0
Monday 18 Dec 2017 13:08

ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے زیراہتمام آزادی قدس کانفرنس 20 دسمبر کو اسلام آباد میں ہوگی

کانفرنس میں کونسل کی مرکزی قیادت اور سول سوسائٹی کے اہم اراکین شرکت کرینگے، مشاورتی اجلاس
ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے زیراہتمام آزادی قدس کانفرنس 20 دسمبر کو اسلام آباد میں ہوگی
اسلام ٹائمز۔ اسرائیل فلسطینی ریاست پر مسلط کردہ ریاست ہے، جس میں یہودیوں کو دنیا بھر سے لا کر آباد کیا گیا ہے۔ اس آبادکاری کے نتیجے میں در بدر ہونے والے فلسطینی آج بھی مہاجروں کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل ثاقب اکبر نے آزادی قدس قومی کانفرنس کے لئے بلائے گئے مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے بانیوں نے ابتداء سے اس مسئلہ کی اہمیت کی جانب توجہ دلائی۔ علامہ محمد اقبال اور قائداعظم نے اپنے متعدد خطابات اور پیغامات میں فلسطین کی سرزمین پر صہیونی ریاست کے قیام کی سازشوں کے خلاف آواز اٹھائی اور اس حوالے سے برطانوی اور صہیونی منصوبوں پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔ ثاقب اکبر نے کہا کہ قائداعظم نے اسرائیلی وزیراعظم کے ٹیلی گرام کے جواب میں لکھا کہ جب تک ایک بھی مسلمان زندہ ہے ہم اسرائیل کے ناجائز وجود کو تسلیم نہیں کریں گے، تاہم آج حکومت پاکستان قائداعظم کے اس اصولی موقف سے پیچھے ہٹ چکی ہے اور حکومتی ترجمان دو ریاستی حل کے نظریئے کی وکالت کر رہے ہیں، جو اسرائیل کی ناجائز ریاست کو جائز تسلیم کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے حال میں منعقدہ او آئی سی کے ہنگامی سربراہی اجلاس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کانفرنس کے اعلامیہ میں بھی دو ریاستی حل کی بات کی گئی، جو امت مسلمہ کو کسی صورت قبول نہیں۔ اسرائیل ایک ناجائز اور قابض ریاست ہے۔ مسئلہ مشرقی و مغربی یروشلم کی حیثیت کا نہیں، آزادی فلسطین کا ہے۔

اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے جماعت اہل حرم کے سربراہ مفتی گلزار احمد نعیمی نے کہا کہ قدس الشریف کے مسئلہ کو تسلسل کے ساتھ اٹھایا جانا چاہیے۔ اتحاد علماء پاکستان کے نائب صدر مولانا عبد الجلیل نقشبندی نے کہا کہ قدس کے حوالے سے زبانی جمع خرچ سے کام لیا گیا ہے، عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ امریکی صدر ٹرمپ کے بیان نے امریکی ظلم کو بے نقاب کر دیا ہے۔ تحریک جوانان پاکستان کے مرکزی راہنما مولانا عمران سندھو نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ جب تک ایک بھی مسلمان زندہ ہے، ہم یروشلم پر فلسطینیوں کے حق سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ جماعت اسلامی راولپنڈی کے امیر سید عارف شیرازی نے کہا کہ ہمیں پارلیمنٹ کے اراکین کو اس مسئلہ کے بارے میں آگاہ کرنا چاہیے، کیونکہ بیشتر اراکین اس مسئلے کی تفصیلات سے آگاہ نہیں ہیں۔ اسی طرح غیر ملکی سفارت کاروں سے بھی ملاقات کرنا چاہیے اور قدس کے حوالے سے پاکستانی قوم کے جذبات سے آگاہ کرنا چاہیے۔ ملی یکجہتی کونسل کے مشاورتی اجلاس میں آزادی قدس قومی سیمینار کے انتظامی امور بھی زیر بحث آئے۔

یادر ہے کہ ملی یکجہتی کونسل پاکستان بیس دسمبر کو اسلام آباد میں آزادی قدس قومی کانفرنس منعقد کر رہی ہے، جس میں کونسل کے مرکزی قائدین ڈاکٹر صاحبزادہ ابو الخیر محمد زبیر، لیاقت بلوچ، علامہ سید ساجد علی نقوی، حافظ عبدالرحمن مکی، پیر عبدالرحیم نقشبندی، علامہ راجہ ناصر عباس، پیر ہارون علی گیلانی، علامہ امین شہیدی، حافظ ابتسام الٰہی ظہیر، سید ضیاء اللہ شاہ بخاری، حافظ عبدالغفار روپڑی، علامہ قاضی نیاز نقوی، پیر معصوم نقوی، ڈاکٹر امجد چشتی، خرم نواز گنڈا پور کے علاوہ دیگر جماعتوں کے مرکزی راہنما اور سول سوسائٹی کے اہم اراکین اور کارکنان کی ایک بڑی تعداد شریک ہوگی۔ اجلاس میں آزادی قدس سیمینار کے علاوہ ایک عظیم الشان کل جماعتی مارچ کی بھی تجویز پیش کی گئی۔ اجلاس میں کونسل کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل نذیر جنجوعہ، جمعیت علمائے پاکستان کے سینیئر نائب صدر سید ذوالفقار علی شاہ، جماعت اسلامی اسلام آباد کے نائب امیر ملک عبد العزیز، مجلس وحدت مسلمین کے راہنما سید محمد حسین شیرازی، جمعیت اہل حدیث کے راہنما مولانا عمر فاروق، تنظیم اسلامی کے راہنما راجہ محمد اصغر، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے راہنما مفتی امیر زیب، جماعت الدعوۃ کے راہنما مولانا عبدالرحمن اور دیگر نے بھی شرکت کی۔
خبر کا کوڈ : 690837
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب