0
Monday 15 Oct 2018 19:00

پشاور، ایم این سی ایچ ملازمین کا تنخواہوں کی بندش کیخلاف سول سیکٹریٹ میں دھرنا

پشاور، ایم این سی ایچ ملازمین کا تنخواہوں کی بندش کیخلاف سول سیکٹریٹ میں دھرنا
اسلام ٹائمز۔ صوبے بھر سے آئے ایم این سی ایچ کلاس فور ملازمین نے سول سیکٹریٹ پشاور میں اپنے مطالبات کے حق میں دھرنا دیا ہے۔ دھرنے میں شامل ملازمین کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی پچھلی صوبائی حکومت نے 8 مہینے پہلے تمام عارضی ملازمین کی مستقلی کے بارے میں بل پاس کیا تھا اور اس قانون سازی کے تحت دیگر اداروں میں کام کرنے والے عارضی ملازمین کی مستقلی کے احکامات ہوئے ہیں، لیکن ایم این سی ایج کے کلاس فور ملازمین کی تنخواہیں پچھلے 5 مہینوں سے بند کی گئی ہیں اور انکی مستقلی کے احکامات حکومت نے نظر انداز کئے ہیں۔ سیکریٹری ہیلتھ دفتر کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے ایم این سی ایچ کے ملازم بشیر احمد کا کہنا تھا کہ ان تمام ملازمین کا حکومت سے مطالبہ ہے کہ انکے مستقلی کا نوٹیفیکیشن جاری کیا جائے اور نکی بند تنخواہیں ریلیز کی جائیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ تنخواہوں کی بندش کی وجہ سے ملازمین کے گھروں میں فاقے پڑ رہے ہیں۔ وہ لوگ ایسے حالات میں اپنے بچوں کی تعلیم جاری نہیں رہ سکتے اور بعض ملازمین کرائے کے گھروں میں رہ رہے ہیں لیکن تنخواہوں کی بندش کے باعث گھروں کے کرائے بھی ادا نہیں کرپا رہے۔ دھرنے کے شرکاء نے کہا کہ وہ لوگ اسوقت تک اپنا احتجاج جاری رکھیں گے جب تک صوبائی وزیر صحت یا ہیلتھ سیکرٹری ان کے پاس نہیں آتے اور اس مسئلے کی وضاحت نہیں کرتے۔ محکمہ صحت کے ایک آفیسر سہیل نے اسی موقع پر میڈیا کو بتایا کہ ایم این سی ایج ملازمین کی مستقلی اور تنخواہوں کے جاری ہونے پر پراسیس شروع ہے اور جلد ہی یہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔
خبر کا کوڈ : 755995
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب