0
Wednesday 16 May 2018 00:02

گلگت بلتستان اسمبلی میں متحدہ اپوزیشن کا مجوزہ پیکج کیخلاف پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا دینے کا اعلان

گلگت بلتستان اسمبلی میں متحدہ اپوزیشن کا مجوزہ پیکج کیخلاف پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا دینے کا اعلان
اسلام ٹائمز۔ گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی میں متحدہ اپوزیشن نے مجوزہ پیکج کے خلاف رواں ماہ کی 19 اور 20 تاریخ کو پارلیمنٹ ہاﺅس کے باہر دھرنا اور ساتھ ہی پورے گلگت بلتستان میں احتجاجی جلسوں کا اعلان کر دیا، اپوزیشن لیڈر کیپٹن (ر) محمد شفیع کی زیر صدارت اپوزیشن کا اجلاس ہوا، جس میں فیصلہ کیا گیا کہ پارلیمنٹ ہاﺅس کے سامنے دھرنا دینے کے ساتھ ساتھ آئندہ پندرہ دنوں کے اندر وزیراعلٰی گلگت بلتستان کیخلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس کے بعد اپوزیشن ممبران نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلٰی نے مجوزہ پیکج کے حوالے سے عوام کو مکمل اندھیرے میں رکھا، حتیٰ کہ اپنی پارٹی کو بھی بائی پاس کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مجوزہ آرڈر کے نقائص کو میڈیا کے ذریعے بھی سامنے لایا گیا ہے اور عوام میں بھی گئے ہیں، مگر بادشاہ حفیظ الرحمن کے کانوں پر جوں تک نہیں ر رینک رہی ہے، اسی لئے اب فیصلہ کیا ہے کہ اگلا قدم باقاعدہ اسلام آباد پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا دیا جائے گا۔ 19 اور 20 مئی کو دھرنے میں گلگت بلتستان سے بڑی تعداد میں لوگ خود شریک ہونگے اور اسلام آباد، راولپنڈی میں مقیم جی بی کے تمام لوگ بھی شرکت کریںگے۔ کیپٹن (ر) محمد شفیع نے کہا کہ ہمارا پہلا مطالبہ مکمل آئینی صوبہ تھا، ریاست کی مجبوریوں کو سمجھتے ہوئے ہم نے سرتاج عزیز کی سفارشات کے مطابق نئے سیٹ اپ کو قبول کرنے کی حامی بھرلی، مگر بعد میں سرتاج عزیز کی سفارشات کو بھی مکمل تبدیل کر دیا گیا۔ ریاست کی مجبوریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے مطالبہ کیا ہے کہ ہمیں آزاد کشمیر طرز کا سیٹ اپ دیدیا جائے۔

پیپلزپارٹی کے رکن جاوید حسین نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد کا باضابطہ اعلان کر رہے ہیں، یہ اعلان گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی میں موجود تمام اپوزیشن ممبران کا متفقہ فیصلہ ہے، آئندہ پندرہ دنوں کے اندر اندر تحریک عدم اعتماد کا پھل نظر آئیگا، کیونکہ حفیظ الرحمن کو اب ہم مزید برداشت نہیں کریںگے۔ حفیظ الرحمن کے ساتھ ہمارے کوئی ذاتی اختلافات نہیں ہیں، مگر جب سے وزیراعلٰی بنا ہے، تب سے اب تک علاقے کے مفاد میں ایک روپیہ کا کام نہیں ہوا ہے اور تین سالوں تک عوام کو دھوکے میں رکھ کر آخر میں علاقے کا سودا کرنے کی تیاری کی ہے۔ ہم اس کو مسترد کرتے ہیں اور واضح کرتے ہیں کہ اس آرڈر کو رکوانے کے لئے ہر اقدام اٹھائیںگے۔ آزاد کشمیر طرز کے نظام میں غیر مقامی افراد زمین نہیں خرید سکتے اور صرف مقامی افراد ہی اس کے شہری ہوتے ہیں، ٹیکس کا نظام آزاد کشمیر کا اپنا ہے اور مخصوص فارمولے کے مطابق وفاق سے معاملات طے ہیں، جبکہ آزاد کشمیر میں چیف جسٹس سمیت تقریباً سبھی عہدے مقامی ہیں۔ تحریک انصاف کے رکن اسمبلی راجہ جہانزیب نے کہا کہ تحریک انصاف کی مرکزی جماعت تحریک عدم اعتماد اور گورننس آرڈر کے خلاف تحریک میں ہمارے پیچھے کھڑی ہے۔ ہم نے چار سال محنت کرکے لاہور کے ٹائی ٹینک سے جان چھڑائی ہے، ہمارا مسلم لیگ نون پر کبھی اعتبار ہی نہیں رہا تو اعتماد کیسے کریں۔

رکن اسمبلی نواز خان ناجی نے کہا کہ میں نے ذاتی طور پر اسمبلی میں قرارداد کی بھی مذمت کی تھی، مگر علاقائی مفاد کی خاطر میں آزاد کشمیر طرز کے نظام پر متفق ہوگیا ہوں۔ آزاد کشمیر کا نظام آئین کے تحت دیا گیا ہے، مگر گلگت بلتستان کو صرف صدارتی آرڈیننس کے تحت نظام دیئے جا رہے ہیں۔ آئین کے تحت بھرتی ہونے والے تحصیلدار کی بھی اپنی حیثیت ہوتی ہے، مگر آرڈر کے تحت وزیراعلٰی کی بھی کوئی حیثیت نہیں ہوتی ہے ۔ عدم اعتماد اسمبلی کی تحریک میں تمام قانونی ضروریات پورے کرکے اگلا قدم اٹھایا جائیگا۔ اس موقع پر رکن اسمبلی کاچو امتیاز حیدر نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان جب جی بی کونسل کے چیئرمین تھے تو اس وقت ان کے پاس کسی حد تک قانون سازی کے اختیارات موجود تھے، مگر چونکہ اب کونسل بھی ختم کر دی گئی ہے تو وزیراعظم کس حیثیت سے قانون سازی کے اختیارات استعمال کریںگے۔ دھرنا ہر صورت ہوگا اور تحریک عدم اعتماد آکر رہے گی۔
خبر کا کوڈ : 725136
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے