0
Tuesday 15 May 2018 12:09
حزب اللہ لبنان

اگر اسرائیل نے دوبارہ حملہ کیا تو اس دفعہ مقبوضہ فلسطین کے اندر سے جواب دینگے، سید حسن نصر اللہ

اگر اسرائیل نے دوبارہ حملہ کیا تو اس دفعہ مقبوضہ فلسطین کے اندر سے جواب دینگے، سید حسن نصر اللہ
اسلام ٹائمز۔ حجت الاسلام و المسلمین سید حسن نصر اللہ نے شہید کمانڈر مصطفٰی بدرالدین کی مجلس تکریم سے خطاب کیا۔ حزب اللہ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ شہید مصطفٰی بدرالدین ان شخصیات میں سے ہے کہ معمولا جن کے بارے میں بات نہیں ہو سکتی، جب یہ شہید ہو جائیں تو ان کے بارے میں بات کرنا ممکن ہوتا ہے۔ یہ کمانڈر خاص قسم کی زندگی گزارتے ہیں، ان کا نام اور تصویر مخفی رہنی چاہیئے۔ یہ خدا کی زمین پر مخفی لیکن آسمان پر معروف سپاہی ہیں، خصوصا ان میں سے ایسے کمانڈر کہ جن کے ذمہ خاص مسلح ذمہ داریاں ہوتی ہیں، اسی وجہ سے ہم یہ کہتے ہیں کہ حاج علاء یا فلان حاج آقا ایسے تھے اور ان کے جانے کے بعد ان کا اصلی نام لوگوں کے سامنے آتا ہے، لوگ ان سے آشنا ہوتے ہیں اور بالاخر وہ زمین پر بھی مشہور و معروف ہو جاتے ہیں۔ سید مقاومت نے شہید کمانڈر کے بارے میں مزید کہا کہ شہید مصطفٰی بدرالدین لبنان میں اسرائیلی نیٹ ورک کے خلاف اور اس تکفیری گروہ کے خلاف کہ جو ہمارے ملک میں گاڑیوں کے ذریعے خودکش دھماکے کرتے ہیں فاتحانہ انداز میں کام کرتے رہے اور اپنی ذمہ داریاں انجام دینے میں ہمیشہ کامیاب رہے۔ امریکہ کے خلاف اپنے اہداف کے حصول کیلئے شہید مصطفٰی بدرالدین عراق میں عراقی مجاہدین کی بھرپور مدد کرتے رہے، اور بالاخر ان کی کوششوں نے امریکیوں کو عراق سے نکلنے پر مجبور کر دیا۔ شہید اپنی آخری جہادی سرگرمیوں میں تکفیری گروہوں کے خلاف شام اور عراق کے مجاہدین کی مدد کرتے رہے۔ آپ کی پوری زندگی اور پوری جوانی اسی راستے میں طے ہو گئی۔

حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل کا اپنی تقریر میں کہنا تھا کہ شام نئے مرحلہ میں داخل ہو چکا ہے، صیہونی حکومت اور اسکی فضائی فوج کی ہیبت ٹوٹ چکی ہے۔ اس کی دھمکیاں گیڈر بھبھکیاں ہیں ان سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ سید استقامت نے اسرائیل کے شام کے خلاف متعدد فوجی حملوں کا ذکر کہا اور کہا کہ گولان کی پہاڑیوں پر شام کی طرف سے کئے گئے جوابی میزائل حملے کے بعد صیہونی حکومت نے اپنے فضائی آپریشن اور نقل و حرکت کا انداز تبدیل کر لیا ہے اور اگر ایک دفعہ پھر اس کو یہ خیال آیا کہ شام کے خلاف فوجی ایکشن لے تو اس دفعہ اس کا جواب مقبوضہ فلسطین کے اندر سے وصول کرے گا۔ حزب اللہ لبنان کے سربراہ نے امریکی صدر کے فلسطینوں کے حق پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ نے اپنے وعدہ کے مطابق اپنے سفارت خانے کو مقبوضہ بیت المقدس میں منتقل کر دیا ہے اور اس کا ارادہ ہے کہ جلد ہی اس صدی کے اہم ایگریمنٹ کا اعلان کرے، عرب ممالک میں سے جو بھی اس معاملے کے مخالف ہوں ان کے خلاف کاروائی ہو گی، اس معاملے کے نتیجے میں فلسطینی مہاجر اپنی سرزمین میں واپس نہیں آسکیں گے، فلسطین کو غزہ کی پٹی تک محدود کر دیا جائے گا اور نتیجتاً عرب ممالک اسرائیل کے ساتھ اپنے رابطے استوار کر لیں گے۔ سید حسن نصر اللہ نے فلسطینی عوام، پارٹیوں اور استقامتی بلاک کو مزاحمت کی دعوت دی ہے اور کہا کہ فلسطین کو کسی چیز پر دستخط نہیں کرنے چاہیئیں اور اس چیز کو جان لیں کہ ٹرمپ، نیتن یاہو اور محمد بن سلمان کی مثلث فلسطین کو کمزور کرنے کی مثلث ہے، ان میں سے ہر ایک کی نابودی پوری مثلث کی نابودی ثابت ہو گی۔

 
خبر کا کوڈ : 724832
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب