0
Friday 2 Nov 2018 01:47

فوج اور اعلیٰ عدلیہ کے خلاف آنیوالے بیانات غیر مناسب ہیں ہم اس کی حمایت نہیں کرتے، ثروت اعجاز قادری

فوج اور اعلیٰ عدلیہ کے خلاف آنیوالے بیانات غیر مناسب ہیں ہم اس کی حمایت نہیں کرتے، ثروت اعجاز قادری
اسلام ٹائمز۔ وفاقی وزیر مذہبی امور نور الحق قادری نے کہا کہ بیرونی و استحصالی قوتیں پاکستان میں انتشار پھیلا کر ملک کو نقصان پہنچانا چاہتی ہیں، احتجاجی دھرنے کے شرکاء و قائدین سے افہام و تفہیم کے ساتھ مذاکرات کرنا چاہتے ہیں، فوج اور دیگر اداروں کے خلاف بیانات غیر مناسب ہیں، عدلیہ کے فیصلے پر عوام مطالبہ کررہے ہیں کہ اس فیصلے پر نظر ثانی کرے۔ سربراہ سنی تحریک ثروت اعجاز قادری نے کہا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ فیصلے پر نظر ثانی کرے، انگریزوں کے قانون کے مطابق نہیں بلکہ اسلامی قوانین کے تحت ملعونہ کو انجام تک پہنچانا چاہیئے، اعلیٰ عدلیہ ملعونہ کے کیس کو شرعی عدالت میں بھیجے۔ ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر مذہبی امور اور سربراہ پاکستان سنی تحریک ثروت اعجاز قادری نے ٹیلی فونک گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر مذہبی امور نور الحق قادری نے کہا کہ بیرونی و استحصالی قوتیں پاکستان میں انتشار پھیلا کر ملک کو نقصان پہچانا چاہتی ہیں، احتجاجی دھرنے کے شرکاء و قائدین سے افہام و تفہیم کے ساتھ مذاکرات کرنا چاہتے ہیں اور مذاکرات سے ہی مسئلے کا حل نکالا جاسکتا ہے، فوج اور دیگر اداروں کے خلاف بیانات غیر مناسب ہیں، ملک دشمن قوتیں پاکستان کو کمزور کرنے کی سازشوں میں مصروف ہیں، علماء کرام و مشائخ موجودہ حالت میں مثبت کردار ادا کریں، یکجا ہوکر ہی بیرونی سازشوں اور گستاخی رسول کرنیوالوں کو انجام تک پہنچایا جاسکتا ہے، عدلیہ کا فیصلہ ہے اس پر عوام مطالبہ کررہے ہیں کہ اس فیصلے پر نظرثانی کرے۔

ثروت اعجاز قادری نے کہا کہ ملعونہ عاصیہ مسیح رہائی کے ناپسندیدہ فیصلے پر عوام کا پر امن احتجاج اور دھرنا جمہوری حق ہے، وزیراعظم کا خطاب جارحانہ تھا، مسئلے کو مذاکرات سے حل کرنا چاہیئے تھا، اہلسنت ملک کی اکثریت امن پسند اور بانیان پاکستان کی اولادیں ہیں، ملک بھر میں عاشقان رسول کے احتجاجی مظاہرے اور دھرنے ان کا جمہوری حق ہے، حکومت جارحانہ اقدام یا ریاستی مشینری کے استعمال سے دریغ کرے اس کے منفی نتائج نکلیں گے، گستاخ رسول عاصیہ مسیح کے حوالے سے شروع سے ہمارا موقف رہا ہے کہ کسی بھی گستاخ رسول کو کسی بھی قسم کی کوئی رعایت نہیں ملنی چاہیئے کیونکہ یہ ہمارے ایمان کا مسئلہ ہے، ہم عدالتی فیصلوں کا احترام کرتے ہیں لیکن ماضی میں بھی ایسی مثالیں موجود ہیں کہ ہماری عدالتوں نے ناموس رسالت ﷺ پر بیرونی دباؤ پر فیصلے دیئے ہیں، آسیہ ملعونہ کو ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ نے پھانسی کی سزا دی اور سپریم کورٹ نے ملعونہ کو بری کردیا ہے۔

ثروت اعجاز قادری نے کہا کہ یہ صورتحال عدالتی نظام پر سوال اٹھاتی ہے، ایسے اساس مقدمے کا اسپیڈلی ٹرائل بھی خدشات پیدا کرتا ہے جبکہ ملک میں لاکھوں مقدمات التواء کا شکار ہیں، یہ وہ وجوہات ہے جس کی وجہ سے کروڑوں مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی ہے اور عوام احتجاج کی طرف گئے ہیں، پاکستان سنی تحریک نے ہمیشہ پاک فوج کی حمایت کی ہے، فوج وہ واحد ادارہ ہے جو پاکستان کی بقاء و سلامتی کیلئے آگے نظر آتا ہے، فوج اور اعلیٰ عدلیہ کے خلاف آنیوالے بیانات غیر مناسب ہیں ہم اس کی حمایت نہیں کرتے، ہم اس کیس میں انصاف کے متقاضی ہیں اور کسی بھی گستاخ رسول کے کیس کو عام کیس کی طرح دیکھنے کی مخالفت کرتے ہیں، اعلیٰ عدلیہ ملعونہ کے کیس کے فیصلے پر نظر ثانی کرے۔
خبر کا کوڈ : 759037
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب