0
Wednesday 11 Jul 2018 09:18

کسی فوجی افسر بارے صفائیاں پیش کرنا پڑیں تو یہی خلق خدا کی آواز اور نقارہ خدا ہے، نواز شریف

کسی فوجی افسر بارے صفائیاں پیش کرنا پڑیں تو یہی خلق خدا کی آواز اور نقارہ خدا ہے، نواز شریف
اسلام ٹائمز۔ مسلم لیگ نون کے سزا یافتہ قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی کی باتوں پر عمل نہ کیا جائے، بہتر ہوگا کہ الیکشن کمیشن خود فیصلہ اور ان پر عمل درآمد کرے، انتخابات میں الیکشن کمیشن کے علاوہ کسی ادارے کا کردار برداشت نہیں کریں گے۔ لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نواز شریف نے ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس پر ردعمل دیا، بولے کہ جنرل فیض کا اقدام آئینی مینڈیٹ سے انحراف اور فوج کی ساکھ کو مجروح کرنے کے مترادف ہے، کسی فوجی افسر سے متعلق صفائیاں پیش کرنا پڑیں تو سمجھ لینا چاہئے کہ خلق خدا کی آواز ہی نقارہ خدا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی پولنگ اسٹیشن کے اندر کے انتظامات سے متعلق باتوں پر پر عمل نہ کیا جائے، آج جو ہورہا ہے اس سے الیکشن کی ساکھ کو نقصان پہنچ چکا ہے، بہتر ہوگا کہ الیکشن کمیشن خود اپنے انتظامات اور فیصلے کرے، ساتھی ہی انہیں عملہ جامہ بھی پہنائے۔ نواز شریف نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن کے علاوہ ہم کسی ادارے کی الیکشن میں مداخلت برداشت نہیں کریں گے، یہ الیکشن کمیشن کا اختیار اور مینڈیٹ ہے۔

لندن میں میڈیا سے گفتگو کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ جو کچھ آج ہورہا ہے اس سے پہلے ہی الیکشن کی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے، اس لیے بہتر یہی ہوگا کہ الیکشن کمیشن، ڈی جی آئی ایس پی آر کی باتوں پر عمل کرنے کے بجائے انتظامات خود اپنے ہاتھ میں لے اور خود فیصلے کرکے انہیں عملی جامہ پہنائے۔ انہوں نے کہا کہ ہم الیکشن میں الیکشن کمیشن کے علاوہ کسی دوسرے ادارے کی مداخلت کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے، انتخابات کا انعقاد الیکشن کمیشن کی ذمہ داری اور اس کا مینڈیٹ ہے، جبکہ پولنگ اسٹیشنز کے اندر جاکر فوج کے کردار ادا کرنے کی منطق مجھے سمجھ نہیں آتی۔ نواز شریف نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ انتخابات سے قبل آج جس پارٹی کے خلاف مہم جاری ہے وہ مسلم لیگ (ن) ہے، کیا کسی دوسری جماعت کے نمائندے کو توڑ کر کسی اور پارٹی کے ساتھ جوڑا گیا ہے؟ مسلم لیگ (ن) کے انتخابی امیدواروں کو شیر کا نشان چھوڑنے پر مجبور کرکے انہیں جیپ کا نشان دلوایا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ فوج کے ان افسران و اہلکاروں کو سلام پیش کرتے ہیں جو مورچوں پر جاکر دشمنوں کا مقابلہ کرتے ہیں، جو دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے ہیں، جو دہشت گردی کے خلاف اپنی جانیں قربان کرتے ہیں اور اپنے مینڈیٹ کا احترام کرتے ہیں۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ فوج کے حلف میں یہ واضح طور پر لکھا ہوا ہے کہ ہم اپنی پیشہ ورانہ حدود سے باہر نکل کر سیاسی حدود میں داخل نہیں ہوں گے اور ہم سیاست میں ملوث نہیں ہوں گے۔ واضح رہے کہ میجر جنرل آصف غفور نے پریس کانفرنس کے دوران وضاحت کی تھی کہ انتخابات کے انعقاد میں افواج پاکستان کا کوئی براہ راست کردار نہیں، افواج پاکستان کا کردار انتخابات میں الیکشن کمیشن کو صرف معاونت فراہم کرنا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے منحرف رہنما اور سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار اور دیگر رہنماؤں کو جیپ کا نشان الاٹ کرنے پر انہوں نے کہا کہ یہ جیپ ہماری نہیں اور انتخابی نشان الاٹ کرنا افواجِ پاکستان کا کام نہیں، الیکشن کمیشن کا کام ہے، میڈیا ہر چیز کو شک کی نظر سے نہ دیکھے۔ 
 
خبر کا کوڈ : 737068
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش