0
Friday 17 Aug 2018 11:39

عمران خان کا سیاسی سفر

عمران خان کا سیاسی سفر
اسلام ٹائمز۔ پاکستان کے متوقع وزیراعظم عمران خان نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز 1996ء میں کیا اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے نام سے اپنی جماعت کی بنیاد رکھی۔ پاکستان کو 1992ء میں ایک روزہ کرکٹ میں عالمی کپ جتوانے والے عمران خان 5 اکتوبر 1952ء کو صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں پیدا ہوئے۔ ابتدا سے ہی وہ کرکٹ کے شوقین رہے اور قومی ٹیم میں شامل ہو کر ملک کے لیے خدمات انجام دیں اور 1992ء میں پاکستانی ٹیم کی نمائندگی کرتے ہوئے ملک کے لیے پہلا ورلڈ کپ لانے کا اعزاز حاصل کیا۔ ورلڈ کپ جیتنے کے بعد انہوں نے کرکٹ کو خیرباد کہہ دیا اور 1996ء میں سیاسی جماعت تحریک انصاف کی بنیاد رکھی، اس کے ساتھ ساتھ وہ فلاحی کام بھی کرتے رہے اور اپنی والدہ کے نام پر شوکت خانم کینسر ہسپتال قائم کیا۔
سیاسی سفر
1997ء میں عمران خان نے انتخابات میں 2 حلقوں این اے 53 میانوالی اور این اے 94 لاہور سے حصہ لیا، تاہم دونوں حلقوں میں انہیں مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں سے شکست ہوئی۔تاہم عمران خان اس ناکامی سے مایوس نہیں ہوئے اور انہوں نے اپنی جدو جہد جاری رکھی۔ 1999ء میں انہوں نے میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹنے والے پرویز مشرف کی حمایت کی۔ 2002ء میں عمران خان نے میانوالی کی نشست سے ہی انتخابات میں حصہ لیا اور کامیابی حاصل کی، وہ پی ٹی آئی کے واحد امیداور تھے جنہوں نے کامیابی حاصل کی تھی۔ 2007ء میں صدارتی انتخاب کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دیا، جس کی وجہ سابق آرمی چیف جنرل (ر) پرویز مشرف کی اپنے عہدے سے مستعفی ہوئے بغیر انتخاب میں حصہ لینا تھا۔ اسی سال مشرف انتظامیہ پر تنقید کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران مختصر عرصے کے لیے قید بھی کاٹی۔ 2008ء میں پرویز مشرف کے باوردی صدر ہونے کے باعث عام انتخابات کا بائیکاٹ کیا۔

2011ء میں لاہور میں ایک بڑا جلسہ کرکے تحریک انصاف کو دوبارہ سے عوام کے سامنے لے کر آئے اور سیاست میں قدم مضبوط کرنے کی جدوجہد کرتے رہے۔ 2012ء میں امریکا کی جانب سے کیے جانے والے ڈرون حملوں کی سخت مخالفت کی اور وزیرستان کی طرف مارچ کیا اور نیٹو سپلائی روٹ کو بلاک کر دیا۔ 2013ء میں ملک میں عام انتخابات ہوئے اور انہوں نے ایک سے زائد نشستیں حاصل کیں جبکہ تحریک انصاف صوبہ خیبرپختونخوا میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی۔ تاہم عام انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ(ن) کو نوازے جانے پر دھاندلی کا الزام لگایا اور 2014ء میں لاہور سے اسلام آباد تک احتجاجی ریلی نکالی۔ اسی ریلی کو اسلام آباد میں ڈی چوک پر احتجاجی دھرنے میں تبدیل کیا اور 4 ماہ تک وفاقی دارالحکومت میں طویل ترین دھرنا دیا۔ 2016ء میں پاناما پیپزل کا معاملہ سامنے آیا اور عمران خان نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی، جس پر عدالت نے جولائی2017ء میں فیصلہ دیتے ہوئے نوازشریف کو نااہل قرار دیا۔ 2018ء کے انتخابات میں تحریک اںصاف ایک مضبوط قوت بن کر ابھری اور عام انتخابات میں عمران خان نے قومی اسمبلی کی 5 نشستوں سے حصہ لیا اور کامیابی حاصل کی۔ اسی طرح تحریک انصاف نے قومی اسمبلی بھی مجموعی طور پر 158 نشستیں حاصل کیں اور سرفہرست رہی۔

اہم معاملات پر موقف
عمران خان نے خود کو خاص طور پر اگر مالی بدعنوانی کی بات کی جائے تو ایک بے داغ شہرت کے حامل شخص کے طور پر عوام میں منوایا ہے، انہوں نے 2013ء کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف 2014ء میں دارالحکومت اسلام آباد میں 126 دن طویل دھرنا دیا اور نواز شریف کے استعفے کا مطالبہ کیا، تاہم پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر حملے کے بعد اپنے دھرنے کے اختتام کا اعلان کیا، جب پاناما پیپرز سامنے آئے، تو عمران خان نے ایک دفعہ پھر وزیرِ اعظم کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ عمران نے مستقل امریکی ڈرون حملوں کی مخالفت کی ہے اور 2012ء میں انہوں نے حملوں کے خلاف احتجاج کے طور پر جنوبی وزیرستان تک لانگ مارچ بھی کیا۔ پی ٹی آئی کے سربراہ ماضی میں غیر ملکی امداد کی مخالفت کرتے رہے ہیں جبکہ وہ ٹیکس نظام میں اصلاحات اور جاگیرداری نظام کے خاتمے کے حامی ہیں۔ عمران خان وفاق کے زیر انتظام علاقوں فاٹا میں فوجی آپریشن کے ہمیشہ مخالف رہے ہیں، جبکہ وہ عسکریت پسندوں سے مذاکرات کی بات بھی کرتے رہے ہیں۔ بسا اوقات ‘سیاست سے نابلد’ اور سخت گیر کہلانے والے عمران خان کو طالبان کا حامی بھی قرار دیا جاتا رہا ہے، بی بی سی کے پروگرام ہارڈ ٹاک میں انہوں نے قبائلی علاقوں میں موجود جرگہ نظام کی تعریف کی، جسے افغانستان میں طالبان بھی نافذ کر چکے ہیں۔ عام طور پر ایک ‘صاف’ سیاستدان قرار دیے جانے والے عمران خان اکثر اوقات میرٹ پر مبنی نظام اور نظامِ انصاف کے قیام کا حامی ہونےکا دعویٰ کرتے ہیں۔ پی ٹی آئی کے سربراہ قومی یکجہتی پر بھی زور دیتے ہوئے لسانی سیاست کے خاتمے پر زور دیتے ہیں۔ کچھ مواقع پر ان پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ 2013ء میں عام انتخابات کے نتیجے میں منتخب ہونے والے وزیرِ اعظم نواز شریف کو نکالنے کے لیے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ سازش میں شریک تھے۔
خبر کا کوڈ : 745032
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے