0
Thursday 11 Oct 2018 10:47

سی پیک میں سعودی عرب سمیت کسی ملک کی شمولیت پر اعتراض نہیں، چینی سفیر یاؤ جنگ

سی پیک میں سعودی عرب سمیت کسی ملک کی شمولیت پر اعتراض نہیں، چینی سفیر یاؤ جنگ
اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں متعین چینی سفیر یاؤ جنگ کا کہنا ہے کہ پاکستان کی نئی حکومت نے سی پیک معاہدہ پر نظر ثانی کی ہے اور راہداری منصوبے کو مزید وسعت دینے اور زیادہ تیزی سے کام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ اگلے مرحلے میں مشترکہ اور سماجی اقتصادی منصوبوں پر توجہ دینے، بلوچستان اور خیبر پشتونخوا کو زیادہ وسائل اور منصوبے دینے کا فیصلہ ہوا ہے۔ سی پیک میں سعودی عرب سمیت سرمایہ کاری کے خواہشمند کسی ملک یا کمپنی کی شمولیت پر اعتراض نہیں۔ انہیں راہداری منصوبے میں شمولیت پر خوش آمدید کہا جائیگا۔ وزیراعلٰی بلوچستان کی تجویز پر کوئٹہ میں سماجی اقتصادی سینٹر قائم کیا جائیگا۔ یہ بات انہوں نے کوئٹہ کے دو روزہ دورہ کے اختتام پر پریس کلب کوئٹہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر کراچی میں متعین سندھ اور بلوچستان کیلئے چین کے قونصل جنرل وانگ یو، گوادر پورٹ، حبکو اور سیندک سمیت بلوچستان میں مختلف منصوبوں پر کام کرنیوالی چینی کمپنیوں کے حکام بھی موجود تھے۔ چینی سفیر یاؤ جنگ نے کہا کہ سی پیک معاہدہ ایک باقاعدہ فریم ورک کے تحت ہوا ہے اور یہ دونوں حکومتوں کی ویب سائٹ پر موجود ہے، کوئی بھی وہاں جاکر اس کا جائزہ لے سکتا ہے۔ نئی حکومت نے بھی اس کا جائزہ لیا۔ 2013ء میں جب سی پیک کا معاہدہ ہوا تو سابقہ حکومت قائم تھی۔ انتخابات کے نتیجے میں نئی حکومت بنی اور اس کا سی پیک کا جائزہ لینا اور نظرثانی کرنا فطری بات ہے۔ یہ سچ ہے کہ ہم نے اس معاہدے کا جائزہ لیا اور نظرثانی کی، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ چین اور پاکستان کی حکومتیں سی پیک کو مزید وسعت دینے اور اس پر تیزی سے کام کرنے کیلئے پرعزم ہیں۔

سی پیک کے تمام زیر تکمیل منصوبوں پر دونوں ممالک کی جانب سے کام جاری جاری رکھنے اور انہیں مکمل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اگلے مرحلے میں مشترکہ سرمایہ کاری اور سماجی اقتصادی شعبوں پر توجہ دی جائے گی۔ ہم نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ مغربی صوبوں (بلوچستان اور خیبر پشتونخوا) کو مزید وسائل دیئے جائیں گے۔ حکومت نئے ایجنڈے، وژن اور سوچ کے ساتھ آئی ہے، تاہم معاہدہ میں یہ بات شامل ہے کہ ہر فیصلہ باہمی مشاورت سے کیا جائے گا۔ نئی حکومت کے ساتھ بات چیت کے بعد ہم آگے بڑھ رہے ہیں۔ یہ مشترکہ فیصلہ بھی ہوا ہے کہ سی پیک مزید قابل استعداد فریقین کی شمولیت کیلئے کھلا ہوگا۔ سعودی عرب نے سی پیک منصوبوں میں سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ چین سمجھتا ہے کہ سی پیک ریجنل پلیٹ فارم ہے، ہمیں سی پیک منصوبوں میں سعودی سرمایہ کاری پر کوئی اعتراض نہیں۔ ہم سی پیک میں شمولیت کے خواہشمند استعداد رکھنے والے ہر فریق کو خوش آمدید کہیں گے۔ یہ فریق کوئی مخصوص ملک ہی نہیں، بلکہ کوئی بین الاقوامی اقتصادی ادارہ بھی ہو سکتا ہے۔ سی پیک میں پہلے ہی کئی دیگر ممالک کی کمپنیاں اور ادارے شامل ہیں۔ کراچی، لاہور اور کراچی تا پشاور موٹر ویز پر ایشین ڈویلپمنٹ بینک اور ایشین انفراسٹرکچر جیسے ادارے کام کر رہے ہیں۔ ہم نئی پاکستانی حکومت کے ساتھ اس بات پر متفق ہے کہ نئے شراکت داروں کو خوش آمدید کہا جائیگا۔ سی پیک سے متعلق بلوچستان کی سیاسی جماعتوں کے اعتراضات سے متعلق سوال پر یاؤ جنگ نے واضح کیا کہ چین سی پیک کے مغربی اور مشرقی روٹ کی تفریق نہیں کرتا۔ ہم پورے پاکستان کو دیکھتے ہیں۔ ہم قومی اور ملکی سطح پر چلتے ہیں۔

بعض حلقوں کی جانب سے شکایات ہوئی ہیں، جسے ہم سمجھتے ہیں۔ سی پیک میں گذشتہ پانچ سالوں کے دوران انفراسٹرکچر پر کام کیا گیا۔ سی پیک کے بیشتر پراجیکٹ گوادر میں ہی ہیں۔ ہم گوادر کے علاوہ حب میں پاورپلانٹ کا بڑا منصوبہ چلا رہے ہیں۔ کوئٹہ میں فنی تربیت کا ادارہ بنایا جا رہا ہے۔ سی پیک طویل مدتی منصوبہ ہے اور پانچ سال اتنے بڑے انفراسٹرکچر کے حامل منصوبے کیلئے کافی وقت نہیں۔ مرحلہ وار آگے بڑھنے کیلئے مزید وقت چاہیئے۔ بلوچستان طویل ساحلی پٹی رکھتا ہے، لیکن ایسا گوادر کے علاوہ مزید پانچ سے چھ بندرگاہوں پر کام کرنا سائنسی طور پر درست نہیں ہوگا۔ جہاں انفراسٹرکچر موجود ہے، اسے استعمال کیا جائیگا۔ مغربی روٹس کیلئے بھی ہم موٹرویز اور ہائی ویز کے منصوبے رکھتے ہیں۔ گوادر کو افغانستان اور وسطی ایشیاء سے منسلک کرنے کیلئے بلوچستان اور خیبر پشتونخوا اہم ہے۔ بلوچستان میں زرعی شعبے بالخصوص پھلوں کی پیداوار اور پراسیسنگ کے معاملے پر تکنیکی معاونت فراہم کرنے کریں گے۔ صوبے میں لوگوں کی معیار زندگی بہتر بنانے کیلئے چینی کمپنیاں اور حکومت اقدامات کرے گی۔ سی پیک کا سب سے زیادہ فائدہ بلوچستان کو ملنا چاہیئے۔ چین اور پاکستان دیرینہ دوست ہیں۔ پاکستان میں وفاق اور صوبے میں نئی حکومت بننے کے بعد شراکت داری اور باہمی تعاون میں مزید وسعت آرہی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تمام ہی شعبوں میں تعاون ہو رہا ہے۔ بلوچستان سی پیک کے فریم ورک کا بہت اہم حصہ ہے۔ نئی حکومت کے ساتھ ہم نے سی پیک پر بات چیت کی ہے۔ اب ہم سی پیک کا ایک نیا چہرہ اور نیا مرحلہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ بلوچستان سی پیک کے اگلے مرحلے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ گذشتہ پانچ سالوں میں ہم نے سی پیک کے ذریعے چار چار چیزوں پر توجہ دی، جن میں گوادر پورٹ، انفراسٹرکچر، توانائی اور اسپیشل اکناک زون شامل ہیں۔

اسپیشل اکنامک زون سے متعلق ہمارے مذاکرات جاری ہیں۔ ہم اس کے تحت باہمی تعاون میں مزید وسعت لانا چاہتے ہیں۔ اگلے مرحلے میں مشترکہ سرمایہ کاری بالخصوص نجی سطح پر دو طرفہ کاروباری تعاون اور اسپیشل اکنامک زون پر توجہ ہوگی۔ سماجی اقتصادی شعبے کی ترقی کی یہ تجاویز نئی حکومت کی جانب سے آئی ہے۔ وزیراعظم عمران خان اور بلوچستان حکومت بھی نچلی سطح پر ترقی کے مواقع بڑھانے کے خواہشمند ہیں۔ وہ غربت کے خاتمے اور نچلی سطح پر ترقی کیلئے مقامی صنعتوں اور مینوفیکچرنگ کی صلاحیت میں اضافہ چاہتے ہیں۔ چین بھی سی پیک کے فریم ورک میں ان شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینا چاہتا ہے۔ وزیراعلٰی بلوچستان سے سی پیک سے متعلق تفصیلی بات چیت ہوئی۔ ہم نے ان سے تجاویز اور آئیڈیاز لینے کیلئے یہاں آئے کہ چین کس طرح صوبے کی سماجی اقتصادی ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکتا ہے۔ ہم نئی حکومت کی تجاویز پر سنجیدگی سے غور کرینگے۔ بلوچستان وسائل سے مالا مال ہے۔ خاص طور پر یہاں زراعت، گلہ بانی کے شعبوں میں باہمی طور پر کام ہوسکتا ہے اور ہم نے چیمبرز آف کامرز کو بھی دعوت دی کہ مشترکہ طور پر کام کیا جائے۔ بلوچستان میں چینی زبان کے مرکز، صوبے کے مختلف علاقوں میں فنی تربیت کے مراکز کے ساتھ کھیلوں کے فروغ میں بھی تعاون کو بڑھانا چاہتے ہیں۔

پاکستان اور چین روایتی دوست اور شراکت دار ہیں اور تقریباً معاشرے کے تمام ہی شعبوں میں باہمی تعاون موجود ہیں۔ سی پیک اس باہمی تعاون کا ایک نیا حصہ ہے۔ پاکستان میں بھی لوگ سی پیک کو ایک بڑے موقع کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ہم اس بات سے متفق ہے کہ سی پیک بلوچستان کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالے گا۔ کوئٹہ میں قونصلیٹ کے قیام سے متعلق تجاویز اپنی حکومت کے سامنے رکھیں گے، تاہم کراچی کا قونصل خانہ سندھ کے ساتھ ساتھ بلوچستان اور گوادر کے تمام پروجیکٹ اور معاملات کو دیکھ رہا ہے۔ مستقبل میں ہم بلوچستان میں مختلف مراکز قائم کر رہے ہیں۔ ان مراکز میں بھی ویزا اور کاروباری سرگرمیوں سمیت مختلف سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ چین بلوچستان میں 5 سے 10 سوشل اکنامک سیکٹر بنانے کے لئے کوشاں ہیں۔ اگلے سال فروری اور مارچ میں چائینز سرمایہ کار یہاں آئیں گے، براہ راست بیرونی سرمایہ کاری کے فروغ سے بلوچستان کی مقامی معیشت اور سماجی شعبہ مستحکم ہوگا۔ پاکستان کے رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے میں نہ صرف سی پیک کا محور گوادر موجود ہیں، بلکہ یہ صوبہ افغانستان اور ایران کے ساتھ طویل سرحدات اور ساحل بھی رکھتا ہے۔
خبر کا کوڈ : 755197
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب