0
Monday 14 May 2018 20:58

پاراچنار، پاک افغان سرحد پر بوڑکی قبائل کا ہنگامی جرگہ

پاراچنار، پاک افغان سرحد پر بوڑکی قبائل کا ہنگامی جرگہ
اسلام ٹائمز۔ کرم ایجنسی میں پاک افغان سرحد پر بوڑکی قبائل کا ہنگامی جرگہ منعقد ہوا، جس میں بوڑکی کے مقام پر افغان سرحد آمدورفت کے لئے کھولنے اور تجارت کو فروغ دینے کا مطالبہ کیا گیا۔ کرم ایجنسی کے سرحدی علاقے بوڑکی میں پاک افغان سرحد پر قبائل کی جانب سے منعقدہ ہنگامی جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے ملک حاجی نوروز علی، حاجی کمال حسین، ملک اسلام، حضرت گل اور دیگر عمائدین نے کہا کہ انگریز دور سے بوڑکی سرحد تجارت اور آمدورفت کے لئے استعمال ہو رہی تھی۔ این ایل سی کی جانب سے افغان سرحد پر جب سیٹ اپ بنانے کے لئے منصوبہ بندی کی جارہی تھی تو بوڑکی قبائل نے دو سو ایکڑ اراضی مفت دینے کی بھی پیشکش کی تھی مگر اس کے باوجود خرلاچی میں این ایل سی نے متنازعہ اراضی خریدلی اور ستم بالائے ستم یہ کہ بوڑکی میں افغان سرحد بھی بند کردیا گیا جس سے بوڑکی قبائل کے سینکڑوں لوگ بے روزگار ہو گئے ہیں اور فاقہ کشی پر مجبور ہیں۔ اس لئے حکومت بوڑکی سرحد آمدورفت اور تجارت کے لئے کھول دے تاکہ بوڑکی قبائل میں پائے جانے والی بے چینی کو ختم کیا جا سکے۔ جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے قبائلی سردار ملک نوروز علی نے کہا کہ ایف بی آر سے منظور شدہ اور چار سو سال سے استعمال ہونے والی شاہراہ کی بندش قبائل کے ساتھ ظلم اور ناانصافی ہے، اگر شاہراہ کو نہ کھولا گیا تو احتجاج پر مجبور ہونگے۔

جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے ملک اسلام اور حاجی کمال حسین نے کہا کہ این ایل سی ذاتی مفادات کے لئے قبائل کو مسائل میں الجھا رہی ہے، بوڑکی کے قبائل کو بھی نظر میں رکھا جائے اور متعلقہ حکام اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔ بوڑکی سرحد پر کام کرنے والے مزدور کمیٹی کے رہنماؤں آصف علی اور علی محمد خان نے کہا کہ گذشتہ ایک ماہ سے بارڈر کی بندش کے باعث وہ بے روزگار ہوگئے ہیں اور فاقہ کشی پر مجبور ہیں۔ کرم ایجنسی سے سینیٹ کے ممبر حاجی سجاد طوری نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بوڑکی خرلاچی پر افغان سرحد کے حوالے سے تمام مسائل کے بہتر طریقے سے حل کیلئے اقدامات اٹھائے تاکہ قبائل کے مابین افہام و تفہیم کی صورت حال اور بھائی چارے کی فضا قائم رہے۔ این ایل سی کے ریٹائرڈ کرنل عزیز نے میڈیا کو بتایا کہ سرحد کھولنا اور بند کرنا اور سیٹ اپ بنانا ایف بی آر اور حکومت کی ذمہ داری ہے اور خرلاچی بارڈر کھولنے کے لئے حکومت اور ایف بی آر نے قبائلی عمائدین سے مشاورت کی تھی اور اس کے بعد خرلاچی گیٹ کھولنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
خبر کا کوڈ : 724715
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب