0
Saturday 24 Mar 2018 01:56

عدالتی فیصلوں کی بجائے ججز بولیں گے تو تنقید بھی سہنی پڑیگی، فضل الرحمٰن

عدالتی فیصلوں کی بجائے ججز بولیں گے تو تنقید بھی سہنی پڑیگی، فضل الرحمٰن
اسلام ٹائمز۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ عدالتی فیصلوں کی بجائے جج صاحبان بولیں گے تو انہیں سیاسی لوگوں کی تنقید بھی سہنی پڑے گی۔ نوابشاہ میں باب الاسلام کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ پاکستان قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے، جو بھی حکومت میں آتا ہے قرضے لیتا ہے، پیپلز پارٹی کی حکومت ہو یا مسلم لیگ نون کی دونوں قرضے لیتی ہیں، پھر ایک دوسرے پر الزامات لگاتے ہیں کہ تم نے اتنا قرض لیا، ان لوگوں سے نا مرکز، نا صوبوں اور نا ہی بلدیاتی حکومتیں چل رہی ہیں۔ سربراہ جے یو آئی (ف) کا کہنا تھا کہ 70 سالوں سے ہماری معیشت دباؤ میں ہے لیکن اگر ایران اور ترکی بحران سے نکل سکتے ہیں تو پاکستان کیوں نہیں نکل سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان کو ان بحرانوں سے کوئی نکال سکتا ہے تو وہ مذہبی جماعتیں ہیں، کہتے ہیں مولوی صاحب کیسے سیاست کر سکتے ہیں، میں ان سے کہنا چاہتا ہوں کہ ہم ملک کو تم سے بہتر چلا سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ روٹی، کپڑا اور مکان کا اعلان کیا گیا لیکن بچوں سے نوالہ تک چھین لیا گیا، متحدہ مجلس عمل وڈیروں سے عوام کو نجات دلائے گی اور اب غریب اس ملک پر راج کریں گے۔ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے عدالتوں کے فیصلے بولتے ہیں ججز نہیں، فیصلوں کے بجائے جج صاحبان بولیں گے تو انہیں سیاسی لوگوں کی تنقید بھی سہنی پڑے گی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سیاست کو سیاست دانوں اور قوم کے حوالے کردیا جائے۔

سربراہ ایم ایم اے کا کہنا تھا کہ جے یو آئی نے کسی نوجوان کو اسلحہ اٹھانے کی اجازت نہیں دی، اگر ہم ریاست کا ساتھ نہ دیتے تو دہشت گردی کو شکست نہ ہوتی۔ مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ آج کل حکومت کے لوگ ہمارے پاس آکر مذاکرات کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مدارس کو قومی دھارے میں لا رہے ہیں لیکن ہم ان سے کہتے ہیں آپ اسلامی دھارے میں آجائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام دینی قوتیں ایک محاذ پر ہیں اور ہم نے پاکستان کی آزادی کی جنگ لڑنی ہے، پاکستان کے غریب، کسان اور ہاری کی جنگ لڑنی ہے۔ سربراہ جے یو آئی (ف) نے کہا کہ انسانیت کو دور جہالت کی طرف لے جایا جا رہا ہے اور جب ہم حیا اور عزت کی بات کرتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ یہ نئے دور کے تقاضوں سے نا واقف لوگ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ این جی اوز کے ذریعے لابنگ کی جارہی ہے اور بین الاقوامی طور پر سازشیں ہو رہی ہیں، عالمی قوتوں کا ایجنڈا ہے کہ اہل دین کو اقتدار تک پہنچنے نا دیا جائے اور اس مقصد کے لئے علماء کی کردار کشی کی جا رہی ہے۔
خبر کا کوڈ : 713494
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے