0
Saturday 10 Nov 2018 23:57

سندھ منی لانڈرنگ میگا اسکینڈل کا حجم 1400 ارب روپے تک پہنچ گیا

سندھ منی لانڈرنگ میگا اسکینڈل کا حجم 1400 ارب روپے تک پہنچ گیا
اسلام ٹائمز۔ قومی احتساب بیورو (نیب) اگلے ماہ منی لانڈرنگ میگا اسکینڈل، جس کا حجم اب تک 1400 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے، کا ریفرنس دائر کرے گا، جبکہ اسکینڈل کی تمام تر تحقیقات ایف آئی اے افسران نے کی ہیں، ماضی میں بھی ایسا ہوتا رہا ہے، 1999ء کے بعد کئی اہم مقدمات جن میں بشمول نواز شریف ہیلی کاپٹر کیس، دو سابق نیول چیف اور بے شمار تحقیقات شامل تھیں، ان کی تفتیش تو ایف آئی اے افسران نے کی، مگر کیونکہ نیب اس وقت نو تشکیل شدہ ایجنسی تھی، اس لیے ریفرنس تو نیب نے دائر کیے، مگر اس کے تحقیقاتی افسر ایف آئی اے کے ہی رہے۔ اب بھی اس میگا اسکینڈل میں ریفرنس نیب ہی دائر کرے گا، مگر اس کے تفتیشی افسر اسسٹنٹ ڈائریکٹر محمد علی ابڑو ہی رہیں گے، جنہوں نے ابتدائی تفتیش کے بعد مقدمہ درج کیا، جس میں حسین لوائی، انور مجید، غنی مجید اور طحہ رضا کی گرفتاریاں ہوئیں اور کئی نامزد ملزمان، جن میں آصف زرداری اور فریال تالپور شامل ہیں، وہ ضمانتوں پر ہیں۔ مذکورہ تفتیش کے ابتدائی ایام کے بعد اس اسکینڈل کا حجم بڑھتا رہا اور اب ذرائع کے مطابق یہ اب تک 1400 ارب تک پہنچ گیا ہے۔

میگا اسکینڈل اور جعلی اکاؤنٹس کے حوالے سے گزشتہ کئی ماہ سے جب سے جے آئی ٹی تحقیقات کر رہی ہے، یہ مختلف غریب لوگوں کے اکاؤنٹس میں اربوں روپے ٹرانسفر اور نکالے گئے اور ساتھ ہی حکومت سندھ کے بڑے ٹھیکوں اور مبینہ کرپشن کے کیسز سامنے آئے ہیں، جس میں سندھ حکومت کے سیاسی رہنماء اور سرکاری افسران پر بھی شکوک و شبہات کا انکشاف ہوا ہے۔ اعلیٰ ایف آئی اے ذرائع کے مطابق اس وقت تک 46 ٹھیکیدار اور کنسٹرکشن کمپنیوں کو نوٹسز جاری کیے گئے ہیں، مگر ان میں آٹھ بڑے کنٹریکٹ لینے والے شامل ہیں اور ان آٹھ میں سے دو سب سے بڑے ہیں، جن کو دس برس میں 60 سے 80 ارب کے ٹھیکے دیئے گئے ہیں، جو بظاہر قواعد و ضوابط کے مطابق تھے، مگر ان کو دینے میں بہت گھپلے تھے۔ ان ٹھیکوں کو دلوانے میں سندھ کے سیاسی رہنما اور افسران بھی شامل تھے اور مبینہ طور پر اس مد میں کئی ارب روپے کمیشن بھی لیے گئے، جو بعد میں بے نامی اکاﺅنٹس میں منتقل ہوئے اور پھر نکال لیے گئے۔
خبر کا کوڈ : 760418
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب