0
Saturday 21 Apr 2018 22:38

نگران سیٹ اپ سے قبل فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کیا جائے، میاں افتخار حسین

نگران سیٹ اپ سے قبل فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کیا جائے، میاں افتخار حسین
اسلام ٹائمز۔ عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے وفاقی حکومت پر زور دیا ہے کہ حکومت کی معیاد ختم ہونے اور نگران سیٹ اپ سے قبل فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کیا جائے، موجودہ دور میں پختونوں کو کئی چیلنجز درپیش ہیں، صوبوں کو کمزور کرنے کی پالیسی ملک کے مفاد میں نہیں ہوگی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے باچا خان مرکز میں مومند ایجنسی سے تعلق رکھنے والی پیپلز پارٹی کی سرکردہ شخصیات ملک ولی محمد جان، ملک محمد امین اور صوبیدار رحم شیر کی اے این پی میں شمولیت کے موقع پر بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ مہمند ایجنسی کے صدر نثار خان بھی اس موقع پر موجود تھے، میاں افتخار حسین نے پارٹی میں شامل ہونے والوں کو سرخ ٹوپیاں پہنائیں اور انہیں باچا خان اور ولی خان بابا کے قافلے میں شامل ہونے پر مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا کا مسئلہ حل طلب ہے اور طویل عرصہ سے حکومت کی جانب سے اسے حل نہیں کیا جا رہا، انہوں نے کہا کہ فاٹا کو آئندہ الیکشن سے قبل صوبے میں ضم کرکے صوبائی اسمبلی میں نمائندگی دی جائے اور آئین میں ترمیم کر کے صوبائی کابینہ میں فاٹا کا حصہ مختص کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا دہشت گردی سے متاثر ہوا ہے لہٰذا اس کی ترقی کیلئے مالی پیکج کو بھی یقینی بنایا جائے، فاٹا کے بیشتر علاقوں میں بچھی مائینز سے کئی قیمتی جانیں ضائع ہوچکی ہیں لہٰذا مزید جانی نقصان روکنے کیلئے ان مائینز کو صاف کرنے کے عمل کو تیز کیا جائے اور دہشت گردی و بارودی سرنگوں کے نتیجے میں شہید ہونے والوں کے ورثا کو شہداء پیکج دینے کے فیصلے پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ تمام آئی ڈی پیز کی جلد اور باعزت واپسی کا انتظام کیا جائے، ان کے تباہ شدہ گھر سکول، ہسپتال سمیت تمام انفراسٹرکچر تعمیر کیا جائے۔

میاں افتخار حسین نے کہا کہ آپریشن کے دوران بےگھر ہونے والے قبائلیوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا ازالہ اور ان ان کے نقصانات کا تخمینہ لگا کر انہیں مالی امداد دی جائے، انہوں نے کہا کہ مغربی اکنامک کوریڈور میں پختونوں کو حصہ نہیں دیا جا رہا، سی پیک پختونوں کیلئے معاشی انقلاب ہے لیکن حکومت نے پختونوں کے حقوق غصب کرنے کی پالیسی ترک نہ کی اور مغربی اکنامک کوریڈور ہمیں نہیں دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم چین کی سرمایہ کاری کے خلاف نہیں ہیں البتہ پختونوں کے حقوق پر سودے بازی نہیں برداشت کریں گے، میاں افتخار حسین نے کہا کہ کارخانے لگنے سے یہاں بے روزگار کا مسئلہ ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جا سکتا تھا لیکن مرکزی حکومت کی غلط پالیسیوں کے باعث یہ نقصان اٹھانا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ مغربی اکنامک کوریڈور میں فاٹا کو بھی شامل کیا جائے اور ایکسپریس وے کے ذریعے تمام قبائلی علاقوں کو اس میں رسائی دی جائے۔ اٹھارویں ترمیم کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ ترمیم ایک انقلاب تھا جس کا سہرا اے این پی کے سر ہے اور 18ویں ترمیم کی بدولت ملک مضبوط ہوا، انہوں نے کہا کہ جو اٹھارویں ترمیم ختم کرنا چاہتے ہیں وہ دراصل این ایف سی ایوارڈ میں وفاق کا حصہ کم ہونے پر پریشان ہیں لیکن یاد رہے ملک تب ہی مضبوط ہو گا جب صوبے مضبوط ہوں۔
خبر کا کوڈ : 719596
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب