0
Thursday 11 Oct 2018 21:27

احتساب کے نام پر کسی کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا تو بھر پور طریقے سے مخالفت کریں گے، پیپلز پارٹی

احتساب کے نام پر کسی کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا تو بھر پور طریقے سے مخالفت کریں گے، پیپلز پارٹی
اسلام ٹائمز۔ پاکستان پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ وہ منصفانہ اور شفاف احتساب کے خلاف نہیں ہے، لیکن احتساب کے نام پر اگر کسی کو سیاسی طور پر انتقام کا نشانہ بنایا گیا تو وہ اس کی بھرپور طریقے سے مخالفت کرے گی، پیپلز پارٹی نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا ہے کہ پارلیمنٹ اور اس کے باہر مختلف سیاسی جماعتوں کے مابین بڑھتی ہوئی کشیدگی اور لفظی جنگ جمہوری عمل کے لئے نیک شگون نہیں ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی سینئر لیڈر شپ کا ایک غیر معمولی اجلاس بلاول ہاؤس کراچی کے بجائے پارٹی کے رکن قومی اسمبلی سید نوید قمر شاہ کی قیام گاہ پر ہوا جس کی مشترکہ طورپر صدارت سابق صدر آصف علی زرداری اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کی۔ اجلاس میں ایم این اے فریال تالپور، سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی، راجہ پرویز اشرف، سید خورشید احمد شاہ، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، نثار احمد کھوڑو، نیئر بخاری، میاں رضا ربانی، منظور وسان اور دیگر رہنما بھی شریک ہوئے۔ پیپلز پارٹی کے قریبی حلقوں سے معلوم ہوا ہے کہ اجلاس کا مقصد ملک میں جاری موجودہ سیاسی صورتحال، احتساب کے نام پر پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت اور پارٹی کی سینئر لیڈر شپ کے گرد منڈلانے والے خطرات اور اس کے نتیجے میں مرتب ہونے والے ممکنہ سیاسی اور انتظامی اثرات کا جائزہ لیا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی اس وقت انتہائی دشوار اور صبر آزما صورتحال سے گزررہی ہے، ایک طرف اس کی اعلیٰ قیادت اور سینئر پارٹی لیڈر شپ کو منی لانڈرنگ اور کرپشن کے سنگین الزامات کا سامنا ہے اور دوسری جانب اس کی صوبائی حکومت سے اس کی گزشتہ دس سالہ حکومت کے مالی معاملات کا حساب کتاب مانگا جارہا ہے۔ باخبر زرائع کا کہنا ہے کہ احتساب کی جو تند و تیز لہر پنجاب سے شروع ہوئی تھی اب اس کا رخ بظاہر سندھ کی جانب نظر آتا ہے، اس صورتحال نے پوری پیپلز پارٹی کو ایک انجانے خوف اور پریشانی میں مبتلا کردیا ہے، پیپلز پارٹی کو صورتحال کی سنگینی کا پوری طرح اندازہ ہے اور غالبا اسی سبب جمعرات کو ہونے والا غیر رسمی مشاورتی اجلاس بلاول ہاوس کے بجائے سید نوید قمر کی رہائش گاہ پر منعقد کیا گیا، تاکہ اجلاس میں زیر بحث آنے والے امور کی راز داری کو برقرار رکھا جاسکے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں شریک بعض قانونی ماہرین نے اعلیٰ قیادت کے خلاف جے آئی ٹی کی جانب سے شروع کی جانے والی تحقیقات، اس کی جانب سے سندھ حکومت کے ایک درجن سے زائد انتظامی محکموں سے طلب کردہ ریکارڈ کے بارے میں بھی اپنا قانونی نقطہ نظر پیش کیا اور اس حوالے سے ممکنہ طور پر مرتب ہونے والے قانونی، انتظامی اور سیاسی مضمرات پر اظہار خیال کیا۔

اجلاس سے قبل پیپلز پارٹی سندھ کے ایک سینئر رہنما اور سابق صوبائی وزیر منظور حسین وسان نے کہا کہ ہم جیلوں سے ڈرنے والے لوگ نہیں ہیں، میں نیب کا مہمان بننے کو تیار ہوں، میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ سندھ کی جیلیں صاف کرا دی ہیں، وہاں کھانا بھی اچھا ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ مشرف کے دور میں بھی ہم نے جیلیں کاٹی ہیں اور ہماری قیادت بھی گرفتاریوں سے نہیں ڈرتی۔ منظور وسان نے کہا کہ اس قسم کی کارروائیوں سے کچھ نہیں ہونے والا، ملک اسی طرح چلتا رہے گا، تاہم سندھ میں انتقامی کارروائی کی گئی تو یہاں احساس محرومی جو پہلے ہی موجود ہے اور زیادہ بڑھے گا۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی احتساب کے خلاف نہیں لیکن انتقامی کارروائیوں پر شکایت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیر پگارا کے خلاف بھی نیب کا کیس ہے لیکن انہیں کیوں نہیں بلایا جاتا۔
خبر کا کوڈ : 755334
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب