0
Monday 22 Oct 2018 21:48

کشمیری عوام کیساتھ وحشیانہ اور سفاکانہ کھلواڑ پچھلے 71 سال سے جاری ہے، سید علی گیلانی

کشمیری عوام کیساتھ وحشیانہ اور سفاکانہ کھلواڑ پچھلے 71 سال سے جاری ہے، سید علی گیلانی
اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر کل جماعتی حریت کانفرنس (گ) کے چیئرمین سید علی شاہ گیلانی نے شہداء بجبہاڑہ کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اُن کی بلندئ درجات اور مغفرت کے لئے دعا کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 22 اکتوبر 1993ء بجبہاڑہ میں معصوم طلباء حضرت بل سرینگر کو محاصرے میں لینے کے خلاف پُرامن احتجاج کررہے تھے، مگر بھارت کی بدمست فوج نے وحشیانہ اور سفاکانہ کارروائی کرکے خون کی ندیاں بہادی جس کے نتیجے میں تقریباً 40 لوگ شہید، جبکہ 200 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ان شہداء میں سے 25 معصوم بچوں کو اُسی پارک میں دفنایا گیا جہاں وہ صرف ایک روز قبل کھیلا کرتے تھے۔ حریت رہنما سید علی شاہ گیلانی نے کہا کہ آج جب حضرت بل سانحہ کے خلاف احتجاج کرنے کی پاداش میں شہید کردئے گئے سرفروشوں کو ہم سے جُدا ہوئے 25 سال ہوئے ہیں، مگر وہ زخم جو اُس وقت مظلوم قوم کو دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آج اتنا طویل عرصہ گزرنے کے بعد بھی ایک رستا ہوا ناسور بن کر مندمل ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے۔

کل جماعتی حریت کانفرنس (گ) کے چیئرمین نے کولگام میں بھارتی قابض فوج کی طرف سے برپا کی گئی قیامت صغریٰ پر گہری تشویش اور غم کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ معصوم اور عام لوگوں کو گاجر مولی کی طرح اپنے عزیز و اقارب کی آنکھوں کے سامنے کاٹا جارہا ہے، لیکن سفاک اور سنگدل ظالم اور جابر حکمرانوں کے پتھر دل اس کی معمولی سی ٹھیس بھی محسوس نہیں کرتے۔ انہوں نے درجن بھر زندگیوں کے چراغ گُل کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ آج تک بھارتی قابض فوج کے ہاتھوں ہم نے تقریباً ساڑے چھ لاکھ سرفروشوں کے لہو کا خراج پیش کیا ہے، بھارتی حکمرانوں کو اور کتنا خون چاہیے جس سے ان کی پیاس بُجھ جائے۔؟ انہوں نے ایسے انسانوں کو انسانیت کا سب سے بڑا دشمن قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب انسان اپنی اصلی حیثیت اور خصلت کھو جاتا ہے تو وہ خونخوار جنگلی جانوروں سے بھی بدتر حوانیت پر اُتر آتا ہے، وہ اپنے ہی جنس کے خون سے کھلواڑ کرکے انسانیت کے اعلیٰ مقام سے گِر کر پستیوں اور نچلے پن کی سب سے نچلی سطح پر آجاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انسانی زندگیوں سے یہ وحشیانہ اور سفاکانہ کھلواڑ پچھلے 71 سال سے جاری ہے اور اس کی تمام تر ذمہ داری بھارتی قابض طاقتوں اور اُن کے مقامی گماشتوں پر عائد ہوتی ہے، جس کی ملی بھگت سے عام اور بے گناہ کشمیریوں کا خون پانی سے بھی سستا ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس خونِ ناحق کے لیے ذمہ دار لوگوں کی نہ کوئی باز پرس ہوتی ہے اور نہ ہی کسی کو جوابدہی کے مقام پر لاکھڑا کیا جاتا ہے۔ سید علی گیلانی نے کہا کہ سیتا کے پجاری بڑی بے شرمی اور بے حیائی سے صنف نازک کو بھی موت کے گھاٹ اتار کر اپنی ’’بہادری اور دیش بھگتی‘‘ کا ثبوت دیتے ہیں۔ حریت کانفرنس (گ) کے چیئرمین نے آئے روز بھارتی حکمرانوں کی طرف سے غرور اور تکبر کے نشے میں یہاں کے عوامی جذبات کو بزور طاقت دبانے کے اشتعال انگیز بیانات جلتی پر تیل کا کام کرتے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 757321
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب