0
Tuesday 10 Apr 2018 14:50

مسئلہ کشمیر ’’آزادی‘‘ کا معاملہ ہے، شہلا رشید

مسئلہ کشمیر ’’آزادی‘‘ کا معاملہ ہے، شہلا رشید
اسلام ٹائمز۔ بی جے پی اور پی ڈی پی پر کشمیر میں ہلاکتیں کروانے کا الزام لگاتے ہوئے جواہر لال نہرو یونیورسٹی نئی دہلی میں طلبہ یونین کی سابق نائب صدر شہلا رشید شورا نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر انسانی حقوق اور دہشت گردی کا مسئلہ نہیں بلکہ ’’آزادی‘‘ اور سیاسی مسئلے کے حل کا معاملہ ہے۔ سرینگر کے ایک مقامی ہوٹل میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شہلا رشید شورا نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر انسانی حقوق اور دہشت گردی کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ آزادی اور سیاسی مسئلہ کو حل کرنے کی مانگ کا مسئلہ ہے، جو لوگوں کو دینی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ میں 1947ء کی قراردادیں موجود نہیں ہوتیں تب بھی حکومت کو لوگوں کی بات مانی چاہئے اور لوگ جو مانگ رہے ہیں، انہیں دینا چاہئے، چاہئے وہ مانگ آزادی ہی کی کیوں نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور پی ڈی پی حکومت 2019ء کے انتخابات میں فائدہ اٹھائیں کے لئے جموں و کشمیر اور دیگر جگہوں پر ہلاکتیں کروا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارت نواز مین سٹریم جماعتیں ہی نوجوانوں کو بندوق اٹھانے پر مجبور کررہی ہیں۔ شہلا رشید شورا نے کہا کہ ریاست جموں و کشمیر کو مذہب کے نام پر تقسیم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور اس لئے جموں میں آٹھ سالہ بچی عاصفہ کے قتل میں ملوث افراد کو ریلیوں کی اجازت دی جاتی ہیں جبکہ ہمیں پریس کانفرنس کرنے کے لئے بھی اجازت نہیں دی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پریس کانفرنس سے قبل ہم سے یہ تحریری طور پر لکھ کر دینے کے لئے کہا گیا کہ وہ صرف سماجی مسائل پر بات کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بتایا گیا کہ آپ صرف سماجی مسائل پر بات کرسکتے ہیں سیاسی مسئلے پر کوئی بات نہ کریں ورنہ آپ کے خلاف کیس درج ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں میں عاصفہ کے قتل میں لوگوں کو بچانے کے لئے کی جانے والی ریلیوں کو اجازت دی جا رہی ہے تاکہ جموں و کشمیر کی کشمیر کو مذہب کے نام پر تقسیم کیا جائے مگر ہم مظاہرہ کرتے وقت مذہب یا ذات کو مدنظر نہیں رکھتے۔

نوجوانوں کے مسائل پر بات کرتے ہوئے شہلا رشید نے کہا کہ جموں و کشمیر میں حکومت پہلے خراب پالیسی تیار کرتی ہے اور بعد میں دو سال تک نوجوان اس پالیسی کو لیکر احتجاج کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پھر برسر اقتدار پارٹیاں نوجوانوں کے ساتھ وعدے کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس طریقے سے کالجوں اور سکولوں میں طلباء و طالبات کو پیلٹ اور ٹیر گیس شل کا نشانہ بنایا جا رہا ہے وہ قابل مذمت ہے اور ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کہتی ہے کہ نوجوانوں کو تشدد کا راستہ ترک کرنا چاہئے تو حکومت کو بھی لوگوں کے خلاف تشدد بند کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے پاس 2019ء کے انتخابات کے لئے کوئی بھی ایجنڈا نہیں ہے، اس لئے وہ کشمیر کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرنا چاہتی ہے کیونکہ ایجنڈا لوگوں کو ہر جگہ مارنے سے پیدا ہوگا۔
خبر کا کوڈ : 716924
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب