0
Wednesday 13 Dec 2017 22:58

فاٹا انضمام کا معاملہ جبر و زبردستی کیبجائے جمہوری طریقے سے حل کیا جائے، مولانا فضل الرحمان

فاٹا انضمام کا معاملہ جبر و زبردستی کیبجائے جمہوری طریقے سے حل کیا جائے، مولانا فضل الرحمان
اسلام ٹائمز۔ جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ فاٹا انضمام کا معاملہ جبر اور زبردستی کے بجائے جمہوری طریقے سے حل کیا جائے۔ کراچی میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ فاٹا کے انضمام کیلئے جلد بازی اور تمام تر آئینی رکاوٹیں پھلانگنا معقول عمل نہیں، بلکہ طریقے اور سلیقے سے اس عمل کو انجام دیا جائے، فاٹا میں کسی حد تک انضمام کی حمایت ہے، تو اس سے بڑھ کر مخالفت بھی ہے، جبکہ فاٹا کے اندر الگ صوبے اور پرانا نظام جاری رکھنے کی بھی تحریک ہے، اس لئے جمہوری طریقہ اپناتے ہوئے عوام کی اکثریت کے مطابق فیصلہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ انضمام کی تحریک چلانے والی جماعتوں کو کہتا ہوں کہ جبر اور زبردستی کے بجائے جمہوری طریقہ اختیار کریں۔ انہوں نے فاٹا سپریم کونسل کے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ قبائلی عمائدین نے حکومت اور حزب اختلاف کی جماعتوں سے اپیل کی ہے کہ انضمام سے قبل ان سے بات کرکے اعتماد میں لیا جائے، کیونکہ فیصلے کے تمام تر اثرات براہ راست ان پر پڑیں گے، وزیراعظم اور اپوزیشن جماعتیں بات چیت کے ذریعے انضمام کا معاملہ حل کریں، تاکہ کسی کو جبر اور زبردستی مسلط کرنے کا احساس نہ ہو۔ واضح رہے کہ آج قبائلی عمائدین اور یوتھ جرگہ کے وفود نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں، اس موقع پر آرمی چیف نے فاٹا سے آنے والے وفود کو یقین دہانی کرائی کہ پاک فوج فاٹا کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے عمل کی مکمل حمایت کرتی ہے۔
خبر کا کوڈ : 689839
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے