0
Wednesday 26 Sep 2018 06:49

ٹرمپ کی جنرل اسمبلی میں تقریر کے دوران غیر معمولی زور دار قہقہے

ٹرمپ کی جنرل اسمبلی میں تقریر کے دوران غیر معمولی زور دار قہقہے
اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا صرف اپنے اتحادی ممالک کو امداد دے گا۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں عالمی رہنماؤں کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک، چین کی تجارتی پالیسیوں اور عالمی عدالت انصاف پر شدید تنقید کی۔ امریکی خبر رساں ادارے اے پی کی رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی تقریر میں کہا کہ ہم جانچ لیں گے کہ کیا کارآمد ہے اور جو کارآمد نہین، وہ ممالک جو ہماری امداد لے رہے ہیں کیا ان کے دل میں بھی ہمارے مفادات ہیں کہ نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم آگے بڑھتے ہوئے صرف انہیں امداد دیں گے جو ہماری عزت کرتے ہیں اور ہمارے دوست ہیں۔ اس کے علاوہ امریکی صدر نے تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کے ارکان پر الزام لگایا کہ جب میں نے تیل کی قیمتیں کم کرنے کا کہا تو انہوں نے دنیا کو لوٹا۔
 
ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کو بتایا کہ امریکا کم قیمت پر تیل، کوئلہ اور قدرتی گیس بر آمد کرنے کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اوپیک اور اوپیک کے رکن ممالک باقی دنیا کو لوٹ رہے ہیں، جو مجھے نہیں پسند اور کسی کو بھی پسند نہیں ہونا چاہیے۔ اس کے علاوہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے خطاب میں ایران اور واشنگٹن کے تجارتی شراکت داروں پربھی دباؤ بڑھانے کی کوشش کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہماری ٹیم نے اس ملک کی تاریخ میں سب سے زیادہ کام کیا ہے جس پر جنرل اسمبلی میں غیر معمولی زور دار قہقہے لگے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ان قہقہوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ مجھے اس رد عمل کی امید نہیں تھی، لیکن کوئی بات نہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں اسرائیل، سعودی عرب اور بھارت کی تعریف کی جبکہ ایران، شام اور وینز ویلا پر کڑی تنقید کی۔اس کے علاوہ اپنے دورِ صدارت میں امریکی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی کامیابی، امریکی مضبوطی اور دولتمندی کا دعویٰ بھی کیا۔ بھارت کو ایک ارب آبادی والا فری سوسائٹی کا ملک قرار دیا جبکہ سعودی عرب میں کی جانے والی اصلاحات اور اسرائیل کو مقدّس سرزمین پر پھلتی پھوتی جمہوریت کہہ کر مخاطب کیا۔ ایرانی قیادت پر کرپشن اور ڈکٹیٹر شپ کے علاوہ ایٹمی پھیلائو کے الزامات، شام کے بشار الاسد کے حوالے سے کیمیاوی ہتھیاروں کا ذکر اور وینز ویلا میں صدر مودورے کے خلاف عوامی بغاوت کا ذکر کرتے ہوئے دنیا سے اپیل کی کہ وہ اپنا کردار ادا کرے۔
خبر کا کوڈ : 752216
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش