?>?> تحریک انصاف کے اسد قیصر قومی اسمبلی کے نئے اسپیکر منتخب - اسلام ٹائمز
0
Wednesday 15 Aug 2018 15:29

تحریک انصاف کے اسد قیصر قومی اسمبلی کے نئے اسپیکر منتخب

تحریک انصاف کے اسد قیصر قومی اسمبلی کے نئے اسپیکر منتخب
اسلام ٹائمز۔ الیکشن 2018ء میں منتخب ہونے والے اراکین قومی اسمبلی نے خفیہ رائے شماری کے ذریعے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور خیبر پختونخوا اسمبلی کے سابق اسپیکر اسد قیصر کو ایوان زیریں کا اسپیکر منتخب کرلیا۔ سابق اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے اعلان کیا کہ پی ٹی آئی کے اسد قیصر نے 176 ووٹ حاصل کئے جبکہ خورشید شاہ نے 146 ووٹ حاصل کئے اور 30 ووٹوں کی برتری سے اسد قیصر اسپیکر قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ مذکورہ اعلان کے بعد ایاز صادق نے اسد قیصر سے قومی اسمبلی کے اسپیکر کا حلف لیا، اس دوران مسلم لیگ (ن) کے اراکین نے احتجاج کیا اور ایوان میں شدید نعرے بازی کی۔ جس پر قومی اسمبلی کے نئے اسپیکر اسد قیصر نے ایوان کو متعدد مرتبہ 'آرڈ' میں آنے کے لئے کہا لیکن احتجاج جاری رہا، اس پر اسپیکر نے اجلاس میں کچھ دیر کا وقفہ کرنے کا اعلان کیا اور ساتھ ہی ایوان کو بتایا کہ کچھ دیر بعد اجلاس کا دوبارہ آغاز ہوگا اور اس میں ڈپٹی اسپیکر کے لئے خفیہ رائے شماری کی جائے گی۔

تفصیلات کیمطابق پاکستان تحریک انصاف کے اسد قیصر اسپیکر قومی اسمبلی منتخب ہوگئے۔ مجموعی طور پر 330 ووٹ کاسٹ کئے گئے جن میں سے اسد قیصر نے 176ووٹ حاصل کئے، ان کے مدمقابل متحدہ اپوزیشن کے نامزد کردہ خورشید شاہ نے 146 ووٹ لئے جبکہ 8 ووٹ مسترد ہوئے۔ ایوان میں جیسے ہی اسپیکر کے منتخب ہونے کا اعلان ہوا تو مسلم لیگ نون کے ارکان نے نعرے بازی شروع کر دی، جس پر تحریک انصاف کے کھلاڑیوں نے بھی بھرپور جواب دیا۔ قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران پی پی رکن شازیہ مری نے اعتراض اٹھایا جس پر دوبارہ گنتی ہوئی۔ ووٹ ڈالنے کا سلسلہ صبح ساڑھے دس بجے کے بعد شروع ہوا اراکین نے باری باری آکر ووٹ کاسٹ کیا۔ عمران خان توجہ کا مرکز بنے رہے، عمران خان بنی گالا سے کاررواں کی صورت میں قومی اسمبلی پہنچے تو میڈیا نے گھیر لیا، میڈیا کی جانب سے پنجاب کی وزارت عظمٰی کے سوال پر چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا وزیراعلٰی پنجاب کا نام جلد فائنل کرنے کے اعلان کر دیا جائے گا۔ اسکور بورڈ کی صورتحال پر صحافی کے سوال پر ان کا کہنا تھا پچ اچھی ہے، ٹاس بھی جیت لیا ہے۔

الیکشن 2018ء میں اراکین قومی اسمبلی کی حلف برداری کے بعد آج (بدھ) کو اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کے لئے ایوان زیریں کے اجلاس کا آغاز ممکنہ طور پر 10 بجے ہونا تھا لیکن اراکین کی آمد میں تاخیر کے باعث اجلاس کا آغاز 10 بج کر 40 منٹ پر ہوا۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اپنے اپنے اراکین قومی اسمبلی کے ساتھ اجلاس میں شریک ہوئے جبکہ مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اپنے بھائی نواز شریف کی احتساب عدالت میں پیشی کے باعث تاخیر سے اجلاس میں شریک ہوئے۔ اجلاس سے قبل تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی، اسد قیصر کو اسپیکر کے عہدے پر کامیاب کروانے کے لئے لابنگ میں مصروف رہے اور انہوں ںے مختلف ارکان کی نشستوں پر جا کر ووٹ کی درخواست کی جبکہ عمران خان نے صاحبزادہ محبوب سلطان کی نشست پر جا کر ان کی مرحومہ والدہ کے لئے فاتحہ خوانی کی۔

ایوان زیریں کا اجلاس اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت شروع ہوا، جس میں اسمبلی کے نئے اسپیکر کا انتخاب خفیہ رائے شماری کے ذریعے ہوا۔ اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے عہدے کے لئے 2، 2 امیدوار میدان میں تھے، جن میں اسپیکر کے عہدے کے لئے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اسد قیصر اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سید خورشید شاہ کے درمیان مقابلہ تھا اور اسد قیصر کامیاب رہے۔ دوسری جانب ڈپٹی اسپیکر کے لئے تحریک انصاف کے قاسم سوری اور اپوزیشن کے اسعد محمود میدان میں ہیں۔ اجلاس کے آغاز میں کچھ نومنتخب اراکین اسمبلی نے حلف اٹھایا، یاد رہے کہ یہ اراکین، الیکشن کمیشن اور عدالتوں میں زیر التواء کیسز کے باعث 13 اگست کو حلف نہیں اٹھا سکے تھے۔
ْ
نئے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب سے متعلق اسپیکر ایاز صادق کے اعلان کے ساتھ ہی ایوان کو پولنگ اسٹیشن میں تبدیل کر دیا گیا، جس کے ساتھ ہی ووٹنگ کا عمل شروع ہوا اور یہ انتخاب قومی اسمبلی کے رول 9 (3) کے تحت ہوا۔ اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کے دوران کسی بھی رکن کو موبائل سے ووٹ کی تصویر بنانے کی اجازت نہیں تھی اور ہر ووٹر کو بیلٹ پیپر، سیکرٹری اسمبلی کی جانب سے جاری کئے گئے تھے۔ نئے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کے دوران دلچسپ صورتحال اس وقت دیکھنے میں آئی جب ووٹ کے لئے عمران خان کا نام پکارا گیا اور پی ٹی آئی چیئرمین پولنگ افسر کے سامنے پیش ہوئے لیکن ان کے پاس اسمبلی کا کارڈ موجود نہیں تھا جس پر انہوں نے اسپیکر ایاز صادق سے ووٹ ڈالنے کے لئے اجازت طلب کی اور جس پر اسپیکر نے انہیں ووٹ ڈالنے کی اجازت دے دی۔ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان اسپیکر کے لئے ہونے والے انتخاب میں ووٹ ڈالنے کے بعد کچھ دیر کے لئے قومی اسمبلی سے چلے گئے۔

انتخاب کے لئے امیدواروں نے اپنے 2، 2 پولنگ ایجنٹس کے نام اسپیکر کو دیئے تھے جبکہ ووٹرز لسٹ کے مطابق تمام ووٹرز نے ووٹ ڈالے، جس کے بعد اسپیکر نے ووٹنگ عمل کے اختتام کا اعلان کیا۔ اس کے بعد امیدواروں اور پولنگ ایجنٹس کی موجودگی میں ووٹوں کی گنتی شروع ہوئی، جس کے بعد اسپیکر ایاز صادق نے سب کے سامنے نتیجے کا اعلان کیا۔ الیکشن 2018ء میں منتخب ہونے والے اراکین قومی اسمبلی نے خفیہ رائے شماری کے ذریعے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور خیبرپختونخوا اسمبلی کے سابق اسپیکر اسد قیصر کو ایوان زیریں کا اسپیکر منتخب کیا۔ سابق اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے اعلان کیا کہ پی ٹی آئی کے اسد قیصر نے 176 ووٹ حاصل کئے جبکہ خورشید شاہ نے 146 ووٹ حاصل کئے اور 30 ووٹوں کی برتری سے اسد قیصر اسپیکر قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ مذکورہ اعلان کے بعد ایاز صادق نے اسد قیصر سے قومی اسمبلی کے اسپیکر کا حلف لیا، اس دوران مسلم لیگ (ن) کے اراکین نے احتجاج کیا اور ایوان میں شدید نعرے بازی کی۔

نئے اسپیکر نے اجلاس میں کچھ دیر کا وقفہ کرنے کا اعلان کیا اور ساتھ ہی ایوان کو بتایا کہ کچھ دیر بعد اجلاس کا دوبارہ آغاز ہوگا اور اس میں ڈپٹی اسپیکر کے لئے خفیہ رائے شماری کی جائے گی۔ ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کے بعد اسمبلی کا اجلاس اختتام پذیر ہوگا جبکہ آئندہ اجلاس میں وزیراعظم کے انتخاب کے لئے پولنگ ہوگی جس کے لئے پاکستان تحریک انصاف اور ان کے اتحادیوں کی جانب سے عمران خان جبکہ مسلم لیگ (ن) اور ان کے اتحادیوں کی جانب سے شہباز شریف کو نامزد کیا گیا، تاہم بدھ کے روز اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کے دوران ایک موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے شہباز شریف کو وزیراعظم کے عہدے کے لئے نامزد کرنے پر اعتراض اٹھایا۔

25 جولائی کو انتخابات کے بعد 13 اگست کو قومی اسمبلی کے پہلے اجلاس میں الیکشن میں کامیاب ہونے والے اراکین اسمبلی نے حلف اٹھایا تھا، ان میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سمیت دیگر نو منتخب اراکین اسمبلی شامل تھے۔ اسی روز سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کے اجلاس بھی ہوئے تھے جس میں اراکین صوبائی اسمبلی نے حلف اٹھایا تھا۔ مجموعی طور پر ملک کی 15ویں قومی اسمبلی کے پہلے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے اسپیکر ایاز صادق نے قومی اسمبلی کے 342 اراکین میں سے 328 ارکان سے حلف لیا تھا، جس کے بعد نو منتخب اراکین نے رول آف ممبر پر دستخط کئے تھے۔ واضح رہے کہ 25 جولائی کو ہونے والے انتخابات میں قومی اسمبلی کے 2 حلقوں پر انتخاب نہیں ہو سکا تھا جبکہ 8 امیدواروں نے اپنی زائد نشستیں چھوڑ دی تھیں، اس کے علاوہ خاتون کی ایک مخصوص نشست پر کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہو سکا تھا۔
خبر کا کوڈ : 744775
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش