0
Sunday 5 Aug 2018 19:47

تحریک انصاف سے معاہدہ کرنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں تھا، وسیم اختر

تحریک انصاف سے معاہدہ کرنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں تھا، وسیم اختر
اسلام ٹائمز۔ میئر کراچی اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما وسیم اختر نے کہا ہے کہ ان کی جماعت کے پاس پاکستان تحریک انصاف سے معاہدے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا کیونکہ عوام مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کو آزما چکے ہیں۔ کراچی میٹرو پولیٹن کارپوریشن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے میئر کراچی نے کہا کہ کراچی ملک کا معاشی مرکز ہے جو صوبائی آمدنی 95 فیصد اور ملکی آمدن میں 65 حصہ دار ہے، دو بڑی سیاسی جماعتوں کی حکومتیں اس شہر کے مسائل کوحل کرنے میں ناکام رہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہر کے مسائل سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی مسئلہ ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کسی سیاسی جماعت یا ادارے نے شہریوں کو درپیش مشکلات کو حل کرنے کی کوشش نہیں کی۔ میئر کراچی کا کہنا تھا کہ کراچی کے مسائل سیاست سے الگ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک تباہی کی طرف بڑھ رہا ہے اس لئے تمام سیاسی جماعتوں اور تنظیموں کو کراچی کے مسائل کے بارے میں سوچنا چاہیئے۔ وسیم اختر نے کہا کہ وفاقی حکومت کو کراچی اور سندھ کے حالات میں بہتری لانی چاہیئے، خاص طور پر بلدیاتی حکومت کے مسائل حل کرکے اسے طاقتور بنانا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ میں صوبائی اور وفاقی حکومت کے درمیان ایک پُل کا کردار ادا کررہا ہوں۔ ایک سوال کے جواب میں ایم کیو ایم رہنما نے کہا کہ ایم کیو ایم اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان شہریوں کو درپیش مشکلات کے حل کے لئے معاہدہ کیا گیا۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ تحریک انصاف کے ساتھ کچھ معاملات پر ابھی بات نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں ہم ایم کیو ایم پاکستان رابطہ کمیٹی کو اعتماد میں لیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی سمیت سندھ کے حالات انتہائی ابتر ہیں، صاف پانی، سیوریج سسٹم، ٹرانسپورٹ، صحت اور تعلیم کی سہولیات میسر نہیں۔ وسیم اختر نے کہا کہ اس انتہائی سنجیدہ صورتحال کے پیشِ نظر ہم چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے ساتھ پیٹھے اور اپنے مسائل پر بات کی۔ تاہم انہوں نے 25 جولائی 2018ء کو ہونے والے عام انتخابات کے نتائج کو مسترد کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کے نتائج پر ہمارے تحفظات قائم ہیں، ہم قومی اسمبلی کے 8 اور صوبائی اسمبلی کے 16 حلقوں کے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کروانا چاہتے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ الیکشن میں دھاندلی اس طریقے سے کی گئی ہے کہ بہت مشکل ہے کہ اس معاملے پر کوئی کمیشن یا کمیٹی بنائی جائے کیونکہ شہر کے مختلف اسکولوں اور کچرے کے ڈھیر سے بیلٹ پیپرز برآمد ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک پری پول دھاندلی تھی اور ہم نے دھادندلی کے خلاف صوبائی الیکشن کمیشن کے سامنے احتجاج بھی کیا تھا۔ پاک سرزمین پارٹی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان اور کراچی کے لوگ جانتے ہیں کے الیکشن میں ڈولفن کے ساتھ کیا ہوا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب پی ایس پی کے رہنما ایک بار پھر لوگوں کو بلدیاتی حکومت کی تیاری سے متعلق بتارہے ہیں۔ میئر کراچی نے کہا کہ ہماری جماعت بہت مشکل وقت سے گزر رہی تھی کیونکہ ہمارے اکثر لوگ جیل میں ہیں اور کئی لاپتہ ہیں۔
خبر کا کوڈ : 742651
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب