0
Wednesday 16 May 2018 21:31

کراچی، ‎فلسطین فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام کانفرنس بعنوان ’فلسطین کیلئے سب ساتھ ساتھ‘ کا انعقاد

کراچی، ‎فلسطین فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام کانفرنس بعنوان ’فلسطین کیلئے سب ساتھ ساتھ‘ کا انعقاد
اسلام ٹائمز۔ فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کے زیر اہتمام کراچی کے مقامی ہوٹل میں فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کیلئے کانفرنس بعنوان ’فلسطین کیلئے سب ساتھ ساتھ‘ کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس سے مہمان خصوصی سابق چیئرمین سینیٹ سینیٹر رضا ربانی، ایم کیو ایم کی سینٹر ڈاکٹر نگہت مرزا، جعفریہ الائینس پاکستان کےسربراہ علامہ عباس کمیلی، سابق وفاقی وزیر حاجی حنیف طیب، جے یو آئی (ف) سندھ کے  نائب امیر قاری محمد عثمان، تحریک انصاف کے مرکزی رہنما اسرار عباسی، رہنما عوامی نیشنل پارٹی یونس بونیری، مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل علامہ سید احمد اقبال رضوی، سابق ڈپٹی میئر کراچی طارق حسن، پی ایل ایف کے مرکزی ترجمان و سیکرٹری جنرل صابر ابو مریم، کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر حیدر امام رضوی، ڈاکٹر عالیہ امام، مطلوب اعوان، علامہ باقر زیدی، محمد حسین محنتی، ڈاکٹر طلعت وزارت، ایم پی اے محفوظ یار خان، ایم پی اے قمر عباس، شبر رضا، مسلم پرویز، راؤ ناصر علی، محمد عباس، قاضی زاہد حسین، ارم بٹ، کرامت علی، فرزانہ برنی، عبدالمجید عبدانی، آغا شیرازی، زین العابدین، سائمن گل، اشوک کمار، شکیل خان، عمران خالق، عابدہ بشیر، علی قاسم، عدنان کوڈیا، خواجہ بلال، سید عبد الرزاق، سمیت دیگر سیاسی و مذہبی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے رہنماؤں نے بھی خطاب کا۔

‎کانفرنس میں تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں اور سول سوسائٹی نے مشترکہ قرارداد منظور کی کہ حکومت پاکستان فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کیلئے رمضان المبارک کے آخری جمعہ یعنی جمعۃ الوداع عالمی یوم القدس کو سرکاری سطح پر منانے کا اعلان کرے، فلسطین، فلسطینیوں کا وطن ہے، فلسطینیوں کے پُرامن حق واپسی مارچ کی بھرپور حمایت کا اعلان کرتے ہیں، فلسطینی عوام کے پُرامن احتجاجی مارچ پر اسرائیلی وحشیانہ ظلم و بربریت کی شدید مذمت کرتے ہیں، قبلہ اول بیت المقدس (القدس/یروشلم) فلسطین کا ابدی دارالحکومت ہے، امریکی صدر کی جانب سے یروشلم شہر کی شناخت کو اسرائیل کے حق میں تبدیل کرنے کے فیصلہ کو مسترد کرتے ہیں، امریکی صدر کا امریکی سفارت خانہ کو یروشلم منتقل کرنے کا فیصلہ عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے، عالمی برادری مسئلہ فلسطین کے حل کیلئے سنجیدہ کردار ادا کرے۔ برطانوی حکومت کی جانب سے پیش کیا گیا اعلان بالفور فلسطین پر اسرائیلی غاصبانہ ریاست کا وجود قائم کرنے کا پیش خیمہ بنا، لہٰذا برطانوی حکومت فلسطینی عوام کے حقوق کی مسلسل ایک سو سالہ پائمالی پر فلسطینی عوام اور دنیا سے معافی مانگے۔ پاکستان کے عوام قائداعظم محمد علی جناح کے قائم کردہ اصولوں کے مطابق متحد ہو کر تمام اختلافات سے بالاتر ہو کر مظلوم فلسطینی عوام اور ان کے حقوق کی جدوجہد کرتے رہیں گے۔ امریکا کی جانب سے پاکستان کے خلاف غیر مہذب رویہ اور بے بنیاد الزام تراشیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ غاصب صیہونی ریاست اسرائیل فلسطین میں انسانیت سوز مظالم ڈھا رہی ہے، جبکہ ہندوستان مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پائمالی کا مرتکب ہو رہا ہے، اسرائیل مشرق وسطیٰ اور ہندوستان جنوبی ایشیاء میں دہشتگردی کرنے اور امن و امان تباہ کرنے کے ذمہ دار ہیں۔ دنیا کے مختلف ممالک بشمول شام، لبنان، عراق، افغانستان، لیبیا، یمن اور دیگر حصوں میں غیر ملکی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہیں اور دنیا کے امن کیلئے سنگین خطرہ ہے۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی سابق چیئرمین سینیٹ و پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ فلسطین میں امریکی سفارتخانہ کی منتقلی کے خلاف ہونے والے پُرامن  احتجاج پر اسرائیلی افواج کی فائرنگ کے نتیجہ میں اب تک پچاس سے زائد مظلوم فلسطینیوں کی شہادت کی پرزور مذمت کرتے ہیں، 70 سال پہلے فلسطین کی سرزمین پر صہیونی طاقتوں نے اپنا قبضہ جمایا، صہیونیوں نے فلسطین میں ظلم و بربریت کی وہ داستان رقم کی، جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ بین الاقوامی صورتحال میں فلسطین کی آزادی ممکن نہیں، امت مسلمہ نے فلسطینی مظلوموں کیلئے مؤثر آواز نہیں اٹھائی اور نہ اسرائیل کے حوالے سے مسلم ممالک نے مؤثر آواز اُٹھائی۔ رضا ربانی کا کہنا تھا کہ سعودی ولی عہد نے یہ بات واضح کہہ دی کہ فلسطینی یا تو ٹرمپ کا فارمولہ قبول کریں یا خاموش رہیں، خلیجی ممالک بھی اپنے روابط اسرائیل کے ساتھ بڑھا رہے ہیں، دنیا کی سیاست میں ایک نیا الائنس نظر آرہا ہے، جس میں واشنگٹن، نئی دہلی اور تل ابیب شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین اور کشمیر کا مسئلہ آج تک حل نہیں ہوا، فلسطین اور کشمیر کا مسئلہ جب بھی اقوام متحدہ میں پیش ہوا، تو عالمی استکبار کی جانب سے ویٹو کر دیا جاتا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ فلسطین اور کشمیر میں انسانیت سوز مظالم ہو رہے ہیں، پاکستان اور فلسطین میں سامراجی قوتیں مسئلہ فلسطین و کشمیر کے حل میں بڑی رکاوٹ ہیں، کشمیر و فلسطین میں عصمت دری اور مسنگ پرسنز کے مظالم مشترک ہیں۔

سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ امریکا نے اسرائیلی نام نہاد اطلاعات پر ایران سے ایٹمی معاہدہ ترک دیا، امریکا کا یکطرفہ معاہدے سے نکلنا اسرائیلی اطلاعات کی بنیاد پر ہیں، امریکا کا ایران سے معاہدہ ختم ہونے پر سعودی عرب و اسرائیل نے جشن منایا، فلسطین پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف نواز حکومت کی مجرمانہ خاموشی پاکستانی عوام کی تذلیل ہے۔ انہوں نے کہا کہ لبنان میں حالیہ الیکشن میں حزب اللہ کی کامیابی خوش آئند ہے، شام میں اسرائیلی بمباری سے مظلوموں کا خون بہایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا جمہوری عمل ہی اس کی بقا کا ضامن ہے، اسلامی جمہوریہ پاکستان دنیا میں ہونے والے ہر مظالم کے خلاف اٹھائے گا، قائداعظم محمد علی جناح سے لیکر آج تک مظلوموں کے حقوق کیلئے اور ان پر ہونے والے مظالم کے خلاف آواز اٹھائی، ہم نے اپنی سرزمین سے کبھی دہشتگردوں یا ملک دشمن قوتوں کا ساتھ نہیں دیا، پاکستان کو ہمیشہ را کی دہشتگردی کا سامنا رہا، بلوچستان کے خراب حالات کے پیچھے بھارتی دہشتگردی ہے، اسلامی  ممالک، او آئی سی، عرب حکمرانوں کے ذاتی مفادات مسئلہ فلسطین کے حل میں اصل رکاوٹ ہیں، مسلم امہ فلسطین کی آزادی کیلئے مشترکہ اور مسلسل جدوجہد کریں۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایم کیو ایم کی سینیٹر ڈاکٹر نگہت مرزا کا کہنا تھا کہ شام، عراق، برما، فلسطین اور کشمیر میں ہونے والے مظالم کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، غزہ میں ہونے والے انسانیت سوز مظالم پر امت مسلمہ کی خاموشی مجرمانہ ہیں، سیاسی و مذہبی جماعتوں کو چاہئے کہ وہ مملکت خداداد پاکستان میں دہشتگردی و انتہاپسندی کی روک تھام کیلئے اپنا فعال کردار ادا کریں۔ سابق سینٹر علامہ عباس کمیلی کا کہنا تھا کہ مسئلہ فلسطین کسی ایک فرقہ کا مسئلہ نہیں، بلکہ عالم اسلام کا مسئلہ ہے، گزشتہ دور میں لوگ فلسطین کا نام لینے سے گھبراتے تھے، مگر آج ایسا نہیں ہے، دنیا کے حالات تبدیل ہو رہے ہیں، ان شاء اللہ فلسطین جلد آزاد ہو جائے گا۔ سابق وفاقی وزیر حاجی حنیف طیب نے کہا کہ مظلوم فلسطینیوں کے حق میں آواز اٹھانا ہماری اولین ذمہ داری ہے، اسلام دشمن قوتیں مسلمانوں کے خلاف محاذ بنا رہے ہیں، مقبوضہ بیت المقدس میں امریکی سفارتخانہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ جے یو آئی (ف)  سندھ کے رہنما قاری محمد عثمان کا کہنا تھا کہ 70 سال سے مسئلہ فلسطین کے حل کیلئے مسلم حکمران خواب غفلت کا شکار ہیں، مسلم حکمرانوں کا غاصب اسرائیلی حکمرانوں سے ہاتھ ملانا قابل مذمت ہے، شام، عراق، فلسطین اور کشمیر میں ہونے والی دہشتگردی کی پُرزور مذمت کرتے ہیں۔

تحریک انصاف کے رہنما اسرار عباسی کا کہنا تھا کہ تمام امت مسلمہ کو چاہیے کہ وہ یکجا ہو کر فلسطین کی آزادی کیلئے آواز بلند کریں۔ اے این پی کے رہنما یونس بونیری کا کہنا تھا کہ بیت المقدس عالم انسانیت کا مسئلہ ہے فلسطین میں انسانیت سسک رہی ہے، اسرائیل کی جانب سے مسلسل انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے اور اقوام متحدہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی رہنما علامہ احمد اقبال رضوی کا کہنا تھا کہ عرب دنیا نے مسئلہ فلسطین کو پس پشت ڈال دیا، فلسطین کی آزادی اسرائیل کی نابودی ہے، امریکا و اسرائیل خطے میں داعش کو مستحکم کرکے دہشتگردی کو فروغ دے رہے ہیں۔ سابق ڈپٹی میئر کراچی طارق حسن کا کہنا تھا کہ پاکستان مسلم لیگ کے قائدین نے ہمیشہ فلسطین کاز کی حمایت کی ہے اور ہم بھی بابائے قوم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے فلسطین کے مظلوم عوام کو تنہا  نہیں چھوڑیں گے۔ فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کے سیکرٹری جنرل صابر ابو مریم نے قرارداد پیش کی کہ ماہ رمضان المبارک کے آخری جمعہ یعنی جمعۃ الوداع کو عالمی یوم القدس کے طور پر سرکاری سطح پر منانے کا اعلان کیا جائے۔ کانفرنس کے اختتام پر فلسطین فاونڈیشن کی سرپرست کمیٹی کے رکن مظفر ہاشمی نے تمام مہمانان گرامی کا شکریہ ادا کیا۔
خبر کا کوڈ : 725212
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش