0
Sunday 24 Dec 2017 10:47
پاکستان کا ایٹم بم اسلام کی جاگیر ہے، بیت المقدس کیلئے چلانا پڑے تو چلا دیا جائے، حافظ سعید

دفاع پاکستان کونسل نے مسئلہ فلسطین پر پاکستان میں اسلامی سربراہی کانفرنس بلانے کا مطالبہ کر دیا

دفاع پاکستان کونسل نے مسئلہ فلسطین پر پاکستان میں اسلامی سربراہی کانفرنس بلانے کا مطالبہ کر دیا
اسلام ٹائمز۔ دفاع پاکستان کونسل کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ پاکستان میں اسلامی سربراہی کانفرنس بلائی جائے، مسلم حکمران متحد ہو کر اسرائیل کیخلاف اعلان جہاد کریں، پاکستان کا ایٹم بم اسلام کی جاگیر ہے، مقبوضہ بیت المقدس کی آزادی کیلئے اسے بھی چلانا پڑے تو دریغ نہیں کرنا چاہیے، ملک کے کونے کونے میں جاکر لوگوں کو فلسطین و کشمیر کی آزادی کیلئے متحد وبیدار کریں گے، 29 دسمبر کو لیاقت باغ راولپنڈی میں بڑی تحفظ بیت المقدس کانفرنس ہوگی، جنرل اسمبلی میں امریکہ کو بدترین شکست ہوئی، امریکی ڈومور سے جان چھڑانے کا یہ بہترین موقع ہے، حکمران پورے عالم اسلام اور انصاف پسند دنیا کو متحد کریں، مقبوضہ بیت المقدس کی آزادی کیلئے فیصلہ کن اقدامات کئے جائیں۔ گوجرانوالہ میں دفاع پاکستان کونسل کے زیراہتمام مرکز اقصیٰ مین جی ٹی روڈ سے شیرانوالہ باغ تک تحفظ قبلہ اول کارواں سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعۃالدعوۃ پاکستان حافظ سعید، حافظ عبدالرحمن مکی، حافظ اسعد محمود سلفی، چودھری عمران یوسف گجر، نصر اللہ گل، احسان اللہ، گلزار احمد آزاد، نصیر اویسی، سلیم زاہد قادری، محمد قاسم خاں ایڈووکیٹ، حافظ شاہد منیر، عبدالرزاق بٹ و دیگر نے خطاب کیا۔

قبلہ اول کارواں کے اختتام پر شیرانوالہ باغ میں بڑے جلسہ عام کا انعقاد کیا گیا۔ حافظ محمد سعید نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ٹرمپ کے اعلان نے بہت بڑا راستہ کھول دیا ہے، اس وقت امت مسلمہ میں اتحاد کی ضرورت ہے، پاکستانی حکمران امریکی ڈومور سے جان چھڑانا چاہتے ہیں تو اس سے اچھا موقع اور کوئی نہیں، اس کا طریقہ یہ ہے کہ پاکستانی وزیر اعظم عالم اسلام کے سربراہوں کو پاکستان آنے کی دعوت دیں، اسلامی سربراہی کانفرنس منعقد کی جائے اور اس امر کا ا علان کیا جائے کہ جس طرح بیت المقدس اسرائیلی دارالحکومت بنے گا اس دن جہاد کے قافلے چل پڑیں گے، سیاسی و عسکری قیادت اور تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں قبلہ اول کی آزادی کیلئے متحد ہو جائیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ایٹم بم اسلام کی جاگیر ہے، بیت المقدس کی آزادی کیلئے اسے بھی چلانا پڑے تو گریز نہیں کرنا چاہیے۔

حافظ عبدالرحمن مکی نے کہاکہ ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان درحقیقت اسرائیل کے صفحہ ہستی سے مٹ جانے کا اعلان ہے، عالم اسلام کے قلب پر غاصبانہ قبضہ جمانے کی صیہونی و یہودی لابی کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی۔ حافظ اسعد محمود سلفی نے کہا کہ بیت المقدس کے تحفظ کیلئے سیاسی و مذہبی زعماء آج حافظ محمد سعید کی قیادت میں اکٹھے ہیں، اللہ نے دین کو غلبے کیلئے بنایا جب بھی دین کو ماننے والے تنزلی میں آئے تو اس کی وجہ ان کا آپس میں اختلاف تھا۔ نصیر اویسی، نصر اللہ گل، احسان اللہ، گلزار احمد آزاد، سلیم زاہد قادری، محمد قاسم خاں ایڈووکیٹ، حافظ شاہد منیر،عبدالرزاق بٹ و دیگر نے کہاکہ اسلامی ممالک کی حفاظت ضروری ہے۔
خبر کا کوڈ : 692085
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب