0
Tuesday 30 Oct 2018 18:06
اسلام آباد کے آئی جی منتخب نمائندے کا فون اٹینڈ نہیں کرتے

وزیراعظم سیاسی دباؤ کے ذریعے آئی جی اسلام آباد کو انکے عہدے سے ہٹائیں، فواد چودھری کا غیر منطقی موقف

وزیراعظم سیاسی دباؤ کے ذریعے آئی جی اسلام آباد کو  انکے عہدے سے ہٹائیں، فواد چودھری کا غیر منطقی موقف
اسلام ٹائمز۔ وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری نے انسپکٹر جنرل اسلام آباد پولیس کو سیاسی دباؤ پر ہٹائے جانے کی انوکھی منطق پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وزیراعظم ایک آئی جی کو معطل بھی نہیں کرسکتا تو الیکشن کروانے کی کیا ضرورت تھی۔ ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ کوئی آئی جی وفاقی وزیر کا فون نہ اٹھائے۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ دارالحکومت کے تعلیمی اداروں میں منشیات فروخت ہو رہی ہے, تھانوں اور ناکوں پر رشوت لی جارہی ہے مگر آئی جی اسلام آباد کوئی ایکشن ہی نہیں لے رہے، جس کی شہریار آفریدی نے بھی وزیراعظم سے تحریری شکایت کی ہے۔ فواد چوہدری نے کہا کہ اسلام آباد کے آئی جی منتخب نمائندے کا فون اٹینڈ نہیں کرتے تھے تاہم وفاقی وزیر نے یہ وضاحت نہیں کی کہ منتخب نمائندہ فون کس لئے کر رہا تھا۔ وفاقی وزیر نے اعظم سواتی کی سیاسی مداخلت اور ایک غریب خاندان کو پولیس کے ہاتھوں گرفتار کروانے کا سوال گول کرتے ہوئے کہا کہ بات آئی جی کی ہو رہی ہے، اعظم سواتی کا درست یا غلط ہونا مسئلہ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ سب سے قابل اعتماد ادارہ ہے۔ ہمیں یقین ہےکہ اعلٰی عدالت ہمارا موقف سن کر حق پر مبنی فیصلہ دے گی۔ واضح رہے کہ آئی جی اسلام آباد کو خلافِ معمول چھٹی کے دن عہدے سے ہٹا کر نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا، جس پر انکشاف ہوا کہ انہیں وفاقی وزیر اعظم خان سواتی کا فون نہ سننے پر ہٹایا گیا ہے۔ سپریم کورٹ نے پولیس میں سیاسی مداخلت کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے حکومت سے جواب طلب کیا ہے۔ گذشتہ روز اٹارنی جنرل نے عدالت عظمٰی کو بتایا کہ آئی جی کو وزیراعظم کے زبانی احکامات پر ہٹایا گیا۔
خبر کا کوڈ : 758580
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب