0
Friday 2 Feb 2018 20:29
سابق وزیراعظم نواز شریف کو فوج یا عدلیہ نے نہیں بلکہ میرے رب نے نکالا ہے

کشمیریوں کو پاکستانی پرچموں میں دفن ہونا بھارت سے بیزاری کا اظہار اور ریفرنڈم ہے، حافظ سعید

جب تک کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہوتا بھارت سے تعلقات بہتر نہیں ہو سکتے
کشمیریوں کو پاکستانی پرچموں میں دفن ہونا بھارت سے بیزاری کا اظہار اور ریفرنڈم ہے، حافظ سعید
اسلام ٹائمز۔ ورلڈ کالمسٹ کلب کے زیراہتمام یکجہتی کشمیر کے سلسلہ میں منعقدہ سیمینار سے مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم یوم یکجہتی کشمیر پر رسمی خطاب کی بجائے اپنی کابینہ کے ہمراہ اقوام متحدہ دفتر کے باہر دھرنا دیں، جس طرح کشمیری یکسو ہیں اسی طرح پاکستان یکسو ہوگا تو کشمیر کو آزادی ملے گی، کشمیر پاکستان بنے گا نہیں بلکہ پاکستان ہے، اسلام آباد کو کشمیریوں کی قربانیاں کیوں نظر نہیں آ رہیں؟۔ 2018 کشمیر کے نام کرتے ہیں، بھارت جا کر اس کی زبان بولنے والے پاکستان کے غدار ہیں۔ کشمیر کی آزادی نوشتہ دیوار بن چکی ہے، سفارتی محاذ پر کشمیر کے مسئلہ کو اجاگر کیا جائے، کشمیر صرف نعروں سے آزاد نہیں ہوگا، عملی جدوجہد کی ضرورت ہے۔ پاکستانی قوم کو کشمیریوں کی بھرپور مدد کرنا ہوگی۔ اسرائیلی وزیراعظم کے دورہ انڈیا میں پاکستان کیخلاف معاہدے کئے گئے۔ امریکہ بھارت اور اسرائیل کی سرپرستی کر رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار جماعة الدعوة پاکستان کے سربراہ حافظ سعید، جسٹس (ر) میاں محبوب احمد، ڈاکٹر اجمل خان نیازی،محمد دلاور چودھری، مظہر برلاس، نیلما ناہید درانی، ناز بٹ، محمد ناصر اقبال خان، سلمان عابد، نوید چودھری، قیوم نظامی، عنازہ احسان بٹ، فرحت پروین، شفقت اللہ ملک اور بینا گوئندی نے ایوان کارکنان تحریک پاکستان میں ورلڈ کالمسٹ کلب کے زیر اہتمام ”جلتی ہوئی جنت کے جھلستے پھول“ کے عنوان سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر یحییٰ مجاہد، میاں محمد سعید کھوکھر، آصف عنایٹ بٹ، نبیلہ طارق ایڈووکیٹ، کاشف سلیمان، میاں محمد اشرف عاصمی ایڈوکیٹ، ممتاز اعوان، سلمان پرویز، ناصر چوہان ایڈووکیٹ، محمد شاہد محمود و دیگر بھی موجود تھے۔

امیر جماعةالدعوة حافظ سعید نے کہا کہ ہم مظلوم بھائیوں کی مدد کو اپنا دین سمجھتے ہیں، مودی کی سرشت میں ظلم ہے، یہ ظلم کے بغیر نہیں رہ سکتے، بھارت نے جو ظلم کشمیر میں شروع کر رکھا ہے بھارت میں دوسری اقلیتوں کیخلاف اسی طرح کا ظلم ہے، وہاں عیسائی اور ان کے عبادت خانے محفوظ نہیں، گائے ذبح کے الزام میں مسلمانوں کا خون بہایا جا رہا ہے، دنیا اس حقیقت کو کیوں نہیں دیکھ رہی، تاریخ شاہد ہے کہ ظلم بالآخر مٹ جاتا ہے، اسرائیل کے وزیراعظم نے انڈیا کا دورہ کیا، ان کے معاہدے پاکستان کیخلاف ہیں، ان معاہدوں میں سب سے زیادہ اہمیت مسئلہ کشمیر کو حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ انڈیا بلوچستان، پاکستان کے مختلف علاقوں میں جو کھیل کھیلنا چاہتا ہے، مشرقی پاکستان والا سانحہ دوہرانا چاہتا ہے اس میں رکاوٹ کشمیر ہے اور اس کیلئے انڈیا نے اسرائیل سے مدد طلب کی۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں نے اپنا حق ادا کر دیا، پاکستانی پرچموں میں شہداء کی لاشیں دفن کی جاتی ہیں، سب کو پتہ ہے کہ کشمیری پاکستان کا جھنڈا گولیوں کی بوچھاڑ میں اٹھا رہے ہیں؟۔ کشمیریوں نے اس تحریک کو یکسو کیا ہے، خودمختار کشمیر اور الگ الگ موقف ختم ہوگیا۔ حافظ سعید نے کہا کہ کشمیریوں نے پاکستان کیساتھ الحاق کر لیا ہے لیکن اسلام آباد کی حکومت نے اسے تسلیم نہیں کیا، میں وزیراعظم سے سوال کرنا چاہتا کہ 5 فروری کو رسمی طور پر تقریر کرکے اظہاریکجہتی تو کر لیں گے، کشمیری پاکستان کے جھنڈوں میں دفن ہو رہے ہیں اس کا کیا جواب دے رہے ہیں؟۔ پاکستان کی حکومت کیا کر رہی ہے، اگر اور کچھ نہیں کر سکتے تو وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اپنی کابینہ کو لے کر اقوام متحدہ کی عمارت کے باہر دھرنا دے کے بیٹھ جائیں۔ او آئی سی سے لوگوں کو ساتھ لیں۔ اس مسئلہ کو سمجھیں اور کشمیریوں کا مزید امتحان نہ لیں۔

انہوں نے کہا کہ نااہل وزیر اعظم کہتے تھے کہ کشمیر پر چار جنگیں لڑیں اب کیا کرنا، دوستی کرو، اور جب تعلقات شاندار ہو جائیں گے، ترقی کر لیں گے تو پھر کشمیر کا مسئلہ بھی حل کر لیں گے۔ میں سمجھتا ہوں کہ جتنا خون کشمیر میں بہا ہے، رب اس خون کی لاج رکھتا ہے، سابق وزیراعظم نواز شریف کو فوج یا عدلیہ نے نہیں بلکہ میرے رب نے نکالا ہے، بانی پاکستان نے کشمیر کو شہہ رگ کہا اس کے بعد سب حکومتوں کا یہی موقف تھا کہ جب تک کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہوتا بھارت سے تعلقات بہتر نہیں ہو سکتے۔ اس موقف کو کس نے بدلا، کشمیر کو پیچھے کرنیوالا کون ہے؟ اس کو بھی دیکھنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ ورلڈ کالمسٹ کلب کی ٹیم کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔2017 میں اعلان کیا تھا کہ اس سال کو کشمیر کے نام کرتے ہیں، تحریک چلائیں گے اور کشمیر کے مسئلہ پر ذہن سازی کریں گے، حکومت پر دباﺅ ڈالیں گے کہ اس مسئلہ پر حق ادا کرے، جونہی اعلان کیا تو مجھے فورا گرفتار کر لیا گیا، دس ماہ نظربندی میں رکھا گیا۔ ہم 2018 بھی کشمیر کے نام کرتے ہیں، ہم نے اعلان کر دیا ہے قوم کو اس پر کھڑا کریں گے، قلمکاروں سے گزارش کہ اس مسئلہ کو ترجیح دیں، سارا سال کام کرنا ہے اور قلمکاروں نے ہراول دستہ بننا ہے، جب میڈیا میں مجھے کوئی دہشتگرد پاکستانی صحافی کہے اور انڈیا کی زبان بولے تو ان کی اصلاح کی ضرورت ہے، انڈیا کا میڈیا، سیاست، کانگریس، بی جے پی کشمیر کے مسئلہ پر ایک ہیں لیکن ہم ایک کیوں نہیں، قوموں میں ایسے مسائل پر اختلاف نہیں ہونا چاہیے، سب ملکر پاکستان کو یکسو کریں جس طرح کشمیری یکسو ہو چکے ہیں، پاکستانی ہو گئے اسی دن ان شاءاللہ کشمیر آزاد ہو گا۔

چیف جسٹس (ر) میاں محبوب احمد نے کہا کہ حکومتوں نے کشمیر کے مسئلے کو کھٹائی میں ڈالا۔ آج کے اجتماع سے احساس ہوا ہے کہ ہم کشمیر کو نہیں بھولے۔ انہوں نے کہا کہ حافظ سعید نے کشمیر کے بارے میں ایک رویہ اختیار کئے رکھا ہے وہ مسلم امہ کے مفاد میں ہے۔ کروڑوں ،اربوں مسلمانوں میں سے امریکہ نے صرف حافظ سعید پر دس کروڑ ڈالر کا انعام رکھا۔ حافظ محمد سعید کی پالیسی سے انحراف یا دوری نہیں ہو سکتی۔اس سے امت مسلمہ کو نقصان ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک اتحاد قائم نہیں ہو گا ہم کامیاب نہیں ہو سکتے۔ ورلڈ کالمسٹ کلب کے سرپرست اعلیٰ ڈاکٹر محمد اجمل خان نیازی نے کہا کہ میں بیمار ہوں لیکن انڈیا کیلئے تیار ہوں۔ کشمیر کی بات ہو رہی ہے اور حافظ محمد سعید کا نام لیا جا رہا ہے، جب ایک آدمی جرات و عزیمت کا نشان بنتا ہے تو ہم اس کیساتھ ہیں۔ بھارت پاکستان سے نہیں ڈرتا حافظ محمد سعید سے ڈرتا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ کشمیر پاکستان ہے اس میں کوئی شک نہیں۔ بھارت میں آزادی کی تحریکیں ابھی چلیں گی، وہ وقت قریب ہے جب ہم سب اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے۔ ورلڈ کالمسٹ کلب کے مرکزی چیئرمین محمد دلاور چودھری نے کہا کہ کشمیر کا ذکر ہو اور حافظ سعیدکا نہ ہو تو یہ ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ساری دنیا ایک طرف ہوتی ہے اور امریکہ اسرائیل کے ساتھ ہوتا ہے، دنیا کی سفارتکاری کہاں جاتی ہے، سب سے پہلے اصل دشمن کو پہچانیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں روز پاکستانی پرچم میں لپٹی لاشیں دفنائی جا رہی ہیں۔ کشمیر بنے گا پاکستان نہیں بلکہ کشمیر پاکستان ہے۔ پاکستان کے جسم کا حصہ ہے۔ جب تک جسم کا حصہ نہیں سمجھیں گے بھارتی تسلط ختم نہیں کروا سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جو بھارت جا کر معاشقے کرتے ہیں اور وہاں جا کر بھارت کی زبان بولتے ہیں وہ کسی بھی سیاسی پارٹی سے ہوں ،پاکستان کے غدار ہیں۔ انڈیا کو کوئی نہیں چبھتا صرف اور صرف حافظ محمد سعید چبھتا ہے کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ کشمیر پاکستان ہے۔
خبر کا کوڈ : 701714
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب