0
Sunday 11 Feb 2018 21:18

ایم کیو ایم والے خود بتائیں کہ کون ہے جو انہیں لڑا رہا ہے، پیپلز پارٹی کا کوئی کردار نہیں، مولا بخش چانڈیو

ایم کیو ایم والے خود بتائیں کہ کون ہے جو انہیں لڑا رہا ہے، پیپلز پارٹی کا کوئی کردار نہیں، مولا بخش چانڈیو
اسلام ٹائمز۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنماء مولا بخش چانڈیو کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کے رہنماء ایک دوسرے کے راز فاش کرتے ہیں، پھر رات کو روتے ہیں، ان کا رونا ان کی غلطیوں کی نشاندہی کرتا ہے، ایم کیو ایم والے خود بتائیں کہ کون ہے جو انہیں لڑا رہا ہے۔ حیدرآباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولا بخش چانڈیو کا کہنا تھا کہ معلوم نہیں ڈاکٹر فاروق ستار کو کیا ہوگیا ہے، چھ چھ استعفے دیتے ہیں اور پھر واپس لے لیتے ہیں، فاروق ستار جس انداز سے بولتے ہیں، اس انداز سے سوچتے نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم میں ہونے والی توڑ پھوڑ میں پیپلز پارٹی کا کوئی کردار نہیں، ہم کسی بھی سیاسی صورتحال سے فائدہ نہیں اٹھانا چاہتے، ایم کیو ایم والے خود بتائیں کہ وہ کون ہے جو انہیں لڑا رہا ہے، فاروق ستار کو کنوینر شپ سے ہٹانا ایم کیو ایم کا اندرونی معاملہ ہے۔ رہنما پی پی پی نے کہا کہ کراچی اور حیدرآباد کے بنیادی مسائل کے ذمہ دار یہی ہیں، جو برسوں سے وہاں قابض رہے، آپ انسانوں کو بے سکون کرتے ہیں، تو آج خود بے سکون ہوگئے، ان کا حال آج سب دیکھ رہے ہیں، ایک دوسرے کے بخیے اکھیڑتے ہیں، راز فاش کرتے ہیں اور پھر رات کو روتے ہیں، جس طرح کراچی کے لوگوں نے ان پر اعتماد کیا وہ اس پر پورا نہیں اترے، وہ اردو بولنے والوں کو غلام سمجھ رہے ہیں، اب کراچی کے عوام کو بھی فیصلہ کرلینا چاہیے۔

سابق وزیراعظم نواز شریف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مولا بخش چانڈیو کا کہنا تھا کہ میاں صاحب اور (ن) لیگ عوام کے اعتماد پر پورا نہیں اترے، (ن) لیگ پنجاب کے مخصوص علاقوں اور جی ٹی روڈ کی جماعت ہے، دوسری طرف تکبر نے چوہدری نثار کی دم پر پاؤں رکھ دیا ہے، چوہدری نثار کی اصلیت سب پر ظاہر ہوگئی، (ن) لیگ کے سینئر رہنماؤں نے مریم نواز کی قیادت کو قبول کرلیا، تو چوہدری نثار کون ہوتے ہیں، جو مریم نواز کی قیادت کو قبول نہ کریں۔ مولا بخش چانڈیو نے چیئرمین تحریک انصاف کو بھی آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ عمران خان بادشاہ آدمی ہیں، انہوں نے اتنے ہنگامے کئے، جیسے 70 سال سے سیاست کر رہے ہیں، عمران خان نے بند گلی اور تنگ راستے میں جانا پسند کیا ہے، انہیں کہنا چاہتا ہوں کہ آپ تنگ نظری کا راستہ چھوڑ دیں۔
خبر کا کوڈ : 704017
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب