0
Tuesday 15 May 2018 22:55

قرآن کو اپنے سے جدا کرنے والوں نے ہمیشہ ٹھوکر کھائی ہے، معرفت قرآن کانفرنس

قرآن کو اپنے سے جدا کرنے والوں نے ہمیشہ ٹھوکر کھائی ہے، معرفت قرآن کانفرنس
اسلام ٹائمز۔ ادارہ التنزیل نے استقبال ماہ رمضان کے سلسلے میں’’معرفت قرآن کریم‘‘کے عنوان سے ایک عظیم الشان کانفرنس کا اہتمام کیا، جس میں تمام مکاتب فکر کے دانشوروں اور علماء کرام نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ مہمانان گرامی میں بین الاقوامی شہرت یافتہ قاری وجاہت، ایچ ای سن شعبہ علوم اسلامی کے سربراہ پروفیسر حافظ ظفراللہ شفیق، ملی یکجہتی کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل اور علمی تحقیقاتی ادارہ البصیرہ کے سربراہ سید ثاقب اکبر، جماعت اسلامی کے رہنما قاری محمد ضمیراختر حضوری، ڈپٹی سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی ڈاکٹر فرید پراچہ، مفتی گلزار احمد نعیمی سربراہ جماعت اہل حرم و  پرنسپل جامعہ نعیمیہ اسلام آباد اور میزبان ڈاکٹر سید علی عباس نقوی چیئرمین ادارہ التنزیل شامل ہیں۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ ظفر اللہ شفیق نے کہا کہ رسول اکرم ﷺکے دو طرح کے وجود ہیں ایک جسمانی وجود جو کہ دنیاوی حیات میں نظروں سے دور اور دوسرا روحانی وجود جو کہ قرآن کی شکل میں قیامت تک کے لیے ہمارے درمیان موجود ہے، آپ نے مزید کہا کہ رسول (ص) اور قرآن ایک ہی ہیں آپ کا اخلاق سراپا قرآن ہے، عمل میں بھی قرآن صفات میں بھی قرآن، عالمی اور دائمی جہانوں کے لئے بھی قرآن کی طرح مطھر، مجاہد، مجید، شاہد، فاتح، امین سب قرآن کی طرح ہے۔ آپ کا ذکر بھی قرآن ہے، چہرہ بھی قرآن ہے اور ظلمات سے نور کی طرف لے کر جانے والا بھی قرآن ہے۔ آپ نے کہا کہ ہم لمبا سفر کرکے زیارت کرنے جاتے ہیں اور ان تبرکات کی اہمیت کو تو جانتے ہیں لیکن ہمیں حقیقت میں ان کی تعلیمات کو جاننے اور عمل کرنے کی ضرورت ہے۔

معرفت قرآن کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ملی یکجہتی کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل ثاقب اکبر نے کہا قرآن کریم کو عام کتب پر قیاس نہیں کیا جاسکتا۔ یہ قلب پیغمبر پر اتری ہے، جبریل لے کر آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ عام بات نہیں ہے بلکہ عالم باطن کی چیزیں لوگوں نے ٹھوکر اسی وجہ سے کھائی کہ اس نے ان حقائق کو سامنے نہیں رکھا۔ مفتی گلزار احمد نعیمی نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قرآن مجید کو پڑھنا، سمجھنا اور عمل کرنا یقینا بہت بڑاعمل ہے، انہوں نے کہا کہ قرآن کے ذریعے سے علوم کی تخلیق ہوتی رہی ہے۔ ہم ڈاکٹر کے پاس  شفاء کے لئے جاتے ہیں اور کئی دفعہ دوا اثر کرتی ہے اور کئی دفعہ نہیں کرتی لیکن قرآن شفاء ہے جو ہر طرح کے مرض کا علاج کرتا ہے اور ہرحال میں شفاء دیتا ہے۔

جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما ڈاکٹر فریدپراچہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہماری زندگیوں میں جن چیزوں کی کمی ہے وہ ہے معرفت کتاب، فکر، انقلاب، رہنما اور ضابطہ حیات ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام کتابوں میں شک ہو سکتا ہے لیکن قرآن میں نہیں کیونکہ ذلک لاریب فیہ، جہاں قرآن نازل ہوا وہ شہر سب کا سردار، جس کے قلب پر نازل ہوا وہ نبی سب کے سردار، جس مہینے میں نازل ہوا وہ مہینہ سب کا سردار۔ حق ہمیشہ غالب رہنے کے لئے آیا ہے اور ہر چیز میں حق کی جیت ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہر چیز کا حل قرآن میں موجود ہے ہر طرح کی پریشانی کا علاج ہے۔  جماعت اسلامی کے قاری محمد ضمیراختر حضوری نے کہا کہ اللہ کی نعمت کے بارے میں بتایا گیاکہ اللہ نے ہمیں قرآن نعمت عطا کی ہے ہر چیز فنا ہو جائے گی لیکن حق باقی رہے گا وحی کا راستہ جنت کا راستہ ہے۔

مذہبی سکالر  سیدہ سحر نے  معرفت قرآن کے مراحل پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ معرفت قرآن کے مراحل میں ایک تو تلاوت ہے، دوسرا ترجمہ، پھر تجوید اور تفہیم اور اگر ہمیں معرفت قرآن حاصل کرنا ہے تو ہمیں اس کے حقائق پر غور کرنا پڑے گا اور یہ معرفت کے اصول پیغمبرﷺاور اہل بیت ؑسے لینے پڑیں گے۔ آخر میں کانفرنس کے میزبان اور قرآنی ادارے التنزیل کے سربراہ ڈاکٹر علی عباس نقوی نے قرآنی آیت کی طرف اشارہ کیا کہ اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر نازل کرتے تو آپ اسے اللہ کے خوف سے جھک کر پاش پاش ہوتا ضرور دیکھتے اور ہم یہ مثالیں لوگوں کے لیے اس لیے بیان کرتے ہیں کہ شاید وہ فکر کریں۔ انہوں نے تمام مہمانان گرامی کا شکریہ ادا کیا اور معرفت قرآن کی بنیادوں اور معرفت قرآن کے موضوع پر روشنی ڈالی کہ ہمیں اسے  فراموش نہیں کرنا چاہیے۔
 
خبر کا کوڈ : 725005
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے