0
Thursday 21 Dec 2017 22:16
آج کے دن ہمارے کیخلاف ووٹ دیکر امریکی رسوائی کرنیوالوں کو امریکہ یاد رکھے گا، نکی ہیلی

جنرل اسمبلی، القدس پر امریکی صدر کے فیصلے کیخلاف قرارداد منظور

امریکہ اپنا سفارتخانہ یروشلم میں منتقل کریگا، ووٹنگ سے امریکی فیصلے پر کوئی اثر نہیں پڑیگا، امریکی سفیر
جنرل اسمبلی، القدس پر امریکی صدر کے فیصلے کیخلاف قرارداد منظور
اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں کے باوجود مقبوضہ بیت المقدس سے متعلق امریکی اعلان کے خلاف قرارداد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کثرتِ رائے سے منظور کر لی گئی ہے، قرارداد کے حق میں 128 ووٹ آئے جبکہ مخالفت میں صرف 9 ووٹ ڈالے گئے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور اپنے سفارت خانے کی وہاں منتقلی کا اعلان کیا تھا، اس اعلان پر دنیا بھر سے شدید مذمت کی جا رہی ہے، ایران، پاکستان اور ترکی سمیت مسلم ممالک میں امریکی فیصلے کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی کئے جا رہے ہیں۔ امریکی فیصلے کے خلاف اسلامی تعاون تنظیم کا سربراہی اجلاس بھی ہوا، جس نے ٹرمپ کے اعلان کی مذمت کی اور فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی فیصلے کے خلاف قرارداد پیش کرنے میں ترکی اور پاکستان بھی شامل تھے۔ اس سے پہلے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں قرارداد کو امریکہ نے ویٹو کر دیا تھا، جس کے بعد قرارداد جنرل اسمبلی میں پیش کی گئی۔ دوسری جانب فلسطین نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مقبوضہ بیت المقدس پر امریکی فیصلے کے خلاف قرارداد کی منظور کا خیر مقدم کیا ہے۔ فلسطینی صدر محمود عباس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ عالمی ادارے میں قرارداد کی منظوری کے بعد فلسطین کو ایک بار پھر عالمی برادری کی حمایت حاصل ہوگئی اور کسی بھی فریق کا فیصلہ حقائق کو نہیں بدل سکتا ہے۔

اقوام متحدہ میں پاکستانی مندوب ملیحہ لودھی کا کہنا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس سے متعلق امریکی فیصلہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے، مقبوضہ بیت المقدس کی حیثیت بدلنے والا کوئی منصوبہ قبول نہیں اور حالیہ دھمکیوں کے باوجود فلسطینیوں کی حمایت جاری رکھیں گے۔ جنرل اسمبلی کے غیر معمولی ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ملیحہ لودھی نے کہا کہ پاکستان مقبوضہ بیت المقدس سے متعلق قرارداد کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم فلسطین اور ان کے جائز مطالبات کے حق میں ہیں، فلسطینیوں کی جدوجہد کی حمایت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم حصہ ہے اور ہم فلسطینیوں کی حمایت جاری رکھیں گے۔ ملیحہ لودھی نے زور دیا کہ 2 ریاستی حل کے علاوہ فلسطینیوں کو کوئی فیصلہ قبول نہیں ہوگا، دارالحکومت القدس کے ساتھ آزاد، خود مختار فلسطین ہی مشرق وسطٰی امن کی ضرورت ہے اور اس کے علاوہ کوئی منصوبہ قابل قبول اور قابل عمل نہیں ہوگا۔ ادھر اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نکی ہیلی کا کہنا ہے کہ امریکہ اپنا سفارتخانہ یروشلم میں منتقل کرے گا اور ووٹنگ سے امریکی فیصلے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ جنرل اسمبلی کے غیر معمولی ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نکی ہیلی کا کہنا تھا کہ امریکہ اقوام متحدہ کا سب سے بڑا کنٹری بیوٹر ہے، اقوام متحدہ کے لئے مخلصانہ کام کرتے ہیں، اقوام متحدہ کو بھی امریکی فیصلوں کا احترام کرنا چاہیے، جبکہ امریکی سفارتخانے کی جگہ منتخب کرنا ہمارا جائز حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے ممالک نے ہماری امداد اور اثر و رسوخ سے فائدہ اٹھایا ہے، آج کے دن امریکہ کے خلاف ووٹ دے کر امریکی رسوائی کرنے والوں کو امریکہ یاد رکھے گا۔

دیگر ذرائع کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں قرارداد کے حق میں 128 ووٹ پڑے، جبکہ 35 ممالک جنرل اسمبلی کے اجلاس سے غیر حاضر رہے، قرارداد کی مخالفت میں 9 ملکوں نے ووٹ دیا۔ یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بین الاقوامی اتفاق رائے سے انحراف کرتے ہوئے رواں ماہ 6 دسمبر کو یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ وہ امریکی سفارتخانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کریں گے۔ ان کے اس اقدام کی عالمی سطح پر شدید مذمت کی گئی اور مختلف ممالک میں مظاہرے ہوئے۔ واضح رہے کہ اسرائیل نے 1967ء میں مشرق وسطٰی کی جنگ کے دوران شہر کے مشرقی حصے کا کنٹرول حاصل کیا تھا اور پورے یروشلم کو وہ غیر منقسم دارالحکومت کے طور پر دیکھتا ہے، جبکہ فلسطینی یروشلم شہر کے مشرقی حصے کو مستقبل میں اپنی ریاست کے دارالحکومت کے طور دیکھتے ہیں۔ واضح رہے کہ ایران، پاکستان، سعودی عرب، افغانستان اور بھارت سمیت دنیا کے بیشتر ممالک نے ٹرمپ کے فیصلے کے خلاف ووٹ دیا۔ ٹرمپ کے فیصلے کے حق میں ووٹ دینے والے ممالک میں گوئٹے مالا، ہونڈرس، اسرائیل، مارشل آئی لینڈز، میکرونیشیاء، نارو، پلاؤ، ٹوگو اور امریکہ شامل ہیں۔

اقوام متحدہ میں پاکستانی مندوب ملیحہ لودھی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے پر دو ٹوک اعلان کیا کہ امریکی فیصلہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے، مقبوضہ بیت المقدس کی حیثیت بدلنے والا کوئی منصوبہ قبول نہیں۔ خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ بیت المقدس پر ہمارے فیصلے کے خلاف قرارداد میں حصہ لینے والے ممالک کی امداد بند کر دیں گے، تاہم اس دھمکی کے باوجود پاکستان نے یمن، مصر اور ایران کے ساتھ مل کر یہ قرارداد پیش کرکے امریکی فیصلے کی کھلم کھلا مخالفت کی ہے۔ ایک روز قبل پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی نے ٹرمپ کے فیصلے مسترد کرنے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ امریکہ کا یہ فیصلہ ناقابل قبول ہے۔ دوسری جانب امریکی سفیر کا کہنا ہے کہ قرارداد پاس ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا، مقبوضہ بیت المقدس میں سفارتخانہ ضرور بنائیں گے، ان ممالک کویاد رکھیں گے، جنہوں نے ہمیں بے عزت کیا۔
خبر کا کوڈ : 691641
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب