0
Saturday 10 Nov 2018 10:56

طالبان کیساتھ مکالمہ تو کشمیریوں کیساتھ کیوں نہیں، عمر عبداللہ

طالبان کیساتھ مکالمہ تو کشمیریوں کیساتھ کیوں نہیں، عمر عبداللہ
اسلام ٹائمز۔ مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیراعلٰی عمر عبداللہ نے افغان طالبان کے ساتھ بھارت حکومت کی غیرسرکاری سطح پر بات چیت کے فیصلے پر سوال اُٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ اگر بھارت طالبان کے ساتھ ایک اسٹیج پر بیٹھ سکتا ہے تو وہ کشمیر میں مزاحمتی رہنماؤں کے ساتھ بات چیت کیوں نہیں کرسکتا ہے۔؟ عمر عبداللہ نے سماجی رابطہ گاہ پر لکھے اپنے ایک ٹویٹ میں سوال کیا ہے کہ اگر مودی حکومت کو طالبان کے ساتھ نان آفیشیل یعنی غیرسرکاری سطح پر بات چیت منظور ہے، تو جموں و کشمیر میں مین اسٹریم سے الگ تنظیموں یعنی حریت پسندوں کے ساتھ نان آفیشیل بات چیت منظور کیوں نہیں۔؟

نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے روس میں ہندوستان اور طالبان میں ہونے والی نان آفیشیل سطح کی بات چیت پر مودی حکومت کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ عمر عبداللہ نے سوالیہ انداز میں کہا کہ جموں کو کشمیر کی چھینی ہوئی خودمختاری اور اس کی بحالی پر نان آفیشیل بات چیت کیوں نہیں۔ عمر عبداللہ کے ٹویٹ پر بی جے لیڈر نلن کوہلی نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ عمر عبداللہ سوشل میڈیا کی بنیاد پر چلتے ہیں، وہ جو خبر دیکھتے ہیں اس پر ٹویٹ کردیتے ہیں۔ واضح رہے کہ افغانستان میں امن بحالی کے لئے ہندوستان پہلی مرتبہ طالبان کے ساتھ اسٹیج شیئر کرے گا۔
خبر کا کوڈ : 760276
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب