0
Monday 6 Aug 2018 03:45

شہید قائد کی 30ویں برسی کی مناسبت سے ڈاکٹر سید راشد نقوی کی تقریر سے اقتباس

شہید قائد کی 30ویں برسی کی مناسبت سے ڈاکٹر سید راشد نقوی کی تقریر سے اقتباس
ترتیب و تنظیم: آیچ آر ایس

میں سب سے پہلے آپ سب سامعین کی خدمت میں فرزند راستین سید الشہداء، نمائنده امام خمینی (رہ)، قائد ملت جعفریہ، کروڑوں شیعان پاکستان کے دلوں کی دھڑکن، خمینی بت شکن کی ذات میں پوری طرح ضم اور آئمہ معصومین کی راه پر اپنے خون کے آخری قطرے کو بہانے والے مرد گفتار و کردار سید عارف حسین الحسینی کی تیسویں برسی کی مناسبت سے تعزیت و تسلیت عرض کرتا ہوں۔ اس گفتگو کا مقصد دو فرائض کی ادائیگی کا مظہر ہے۔ امام نے کہا کہ شہید کے افکار کو زنده رکھنا اور رہبر معظم بھی اس بارے میں تاکید کرتے ہیں کہ شہید کی یاد کو زنده رکھا جائے۔ جی ہاں آج ہم جس شہید کی برسی منا رہے ہیں، وه عارف حسین تھا اور اسم با ....شهادت ہوتے ہوئے حقیقی حسینی بھی تھا، جس نے کربلا سے درس حسینی لیتے ہوئے اور حسینی راستے پر اپنی جان راه خدا میں قربان کر دی ہے۔

عزیز سامعین، کسی ایسی ہستی کے بارے میں گفتگو کرنا، جس سے آپ کا قلبی و جذباتی تعلق بھی ہو اور وه شخصیت بھی عظیم و فوق العاده صفات کی حامل ہو تو ہمیشہ اس بات کا امکان رہتا ہے کہ جذباتی تعلق کی بنیاد پر انسان مبالغہ کا شکار ہو جائے اور دوسرا شخصیت کی عظمت کی وجہ سے اس بات کا بھی اندیشہ رہتا ہے کہ آپ شخصیت کے شایان شان تجلیل و تعریف نہ کر پائیں. شہید عارف کے ساتھ میرا تعلق ایسا ہی ہے اور دوسری طرف شخصیت کی عظمت اتنی نمایاں اور اجاگر ہے کہ اسکو الفاظ کے پیرائے میں سمونا ناممکن ہے۔ شہید عارف کے بارے میں بھلا میرے جیسا عام شخص کیا کہہ سکتا ہے، جس کے بارے میں امام خمینی نے فرمایا کہ وه اسلام کے باوفا یارو مددگار تھے، وه محروموں اور مستضعفین کے بے مثال حامی تھے، وه امام حسینؑ کے حقیقی فرزند تھے۔ جس کے بارے میں امام خمینی نے یہ فرمایا کہ شہید حسینی نے محراب عبادت سے معراج حق اور "ارجعی الی ربک راضیه مرضیه" کا سفر اختیار کیا۔

جس کے بارے میں شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی کی ایک بڑی خوبصورت تعبیر ہے، ڈاکٹر صاحب کہتے تھے: امام خمینی ایک آفتاب کی مانند تھے اور اس آفتاب کے ساتھ ایک خوبصورت کہکشاں تھی، جس میں مطهری، بہشتی، باقر الصدر، حکیم، راغب حرب، عباس موسوی اور شہید عارف حسین جسے تابنده و روشن ستارے تھے، جو فکر خمینی سے روشنی لیکر معاشرے کو روشن و بابنده کر رہے تھے۔ شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی کا یہ تاریخی جملہ ہے کہ شہید عارف الحسینی نے امام خمینی کے الہی افکار اور انقلاب اسلامی کے نظریات کو آئینہ سے بھی زیاده شفاف کرکے پاکستان کی سرزمین پر پیش کیا اور شہید حسینی آیت الله شہید باقر الصدر کے معروف قول کے زنده مصداق تھے، یعنی امام خمینی کی ذات میں اس طرح ضم ہوگئے تھے، جس طرح وہ اسلام میں ضم ہوچکے تھے۔

میں ایک بات بڑے اعتماد سے کہہ رہا ہوں کہ امام خمینی ایسی شخصیت تھے، جو کسی کے بارے میں تکلف، رواداری یا سیاسی ملاحظات کو سامنے رکھ کر گفتگو نہ کرتے۔ امام خمینی ایک طرف فقیہ جامع الشرائط تھے اور دوسری طرف عارف بالله تھے، ان سے کسی ایسے جملے یا تحریر کی توقع عبث ہے، جو کسی فرد یا قوم کو خوش کرنے یا ان کی توجہ اپنی ذات کی طرف مبذول کرانے کے لئے کرتے ہوں۔ میں اپنی معلومات کی روشنی میں یہ دعویٰ کرسکتا ہوں کہ صرف دو شخصیات ایسی ہیں، جن کے تمام افکار و نظریات کی امام خمینی نے تائید کی ہے  اور یہ تائید ان دونوں شخصیات کے نام تعزیت ناموں میں واضح طور پر درک کی جا سکتی ہے، وه دو شخصیات استاد شہید مرتضیٰ مطہری اور علامہ سید عارف حسین الحسینی ہیں. امام خمینی نے جس طرح شہید مطهری کے افکار و نظریات کی مکمل تائید کرتے ہوئے ان سے رجوع کرنے کی تلقین فرمائی ہے، اسی طرح شہید حسینی کے بارے میں واضح طور پر کہا ہے کہ "افکار این شهید را زنده نگهدارید۔" اس شہید کے افکار کو زنده رکھیں۔

پس یہاں پر سوال یہ اٹھتا ہے کہ و کون سے افکار و نظریات ہیں، جن کے بارے میں امام خمینی (رہ) نے تاکید فرمائی ہے کہ انہیں زنده رکھا جائے اور شیطان زادوں کو اجازت نہ دی جائے کہ حقیقی محمدی اسلام کی راه میں رکاوٹ ڈالیں۔ اس سوال کا جواب بھی امام خمینی نے اپنے تعزیتی خط اور شہید حسینی نے اپنے عمل و کردار اور محراب عبادت میں خون کا نذرانہ دے کر دے دیا ہے۔ امام خمینی نے اپنے تعزیتی خط میں جن نظریات کی طرف اشاره کیا ہے، اس میں سے سب سے نمایاں اسلام کی دو تشریحات و تعبیریں ہیں۔
 
اسلام امریکائی و حقیقی و خالص محمدی اسلام
حقیقی اسلام محروموں و مظلوموں و مستضفین کا حامی ہے، حقیقی اسلام عدل و انصاف کا پرچار کرنے والا ہے، حقیقی اسلام کے علماء شہادت و مبارزه کی راه پر گامزن ہوتے اور جام شهادت نوش کرتے ہیں۔ امریکی اسلام کے نام نہاد علماء زرپرست، دنیا طلب، باطل کی ترویج کرنے والے اور ظالموں اور ظلم کی تعریف و قصیده پڑھنے والے ہوتے ہیں۔ حقیقی محمدی اسلام کے علماء خدا و خلق خدا کی خدمت کے عاشق ہوتے ہیں، غریبوں اور محروموں کی حمایت میں بے چین و بے تاب رہتے ہیں، کفر و شرک کے ساتھ مبارزے میں جان کی قربانی سے دریغ نہیں کرتے۔ امریکائی اسلام کے پیروکار مقدس نما پائے متحجر یعنی خشک مقدس، سرمایہ داران، خدا نشناس اور .... بے درد یعنی عیش و عشرت کے دلداده تجمل پسند ہوتے ہیں۔ حقیقی اسلام محمدی کے علماء ولایت خدا و پیامبر و ولایت معصومین کی رسی سے متصل اور جڑے ہوتے ہیں، اس کے مقابلے میں آنے والی ہر طاقت اور قوت کے مخالف ہوتے ہیں اور اپنی اس خصوصیت پر فخر و مباہات بھی کرتے ہیں۔
 
یہ وه بنیادی نکات ہیں، جس کی طرف امام خمینی نے اشاره فرمایا ہے کہ یه صفات ایک حقیقی اور اسلام ناب محمدی کی تبلیغ کرنے والے رہنما عالم دین اور مبلغ میں ہونی چاہیں۔ امام خمینی یہ صفات بیان کرنے کے بعد صراحت سے فرماتے ہیں کہ جو بھی اس راه پر چلے گا، اس کا حسن اختتام شہادت ہے۔ اس راستے کی منزل لقاءالله ہے۔ چونکہ شہید عارف حسین الحسینی بھی اسی راستے کے راہی تھے، لہذا شهادت ان کا مقدر تھی۔ امام خمینی (رہ) اور شہید عارف الحسینی نے اپنے عمل و کردار سے محمدی اسلام اور امریکی اسلام کے درمیان حد فاصل کھینچ دی ہے، اب ہم نے جائزه لینا ہے کہ ہم اور اپنے ارد گرد رہنماء/علماء اور نام نہاد علماء میں کون اسلام محمدی کی راه پر گامزن ہے۔ کون محروموں اور مستضعفوں کا حامی ہے، کون قدامت پسندوں، سرمایہ داروں اور عیش و عشرت میں گم حکمرانوں، سیاستدانوں، امراء اور تجملات کے دلداده افراد کی کاسہ لیسی میں مصروف ہے۔

ہمیں اس بات کا جائزه لینا ہے کہ ہم میں سے کون ولایت خدا، ولایت پیامبر اور ولایت آئمہ معصومین کو اپنے لئے فخر و مباہات سمجھتے ہوئے کفر و شرک کے خلاف نبرد آزما ہے۔ آج ہمیں یه جائزه لینا ہے کہ کون سے نام نہاد علماء نے آسائش و آرام اور سہولیات کا راستہ اپنا کر محرموں، مظلوموں اور مستضعفین کی حمایت کو ترک کرکے شاہی درباروں/باطل حکومتوں اور طاغوت کی خدمت کو اپنا نصب العین بنا لیا ہے۔ کون ہے جو اپنی ذات اور انا کے پنجرے میں بند ذاتی مفادات کو اجتماعی مفادات پر ترجیج دے رہا ہے۔ امام خمینی اور شہید حسینی کے افکار و نظریات نیز رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت الله سید علی خامنہ ای پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ بصیرت، شعور، آگاہی اور قوت شناخت کو الہٰی و آسمانی بناِؤ اور قوم، ذات، تنظیم، انجمن، گروه اور پارٹی بازی کے تنگ و باریک حصار سے نکل کر اسلام کے آفاقی نظریئے کو نصب العین قرار دیکر آسمانی راہوں کو عبور کرکے خوشنودی خدا اور معراج عبادت حق سے عروج خونین "ارجعی الی ربک" کا نظاره کرتے ہوئے وصال یار کے شربت شہادت کو نوش کرو۔ خداوند عالم اس کمال کے سفر میں ہمارا حامی و ناصر ہو۔
خبر کا کوڈ : 742729
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب