0
Thursday 10 May 2018 12:18

خیبر پختونخوا بھر میں عوامی شکایات پر فوڈ اتھارٹی کی کارروائیاں، 8 فیکٹریاں سیل

خیبر پختونخوا بھر میں عوامی شکایات پر فوڈ اتھارٹی کی کارروائیاں، 8 فیکٹریاں سیل
اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا فوڈ اتھارٹی نے عوامی شکایات پر کارروائی عمل میں لاتے ہوئے صوبہ بھر میں مختلف کارروائیوں کے دوران 8 فیکٹریاں سیل کر دیں، جبکہ چیکنگ کے دوران 8 لاکھ کے جرمانے عائد کئے۔ ڈپٹی ڈائریکٹر آپریشن شبانہ کی سربراہی میں فوڈ سیفٹی افسران نے حیات آباد انڈسٹریل سٹیٹ میں جعلی مشروبات کی فیکٹری کا کھوج لگا کر چھاپہ مارا۔ فیکٹری میں پہنچنے پر فوڈ سیفٹی افسران نے چیکنگ شروع کی تو معلوم ہوا کہ کسی بھی جوس یا انرجی ڈرنک میں کسی قسم کے پھل یا ان کا رس شامل نہیں اور محض کیمیکلز سے زہریلا جوس تیار کیا جاتا ہے، یہی نہیں بلکہ ایکسپائر جوس پر دوبارہ نئی تاریخ کے لیبل لگانے کے علاوہ دیگر کمپنیوں کے برانڈ بنائے جاتے تھے اور کمپنی کی نہ رجسٹریشن تھی اور نہ ہی لائسنس۔

فیکٹری کو سیل کر کے ہزاروں لیٹر جوس قبضے میں لے کر ضائع کیا گیا، جبکہ کمپنی مالکان کے خلاف مس برانڈنگ، مس لیبلنگ اور غیر رجسٹرڈ کاروبار کے پرچے درج کئے گئے۔ دوسری جانب سوات میں منرل واٹر اور نمک بنانے والی فیکٹریوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے فوڈ سیفٹی افسران نے دو نمک کے کارخانے اور ایک منرل واٹر کمپنی کو تالے لگا دیئے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ نمک میں نہ تو آئیوڈین کا استعمال کیا جاتا تھا اور نہ ہی صفائی کی حالت تسلی بخش تھی، اسی طرح منرل واٹر کمپنی میں استعمال ہونے والا پانی مضر صحت تھا اور پانی کے ٹیسٹ کا کوئی باقاعدہ انتظام تک نہ تھا جس پر متعلقہ افسران نے فیکٹری کو سیل کر دیا۔

ادھر ایبٹ آباد میں بھی عوامی شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے مختلف کارروائیوں کے دوران 8 لاکھ کے جرمانے عائد کئے گئے۔ ایبٹ آباد انٹرنیشنل میڈیکل کالج کی کینٹینوں کی شکایات موصول ہوئی تھیں جس پر ایکشن لے کر بھاری جرمانہ عائد کر دیا گیا، جس کے بعد دیگر ہوٹلوں کی بھی چیکنگ ہوئی۔ بنوں اور کوہاٹ میں بھی منرل واٹر اور برف کے کارخانوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی اور مختلف کاروائیوں کے دوران بنوں میں 2 برف کے کارخانے، جبکہ کوہاٹ میں 2 واٹر پلانٹس سیل کر دیئے گئے۔ واضح رہے کہ کے پی فوڈ اتھارٹی کی کارروائیوں کے دوران بھاری تعداد میں زائدالمیعاد اور ممنوع اشیاء کو روزانہ کی بنیاد پر ضائع بھی کیا جاتا ہے۔
خبر کا کوڈ : 723605
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب