0
Wednesday 28 Feb 2018 19:33

سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس کی سماعت، حکومت کی جانب سے تاخیری حربوں پر عدالت کا اظہار برہمی

ہم یہاں صرف درخواستیں وصول کرنے کیلئے نہیں فیصلے کرنے کیلئے بیٹھے ہیں، فاضل جج کے ریمارکس
سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس کی سماعت، حکومت کی جانب سے تاخیری حربوں پر عدالت کا اظہار برہمی
اسلام ٹائمز۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن استغاثہ ’’جواد حامد بنام نواز شریف وغیرہ‘‘ کیس کی انسداد دہشتگرد کی خصوصی عدالت لاہور میں سماعت ہوئی، طلب کیے گئے پولیس ملزمان کے وکلاء کی غیر حاضری اور اے ٹی سی میں دی گئی اپنی ہی مختلف درخواستوں پر مسلسل تاخیری ہتھکنڈے استعمال کرنے پر انسداد دہشتگردی کی عدالت II کے جج نے سخت ناگواری کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ بات فریقین کے پیش نظر رہنی چاہیے کہ اس کیس کا ٹرائل ہونا ہے ٹرائل کے بعد ہی فیصلہ ہوگا کہ کون ذمہ دار ہے، کون نہیں ہے۔ پراسیس سے کوئی نہیں بچ سکتا اور نہ ہی تاخیری حربوں سے کسی کو کوئی فائدہ پہنچے گا۔ انہوں نے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کیا اس کی کہیں مثال ملتی ہے کہ ایک کیس میں ڈیڑھ سال تک فرد جرم عائد نہ ہو سکے؟ ہم یہاں صرف درخواستیں وصول کرنے کیلئے نہیں فیصلے کرنے کیلئے بیٹھے ہیں۔ پیچھے کیا ہوا اس کے حوالے دینے کی بجائے آگے دیکھا جائے، قانون اور شہادتوں کی بنیاد پر کیس کو آگے بڑھنا ہے۔ اے ٹی سی جج نے ڈی آئی جی رانا عبدالجبار کی مسلسل حاضری سے استثنیٰ کی درخواستوں پر بھی برہمی کا اظہار کیا، شہدائے ماڈل ٹاؤن کے ورثاء کی طرف سے مستغیث جواد حامد، رائے بشیر احمد ایڈووکیٹ، نعیم الدین چودھری ایڈووکیٹ، سردار غضنفر حسین ایڈووکیٹ، شکیل ممکا ایڈووکیٹ، یاسر ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔

رائے بشیر احمد ایڈووکیٹ نے بحث کرتے ہوئے کہا کہ ملزمان کے وکلاء کا استغاثہ کی طرف سے دستاویزات فراہم نہ کرنے کا عذر تاخیری ہتھکنڈوں کے سوا کچھ نہیں، ہم جملہ دستاویزی آڈیو، ویڈیو ریکارڈ فراہم کر چکے ہیں اور ملزمان کی طرف سے وصولی بھی ریکارڈ پر ہے، جس دن بحث ہوتی ہے ملزمان کے وکلاء یا تو بیمار ہو جاتے ہیں یا کوئی عذر پیش کرکے لمبی تاریخ کا مطالبہ کرتے ہیں۔ دفاع میں کہنے کیلئے کچھ نہ ہو تو پھر عذر پیش کیے جاتے ہیں۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن استغاثہ کیس پر مزید سماعت 8 مارچ کو ہوگی۔ بعدازاں انسداد دہشتگردی عدالت کے احاطہ کے باہر اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے مستغیث جواد حامد، نعیم الدین چودھری ایڈووکیٹ نے کہا کہ اللہ کے بعد انصاف کیلئے ہماری امیدوں کا مرکز عدالت ہے، ہم انصاف کیلئے عدالت سے بھرپور تعاون کررہے ہیں، جبکہ پولیس کے بااثر ملزم افسر عدالت سے تعاون نہیں کررہے جس کا آج اے ٹی سی جج نے نوٹس لیا ہے۔ ملزمان کے وکلاء آج بھی کچھ درخواستوں پر بحث کرنے کی بجائے لمبی تاریخ لینا چاہتے تھے مگر آج معزز جج نے انہیں کوئی مہلت نہیں دی اور بحث کروائی۔ انہوں نے کہا کہ یہ بے گناہ انسانی خون کا معاملہ ہے ہماری معزز جج سے استدعا ہے کہ کیس کا سپیڈی ٹرائل ہونا چاہیے، پہلے ہی بہت تاخیر ہو چکی۔

نعیم الدین چودھری ایڈووکیٹ نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ماسٹر مائنڈ نواز شریف اور شہباز شریف ہیں اور یہ دونوں بھائی عدالتی فیصلوں کا مذاق اڑانے، عدالتوں پر حملے کرنے، آوازے کسنے کو ہی سیاست اور جمہوریت سمجھتے ہیں اور یہی رویہ ان کی ماتحتی میں رہنے والے پولیس ملزمان بھی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ جواد حامد نے کہا کہ اللہ کی لاٹھی بڑی بے آواز ہے جب وہ حرکت میں آتی ہے تو بڑے بڑے فرعون آن واحد میں غرق ہو جاتے ہیں۔ اشرافیہ بھی اپنے انجام کی طرف تیزی کے ساتھ رواں دواں ہے، سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس کا فیصلہ ان کی ذلت، رسوائی اور عبرتناک انجام پر منتہج ہو گا۔
خبر کا کوڈ : 708172
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے