0
Saturday 24 Mar 2018 20:33

ملک میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرح کا ٹھیکیداری نظام نہیں چلنے دیں گے، جسٹس ثاقب نثار

ملک میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرح کا ٹھیکیداری نظام نہیں چلنے دیں گے، جسٹس ثاقب نثار
اسلام ٹائمز۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ ملک کو ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرح ٹھیکیداروں کے سپرد نہ کیا جائے، ہم یہاں ٹھیکیداری نظام نہیں چلنے دیں گے اور کسی کو بندربانٹ کی بھی اجازت نہیں دی جائے گی۔ سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں اسٹریٹجک مینجمنٹ اینڈ انٹرنل رسپونس یونٹ میں ریٹائرڈ افسروں کی بھاری مراعات پر بھرتیوں کے خلاف کیس کی سماعت کی۔ اس دوران چیف جسٹس نے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور دیگر افسران کی بھاری مراعات اور تنخواہوں کی تفصیلات طلب کی، ساتھ ہی ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری میں نجی سیکٹر سے رکھے گئے افسر کو دی جانے والی مراعات کی بھی تفصیلات پیش کرنے کا حکم دیا۔ اس موقع پر عدالت نے چیف سیکریٹری پنجاب سے 56 کمپنیوں کے افسران کو دی جانے والی تنخواہوں اور مراعات کی تفصیلات بھی طلب کی۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ صوبے کا سب سے بڑا افسر چیف سیکریٹری 2 لاکھ روپے تنخواہ لے رہا جبکہ ریٹائرڈ افسران کس قانون کے تحت ہائی کورٹ کے جج سے زیادہ تنخواہ لے رہے ہیں۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے چیف سیکریٹری سے استفسار کیا کہ صوبائی حکومت نے کتنی کپنیاں بنائیں، جس پر چیف سیکریٹری نے بتایا کہ پنجاب حکومت نے 50 سے زائد کمپنیاں تشکیل دی ہیں۔

چیف سیکریٹری کے جواب پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے سب کچھ نجی سیکٹر کے حوالے کردیا، اگر کام نہیں کرسکتے تو آپ حکومت چھوڑدیں ہم عوام کے ٹیکس کا پیسہ ضائع نہیں ہونے دیں گے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ملک میں ٹھیکیداری نظام نہیں چلنے دیں گے اور کسی کو بندربانٹ کی اجازت نہیں دی جائے گی۔  جسٹس ثاقب نثار نے کا کہنا تھا کہ صوبے نے 56 کمپنیاں بنا لیں لیکن اپنے اختیارات کمپنیوں کے حوالے کردیے اور کمپنیوں میں اربوں روپے دے کر لوگوں کو نوازا گیا۔ بعد ازاں دوران سماعت عدالت نے ترکی کی طیب اردگان ٹرسٹ کے تحت چلائے جانے والے ہسپتالوں کی بھی تفصیلات طلب کرلیں۔ اس دوران چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کو 2 لاکھ جبکہ اسٹیٹ آف دی آرٹ ہسپتالوں میں 12 لاکھ روپے تنخواہ کس قانون کے تحت دی جارہی ہے؟ جس پر چیف سیکریٹری نے بتایا کہ سرکاری ہسپتالوں کے ڈاکٹر پرائیویٹ پریکٹس کرتے ہیں۔ چیف سیکریٹری کے جواب پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے سرکاری ہسپتالوں کے ڈاکٹروں کو بھاری تنخواہیں دیں، ہم ابھی حکم نامہ جاری کرتے ہیں اور ڈاکٹروں کی پرائیویٹ پریکٹس پر پابندی لگا دہتے ہیں، پھر ہم ڈاکٹروں کو پابند بنائیں گے کہ وہ مکمل ڈیوٹی دیں اور نظام کو کمپیوٹرائزڈ بنا کر ان کی حاضری کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔

دوران سماعت چیف سیکریٹری نے بتایا کہ جگر کا ٹرانسپلانٹ ہسپتال اسٹیٹ آف دی آرٹ ہے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ کا تو ہر منصوبہ ہی اسٹیٹ آف دی آرٹ ہے۔ چیف سیکریٹری نے عدالت کو بتایا کہ پاکستان کڈنی لیور انسٹیٹٰیوٹ ( پی کے ایل آئی) میں بیرون ملک خدمات انجام دینے والے ڈاکٹروں کو نوکریاں دی گئی ہیں، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جن کو آپ نے رکھا ہے، انہوں نے بیرون ملک خدمات سر انجام دی ہیں، جو ملک کے لیے خدمات سر انجام دے رہے ہیں انہیں یہ صلہ دیا جارہا ہے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ صوبے کا چیف سیکریٹری 2 لاکھ تنخواہ لے اور جن کو آپ نے رکھا ہے وہ 12 لاکھ کس حیثیت سے لے رہے ہیں، ہسپتالوں میں بھرتیوں کے لیے دوہری پالیسی کیوں اختیار کی گئی۔ جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ ان ڈاکٹرون کا کیا قصور ہے جو محنت اور دیانت سے سرکاری ہسپتالوں میں اپنے فرائض سرانجام دیتے ہیں، کیوں نہ لیور ٹرانسپلاٹ ہسپتال کے سربراہ ڈاکٹر سعید کو عدالت میں طلب کر لیا جائے۔
خبر کا کوڈ : 713635
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے