0
Sunday 27 May 2018 16:20
احتجاج کرنیوالوں پر ریاستی طاقت کا ناجائز استعمال قابل مذمت ہے، حکومت عوام کےجذبات سے کھیلنا بند کرے

جامعہ روحانیت بلتستان عوامی مطالبے کی تائید میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑا ھے، سید احمد رضوی

گورننس آرڈر 2018ء کی شکل میں تھونپا گیا کالا قانون فوری واپس لیکر جی بی کی آئینی حیثیت کیلئے عملی اقدامات کریں
جامعہ روحانیت بلتستان عوامی مطالبے کی تائید میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑا ھے، سید احمد رضوی
اسلام ٹائمز۔ جامعہ روحانیت بلتستان کے صدر حجت الاسلام والمسلمین سید احمد رضوی نے جی بی آرڈر 2018ء کو کالعدم قرار دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جی بی کو صدارتی احکامات کے ذریعے چلانے کے بجائے پاکستان کا حصہ تسلیم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اسلام آباد کے زیر انتظام قبائلی علاقے (فاٹا) کو پاکستان کا حصہ تسلیم کرتے ہوئے خیبر پختونخوا میں ضم کیا جاسکتا ہے تو گلگت بلتستان کو یہ آئینی حق کیوں نہیں دیا جا سکتا۔ ہمارا پاکستان سے تعلق دینی اور روحانی ہے، پاکستان ہماری منزل ہے، حکومت ستر سالوں سے محروم گلگت بلتستان کے عوام کی محرومیون کا ازالہ کرے۔ گلگت بلتستان کے عوام نے بزور بازو اپنے علاقے کو فتح کرکے پاکستان کے حوالے کر دیا، اگر گلگت بلتستان کے عوام یہ کارنامہ سرانجام نہیں دیتے تو آج پاکستان کا ہارڈر چین کے بجائے بشام میں ہوتا، پھر نہ سی پیک ہوتا اور نہ ہی کوئی معاشی ترقی ہوتی۔ گوادر سی پیک کا اختتامی پوائنٹ ہے، جبکہ گلگت بلتستان انٹری پوائنٹ ہے، اس تناظر میں گلگت بلتستان کو گوادر سے زیادہ حصہ اور ترقیاتی منصوبے دیئے جائیں۔

انہوں نے کہا گلگت بلتستان کے وسیع تر مفاد کی خاطر عوام کا میدان میں حاضر ہونا قابل تحسین ہے، جامعہ روحانیت بلتستان عوام کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ جامعہ روحانیت بلتستان کے صدر کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعلٰی قانون اور آئینی حد بندیوں کی خلاف ورزی کر سکتا ہے، لیکن گلگت بلتستان کی باشعور عوام اس کا جواب قانون اور آئینی طریقے سے دینگے، احتجاج کرنے والوں پر آنسو گیس کی شیلنگ اور ریاستی دہشت گردی قابل مذمت ہے۔ انہوں نے عوام سے مطالبہ کیا کہ احتجاج کرنا ہمارا آئینی اور قانونی حق ہے، اس سے ہمیں کوئی روک نہیں سکتا، لیکن عوام ہوشیار رہیں کہ کہیں ہمارا پرامن احتجاج اور جلوس دشمن اپنے ناپاک مقاصد کے لئے استعمال نہ کرے۔
خبر کا کوڈ : 727719
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے