرقہ اور انتشار کا شکار کرنا ہے۔ کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل ثاقب اکبر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آج امت کے اتحاد کی کوشش کرنا اور انتشار پھیلانے کی کوششوں کا سدباب کرنا سب سے بڑا شرعی فریضہ ہے، جسے ہم ملی یکجہتی کونسل کے پلیٹ فارم پر انجام دے رہے ہیں۔ برصغیر اور اس سے باہر علماء نے اتحاد امت کے لئے جو گراں قدر کام کیا ہے، اسے کونسل کے پلیٹ پر جمع کرکے اس کی نشر و اشاعت کی جائے گی، یہی کونسل کے علمی تحقیقاتی کمیشن کا بنیادی مقصد ہے۔

ممبر اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان و کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ عارف حسین واحدی کا کہنا تھا کہ پاکستان کے آئین میں مقدس شخصیات کا قانون موجود ہے، لیکن اس پر عمل نہیں کیا جاتا، ہم سمجھتے ہیں کہ نئے قوانین کی ضرورت نہیں، جو قوانین موجود ہیں ان پر مکمل طور پر عمل کیا جائے تو بہت سے مسائل کو حل کیا جا سکتا ہے۔ ختم نبوت کا مسئلہ مسلم و متفقہ مسئلہ ہے، اس پر کسی قسم کی قدغن قبول نہیں ہے۔ بین المسالک ہم آہنگی اور قدر مشترک پر تمام مسالک کی طرف سے کی گئی علمی تحقیقی کاوشوں کو مرتب انداز میں لوگوں تک پہنچایا جائے، تاکہ لاعلمی میں پھیلائے گئے اختلافات اور سازشی تفرقہ و انتشار کا سدباب کرکے وطن عزیز پاکستان کو امن کا گہوارہ بنایا جائے۔ انکا کہنا تھا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بیان ایک خطرناک سازش کا حصہ ہے، ہمیں سنجیدگی سے اسکا مقابلہ کرنا ہوگا۔ دیگر اراکین نے بھی کمیشن کی اہمیت اور اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی۔ اجلاس میں طے پایا کہ کمیشن کا اجلاس باقاعدگی سے منعقد کیا جائے گا۔ اجلاس میں کمیشن کے ایجنڈے، امت کے اتحاد کے حوالے سے مواد کی جمع آوری، ایجنڈے کی تکمیل کے لئے کمیٹی کی تشکیل پر غور، ماہنامے کا اجراء اور دیگر امور زیر بحث آئے۔ اجلاس میں تنظیم اسلامی پاکستان کے ڈاکٹر ضمیر اختر خان، تحریک جوانان پاکستان شعبہ مذہبی امور کے مولانا عمران سندھو، جمعیت علمائے پاکستان کے صدر راولپنڈی مولانا عامر شہزاد، جمعیت اہلحدیث کے سیکرٹری اطلاعات ثناء اللہ حقانی، تحریک اویسیہ پاکستان کے مرکزی ناظم اعلٰی پیر محمد تبسم بشیر اویسی، تحریک احیائے خلافت کے مصباح الحفیظ، جمعیت علمائے اسلام کے راہنما مفتی امیر زیب، ادارہ البصیرہ کے شعبہ تحقیقات کے مفتی امجد عباس جماعت اہل حرم کے رکن مفتی احسان اللہ کیانی اور مولانا سراج احمد مالکی اور ملی یکجہتی کونسل کے حافظ شاہد، مجاہد علوی، نجف علی و دیگر راہنماء بھی شریک ہوئے۔
خبر کا کوڈ : 688878
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب