0
Saturday 24 Feb 2018 10:06

سینیٹ الیکشن، جماعت اسلامی نے تحریک انصاف کی حمایت کا اعلان کر دیا

سینیٹ الیکشن، جماعت اسلامی نے تحریک انصاف کی حمایت کا اعلان کر دیا
اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کی قیادت میں اعلٰی سطح کے وفد نے سینیٹ الیکشن میں سابق گورنر پنجاب اور پی ٹی آئی کے سینیئر رہنما چودھری محمد سرور کی حمایت حاصل کرنے کیلئےمنصورہ کا دورہ کیا۔ جہاں امیر جماعت اسلامی سراج الحق، سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ، فرید احمد پراچہ، محمد اصغر، سیکرٹری اطلاعات امیر العظیم سمیت دیگر رہنماؤں سے ملاقات کی۔ شاہ محمود قریشی نے سینیٹر سراج الحق سے ملاقات کو خوش آئند قرار دیدیا۔ ملاقات کے بعد دونوں جماعتوں کے رہنماؤں نے میڈیا سے بھی گفتگو کی۔ تحریک انصاف کے وفد میں سابق گورنر پنجاب چودھری محمد سرور، پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میاں محمود الرشید اور عبد العلیم خان شامل تھے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم نے سراج الحق سے تعاون کی درخواست کی ہے اور ہمیں خوشی ہے کہ انہوں نے ہمیں بڑا مثبت جواب دیا ہے، کے پی کے میں بھی ہم مل کر چل رہے ہیں، کرپشن کیخلاف ہمارا موقف ایک ہے اور ہمیں فخر ہے کہ سراج الحق سینیٹ میں موجود ہیں اور بڑی توانا آواز سے قومی مفادات کا تحفظ کر رہے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آج عدلیہ واقعتاً آزاد ہے اور اپنا آئینی و قانونی رول ادا کر رہی ہے، جو عدالت میں مقدمہ ہار جاتا ہے، وہ عدلیہ پر انگلیاں اٹھانا اور عدلیہ کی توہین کرنا شروع کر دیتا ہے، یہ رویہ درست نہیں۔

اس موقع پر سراج الحق نے کہا کہ الیکشن میں پیسے کے عمل دخل کو ختم کیے بغیر اچھی قیادت سامنے نہیں آ سکتی، الیکشن کمیشن اور متعلقہ اداروں کو الیکشن میں دولت کے استعمال کو روکنے کیلئے موثر حکمت عملی دکھانا ہوگی، باکردار اور باصلاحیت لوگ آئیں گے تو قوم کو کچھ دے سکیں گے۔ انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی کے ممبران اسمبلی الحمدللہ اپنے نظم کے پابند ہیں جس کا اعتراف ملک کی تمام سیاسی جماعتیں کرتی ہیں، ہم تعاون چاہتے بھی ہیں اور تعاون کرتے بھی ہیں۔ سینیٹر سراج الحق نے پنجاب میں بیوروکریٹ کو نیب کے پکڑنے پر ہڑتال کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جہاں پوری سیاست فرد واحد اور خاندان کے گرد گھوم رہی ہو، وہاں اس طرح کی مثالیں سامنے آنا کوئی اچنبھے کی بات نہیں، آج بیوروکریسی نے ہڑتال کی ہے کل پولیس اور پرسوں کوئی اور ادارہ ہڑتال کر دے گا، لیکن پنجاب حکومت کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ اس پر کابینہ کا اجلاس بلائے اور کرپشن روکنے کی بجائے کرپٹ لوگوں کیلئے ڈھال بن جائے۔ دہشتگردی کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں امیر جماعت نے کہاکہ حکومت کو بیرونی دباﺅ اور انڈیا کے خوف سے فیصلے کرنے کی بجائے قومی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلے کرنے چاہئیں۔
خبر کا کوڈ : 707090
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے