0
Tuesday 24 Apr 2018 11:09

وزیراعلٰی بلوچستان کس قانون کے تحت کھلی کچہریوں میں نقد رقم بانٹ رہے ہیں، بلوچستان ہائیکورٹ

وزیراعلٰی بلوچستان کس قانون کے تحت کھلی کچہریوں میں نقد رقم بانٹ رہے ہیں، بلوچستان ہائیکورٹ
اسلام ٹائمز۔ بلوچستان ہائیکورٹ کے جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس محمد کامران ملاخیل پر مشتمل ڈویژنل بنچ نے پی ایس ڈی پی سے متعلق دائر آئینی درخواست کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے ہیں کہ وزیراعلٰی بلوچستان کس قانون کے تحت کھلی کچہری میں نقد رقوم بانٹ رہے ہیں۔ سپریم کورٹ نے مختلف فیصلوں میں ایس ڈی آئی فنڈز کو پرکھنے کا طریقہ وضع کیا ہے۔ بتایا جائے کہ کیا سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی نہیں جا رہی۔؟ گذشتہ روز سماعت کے دوران ایڈیشنل چیف سیکرٹری نصیب اللہ بازئی، ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان رؤف عطاء، نصیب اللہ ترین ایڈووکیٹ اور دیگر حکام عدالت کے روبرو پیش ہوئے تو ایڈیشنل چیف سیکرٹری نصیب اللہ بازئی نے عدالت میں جواب داخل کیا، جس پر بینچ نے عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ جسٹس جمال مندوخیل نے ایڈیشنل چیف سیکرٹری سے استفسار کیا کہ کیا آپ کابینہ کے کسی بھی فیصلے کے ذمہ داری لیتے ہیں۔؟ انہیں بتایا جائے کہ وزیراعلٰی بلوچستان کس قانون کے تحت کھلی کچہری میں پیسے بانٹ رہے ہیں۔ کیا ہم وزیراعلٰی کو بلا لیں۔؟ بعدازاں وزیراعلٰی کے پرنسپل سیکرٹری اور سیکرٹری خزانہ کو طلب کرتے ہوئے سماعت کچھ دیر کیلئے ملتوی کر دی۔ دوبارہ سماعت شروع ہوئی تو ایڈیشنل سیکرٹری فنانس اور سابق صوبائی وزیر ترقیات ومنصوبہ بندی ڈاکٹر حامد خان اچکزئی عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔ اس موقع پر جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ ایس ڈی آئی کے تحت کتنی رقم جاری کی گئی ہے۔ ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان بتائیں کہ کیا یہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی نہیں۔

انہوں نے استفسار کیا کہ بتایا جائے کہ وزیراعلٰی بلوچستان نے کس قانون کے تحت اخبارات پر لاگو سیلز ٹیکس ختم کیا ہے۔جسٹس جمال مندوخیل نے سابق صوبائی وزیر ڈاکٹر حامد اچکزئی کو مخاطب کرتے ہوئے استفسار کیا کہ ان کے حلقے میں کتنے کلی حبیب زئی ہے، جس پر حامد اچکزئی نے بتایا کہ ان کے حلقے میں ایک ہی کلی حبیب زئی ہے، جوکہ گلستان تحصیل میں واقع ہے، تو جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ایک ہی کلی حبیب زئی کیلئے اسکیمات کا ڈھیر لگا دیا گیا ہے۔؟ ہم آنکھیں بند کرکے کہہ سکتے ہیں کہ آدھی اسکیمات تو باغات کیلئے ہیں۔ پی ایس ڈی پی میں کچلاک کے ایک شخص کی ذاتی سولر اسکیم کے لئے 10 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ کیا یہ پلانگ کمیشن اور سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی نہیں۔؟ حامد خان اچکزئی نے کہا کہ یہ متعلقہ ایم پی اے کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ تمام وزراء اور دیگر کے اسکیمات اور فنڈز سے متعلق رپورٹ حکومت کے پاس موجود ہیں۔ اسے طلب کرکے دیکھا جائے، جس پر عدالت نے اس سلسلے میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی اور استفسار کیا کہ کیا انفرادی نوعیت کے اسکیمات، بلاک ایلوکیشن، ایس ڈی آئی فنڈز کے حوالے سے سپریم کورٹ کی راجہ پرویز اشرف، پلاننگ کمیشن آف پاکستان، عبدالرحیم زیارتوال کے کیسز میں دی جانے والی احکامات کی خلاف ورزی نہیں۔؟ اس پر ایڈیشنل چیف سیکرٹری نصیب اللہ بازئی نے کہا کہ وہ اسلام آباد میں ایک میٹنگ میں شرکت کیلئے جارہے ہیں۔ وہاں سے واپسی پر وہ کورٹ کو اس سلسلے میں آگاہ کریں گے۔ عدالت نے ہدایت کی کہ تب تک ایس ڈی آئی فنڈز کی مد میں رقوم جاری نہ کئے جائیں۔
خبر کا کوڈ : 720124
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش