0
Monday 9 Apr 2018 18:09

مسلم لیگ (ن) کے 8 ارکان اسمبلی کا پارٹی چھوڑ کر جنوبی پنجاب صوبہ محاذ بنانیکا اعلان

مسلم لیگ (ن) کے 8 ارکان اسمبلی کا پارٹی چھوڑ کر جنوبی پنجاب صوبہ محاذ بنانیکا اعلان
اسلام ٹائمز۔ حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کی مشکلات ختم ہونے کے بجائے مزید بڑھتی جا رہی ہیں، بلوچستان کے بعد جنوبی پنجاب بھی حکمران جماعت کے ہاتھوں سے نکل گیا، لاہور میں جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے مسلم لیگ نون کے منحرف اراکین اسمبلی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے پارٹی چھوڑ کر جنوبی پنجاب صوبہ محاذ بنانے کا اعلان کر دیا۔ منحرف ارکان میں سابق وفاقی وزیر مخدوم خسرو بختیار، عالم ڈار لالیکا، سابق صوبائی وزیر مخدوم باسط سلطان بخاری، سید اصغر علی شاہ اور رانا قاسم نون شامل ہیں۔ سابق وزیر مخدوم خسرو بختیار نے کہا کہ نون لیگ اور پارلیمنٹ کی نشستوں سے مستعفی ہونے اور جنوبی پنجاب صوبہ محاذ بنانے کا فیصلہ کیا ہے، میر بلخ شیر مزاری اس محاذ کے سرپرست ہوں گے، ہم ایک ہی سیاسی نظریاتی ایجنڈے پر اکٹھے ہیں، ہمارا مقصد نئے صوبے جنوبی پنجاب کا قیام ہے، ہمیں 10 سے زائد ارکان پنجاب اسمبلی اور 5 سے زائد ارکان قومی اسمبلی کی حمایت حاصل ہے۔ رانا قاسم نون نے کہا کہ ہماری حمایت کے بغیر کوئی الیکشن نہیں جیت سکے گا، جب محرومیاں بڑھ جاتی ہیں تو مایوسی میں اضافہ ہوتا ہے، یہ حساس مسئلہ ہے، نیا صوبہ بننے سے وفاق مضبوط ہوگا۔

دیگر ذرائع کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے 5 ارکان قومی اسمبلی اور 2 ارکان صوبائی اسمبلی نے عام انتخابات سے قبل پارٹی سے انحراف کرتے ہوئے قومی اسمبلی کی نشست سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا اور جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کا مطالبہ کر دیا۔ لاہور میں مسلم لیگ (ن) کے منحرف رکن خسرو بختیار کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران ان تمام ارکان نے اپنی نشستوں سے استعفٰی دیتے ہوئے "جنوبی پنجاب صوبہ محاذ" بنانے کا بھی اعلان کیا۔ جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کی قیادت میر بلخ شیر مزاری کریں گے جبکہ ان کے علاوہ دیگر منحرف ارکان اس کا حصہ ہوں گے۔ مستعفی ہونے والے ارکان قومی اسمبلی میں خسرو بختیار، طاہر اقبال چوہدری، طاہر بشیر چیمہ، رانا قاسم نون، باسط بخاری جبکہ صوبائی اسمبلی سے سمیرا خان اور نصراللہ دریشک شامل ہیں۔ اس موقع پر صحافیوں سے بات چیت میں خسرو بختیار کا کہنا تھا کہ آنے والے چند دنوں میں مزید ارکان اسمبلی اس کارواں میں شامل ہوں گے اور کئی ارکان پنجاب اسمبلی کے باہر کھڑے ہوکر استعفٰی دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں لوڈشیڈنگ، صاف پانی اور سڑکوں کا مسئلہ ہے لیکن ہم اورنج ٹرین پر نئے ایئر کنڈیشنز لگا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 1973ء کا آئین ہر شخص کو مساوی حقوق دیتا ہے، لیکن یہاں عوام بنیادی سہولت تک میسر نہیں ہے۔

جنوبی پنجاب کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں غربت 27 فیصد جبکہ جنوبی پنجاب میں 51 فیصد ہے جبکہ اسی جگہ سے مختلف وزیراعظم اور وزراء آتے رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارت اور ایران میں صوبوں کی تعداد بڑھ رہی، لیکن پاکستان میں ایسا نہیں ہو رہا، لہٰذا ہم اعلان کرتے ہیں کہ ہمارا ایک ہی سیاسی نکتہ ہے اور وہ نئے صوبے کا قیام ہے۔
ان کا کہنا تھا یہاں اکٹھے ہونے کا مقصد وفاق کی مضبوطی ہے اور یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک جگہ پر ہی تمام دباؤ ڈال دیا جائے اور ہمارے محاذ میں کوئی لسانی تعصب نہیں ہوگا۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ہمارے اقتدار میں رہنے کے باجود مسائل وہی کے وہی ہیں اور اگر ہم نے اب بھی توجہ نہیں دی تو ہمارے چھوٹے چھوٹے اضلاع ختم ہو جائیں گے۔
انہوں نے کہا جو ہمارے اس ایک نکاتی ایجنڈے پر عمل کرے گا، ہم اس سے مذاکرات کے لئے تیار ہیں اور اس کے لئے آئندہ عام انتخابات کے بعد پہلے اجلاس میں قومی اسمبلی میں قرارداد پیش کی جانی چاہیے۔ اس موقع پر دیگر منحرف ارکان نے کہا کہ جنوبی پنجاب کی پسماندگی کو دور کرنے کے لئے اسے علیحدہ صوبہ بنانا چاہیے، تاکہ وہاں ترقی اور خوشحالی کا نیا سفر شروع ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ ایک وقت آئے گا کہ کوئی بھی سیاسی جماعت ہو، وہ جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے بغیر انتخابات میں کامیابی حاصل نہیں کرسکے گی۔

پریس کانفرنس کے دوران ضلع مظفر گڑھ سے منتخب ایم این اے باسط بخاری کا کہنا تھا کہ جنوبی پنجاب کی پسماندگی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں اور میں نے 4 اسمبلیوں کو دیکھا، لیکن ہمارے ساتھ برابری کی بات نہیں ہوتی۔ ان کا کہنا تھا کہ وقت آگیا ہے کہ ہمیں ہمارا حق اور اپنا صوبہ دیا جائے، اس کے لئے کوئی بھی جدوجہد کرنا پڑی ہم کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کا وقت آگیا ہے اور آج ہم پاکستان کے استحکام کی بنیاد رکھنے کا آغاز کر رہے ہیں اور امید ہے کہ اس میں ہمیں کامیابی ملے گی۔ خیال رہے کہ خسرو بختیار پریس کانفرنس کے دوران بہاولنگر سے منتخب رکن قومی اسمبلی سید محمد اصغر کے استعفے کا بھی اعلان کیا تھا، بعد ازاں سید محمد اصغر نے اپنے استعفے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ میں مسلم لیگی ہوں اور مسلم لیگ میں رہوں گا، تاہم صوبے کے لئے قائم محاذ کی حمایت کرتا ہوں۔
خبر کا کوڈ : 716772
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب