0
Wednesday 28 Feb 2018 16:48

ملتان، ہسپتالوں کی مجوزہ نجکاری کیخلاف گرینڈ ہیلتھ الائنس کے زیراہتمام احتجاجی مظاہرے

ملتان، ہسپتالوں کی مجوزہ نجکاری کیخلاف گرینڈ ہیلتھ الائنس کے زیراہتمام احتجاجی مظاہرے
اسلام ٹائمز۔ ہسپتالوں کی مجوزہ نجکاری کے خلاف ملتان سمیت جنوبی پنجاب کے مختلف شہروں میں گرینڈ ہیلتھ الائنس کے زیراہتمام احتجاجی مظاہرے کئے گئے اور ریلیاں نکالی گئیں۔ رہنمائوں نے خطاب میں کہا کہ محکمہ صحت ایک بہت بڑا ادارہ ہے جوکہ عوام کو ترجیی نبیادوں پر علاج کی مفت سہولیات فراہم کر رہا ہے، گورنمنٹ آف پنجاب محکمہ صحت کو چند کوڑیوں کے بھاؤ پرائیویٹ کمپینیوں کے حوالے کر رہی ہے جو کہ ایک سراسر غلط اقدام ہے، یہ گورنمنٹ ملازمین اور آنئندہ آنے والی نسلوں کا معاشی قتل ہے، گرینڈ ہیلتھ الائنس کا یہ متفقہ فیصلہ ہے کہ سرکاری وسائل کو اونے پونے داموں میں اور اپنے من پسند ٹھکییداروں، خریداروں اور نام نہاد کمپینیوں کو فراخت کرنے سے ہر صورت روکنا ہے۔ آپ سمجھتے ہیں کہ جس انداز سے محکمہ صحت میں لوٹ سیل کے زریعے کئی ہسپتالوں، لیبارٹریز اور بلڈ بنکس کو فروخت کیا گیا ہے، شعبہ ریڈیالوجی سمیت دیگر شعبے صفائی کا نظام، سیکورٹی کا نظام، ڈاک کی ترسیل کا نظام اور ادویات کی تقسیم کا نظام پرائیویٹ کمپینیوں کے ذمے لگا دیا گیا ہے، آپ سب جانتے ہیں کہ اس پرائیویٹ نظام کے تحت صفائی اور سیکورٹی کا نظام بد سے بدتر ہوتا چلا گیا ہے، رہنمائوں نے کہا کہ ہسپتالوں میں عوام ذلیل اور خوار ہو رہے ہیں، نئی ملازمتوں کو بلکل روک دیا گیا ہے اور روزانہ کی بنیاد پر ملازمین کو تعینات کیا جا رہا ہے، جس سے پریشانی اور اخلاقی مسائل جنم لے رہے ہیں، پہلے ہی بے روزگاری کی آڑ میں دہشت گری اور دیگر جرائم پروان چڑھ رہے ہیں، وہاں محکمہ صحت کو فروخت کرنا جس سے ملازمین، محکمہ صحت، عام عوام ہی نہیں بلکہ خود حکومت کے لیئے بھی لمحہ فکریہ ہے۔ محکمہ صحت کی نجکاری سے پرائیویٹ کمپینیاں مریضوں سے بھاری فیسیں وصول کر رہی ہیں، جس کی مثال پرائیویٹ کمپینی کو دئیے گے ملتان میں کڈنی سنٹر اور پنجاب کے چند دوسرے ہسپتال ہیں، جس کی وجہ سے مریضوں کی تعداد ان ہسپتالوں میں کم ہو گئی ہے۔ نجکاری کے ساتھ ساتھ کمپنیاں گورنمنٹ کے مستقل ملازمین کو سرپلس کر رہی ہے اور ان کا مستقبل تاریک کر رہی ہے۔
خبر کا کوڈ : 708129
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب