0
Saturday 1 Dec 2018 17:22

فاٹا کے انضمام کو جلد از جلد پایا تکمیل تک پہنچائیں لیکن یہ اتنا آسان نہیں، صدر مملکت

فاٹا کے انضمام کو جلد از جلد پایا تکمیل تک پہنچائیں لیکن یہ اتنا آسان نہیں، صدر مملکت
اسلام ٹائمز۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے پشاور میں گورنر خیبر پختونخوا کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانا آسان کام نہیں ہے، صوبے کی تشکیل کی صورت میں وہاں کے انتظامی معاملات اور وسائل کی تقسیم کا تعین کرنا اور اس حوالے سے اقدامات کرنا پیچیدہ عمل ہے۔ فاٹا کے انضمام پر گفتگو کرتے ہوئے صدر مملکت نے اعلان کیا کہ وہاں تعینات لیویز اہلکاروں اور خاصہ دار فور س کو ختم نہیں کیا جائے گا بلکہ مزید 30 ہزار اہلکار بھرتی کئے جائیں گے۔ صدر مملکت نے بتایا کہ جب گورنر خیبر پختونخوا کو منصب دیا جارہا تھا تو انہیں بطور خاص ہدایت کی گئی تھی کہ فاٹا کے انضمام کو جلد از جلد پایا تکمیل تک پہنچائیں لیکن یہ اتنا آسان نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 18 ویں ترمیم کے بعد بہت سے معاملات صوبوں کے اختیار میں آگئے ہیں لیکن صوبوں کے انتظامی اور بعض قانونی معاملات ہیں جنہیں مسلسل دیکھنے کی ضرورت ہے۔

فاٹا کے انتظامی معاملات کے بارے میں صدر مملکت کا کہنا تھا کہ فاٹا میں پاکستانی قانون کے نفاذ کے بعد اب وہاں عدالتوں کا قیام، مجسٹریٹ مقرر کرنا اور ان کے دفاتر قائم کرنے کیلئے خیبر پختونخوا حکومت وفاقی حکومت سے مدد چاہتی ہے۔ عارف علوی نے بتایا کہ این ایف سی ایوارڈ میں فاٹا کیلئے خیبر پختونخوا کی گرانٹ میں 3 فیصد اضافہ کرنے پر غور کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبر پختونخوا خصوصاً فاٹا کے عوام کی قربانیوں کو بڑا حصہ ہے چناچہ فاٹا کی تعمیر نو اور انفرااسٹرکچر کی بہتری کیلئے 10 سال کے عرصے میں ایک ہزار ارب کی سرمایہ کاری لانا اور وہاں عوام کا معیارِ زندگی بہتر کرنا انتہائی ضروری ہے۔ صدر مملکت کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں اور تجربات سے دنیا استفادہ کرسکتی ہے۔

امن و امان کے باعث سیاحت کی بہتری کے حوالے کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے صدر کا کہنا تھا کہ 15-2014ء میں گلگت بلتستان جانے والے سیاحوں کی تعداد 14 سے 15 ہزار تھی اور اب اس سال ایک اندازے کے مطابق 22 لاکھ سے 25 لاکھ سیاح گلگت بلتستان گئے جو امن کی بدولت ممکن ہوا جس سے معیشت اور معاشرت دونوں میں بہتری آتی ہے۔ پشاور میٹرو بس سروس کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ 27 کلومیٹر پر مشتمل محیط اس منصوبے سے 4 لاکھ افراد استفادہ کریں گے اور اسے اگلے سال جون تک مکمل کئے جانے کا امکان ہے جبکہ اس کا کرایہ 15 روپے سے 55 روپے تک مقرر کیا جائے گا۔ صدر مملکت نے بی آر ٹی منصوبے میں ترقیاتی کاموں کی رفتار پر اطمینان کا اظہار کیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سیاح پہنچ گئے ہیں، اب حکومت کو وہاں کام کرنا ہے، اس کیلئے ایک جامع منصوبہ بندی کے ذریعے تعمیراتی کام کئے جائیں گے۔ سیاحت کے فروغ کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ان علاقوں تک سڑکیں بہتر بنانا سکیورٹی فراہم کرنا اور سہولتیں پہنچانا ضروری ہے۔

صدر عارف علوی نے مزید بتایا کہ اس سلسلے میں نجی شعبے کو شامل کیا جائے گا لیکن حکومت کے زیر انتظام کام ہوگا اور اس حوالے سے انہوں نے پرنس کریم آغا خان سے بھی گفتگو کی ہے جنہوں نے سیاحت کیلئے سیاحتی ویزا ہونے کی شرط کا ذکر کیا جس پر غور کیلئے محکمہ داخلہ کو سمری ارسال کی جائے گی۔ صدر مملکت کا کہنا تھا کہ اس کیلئے ایک جامع منصوبہ بندی تشکیل دی جارہی ہے جس میں سہولیات، تفریحی مواقعوں سمیت بہت سی چیزیں شامل ہوں گی۔ انہوں نے خیبر پختونخوا کو تعلیمی اصلاحات کے اعتبار سے دیگر صوبوں سے بہتر قرار دیا اور بتایا کہ مدرسے کے طلبا کیلئے ایک جدید ہم آہنگی سے مزین نصاب کی تشکیل بھی زیر غور ہے۔ صدر کا کہنا تھا کہ صحت و صفائی، شجر کاری اور بطور خاص آبادی کنٹرول کرنے کے حوالے سے بہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ آئینی دائرے میں رہ کر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے کے خواہاں ہیں۔
خبر کا کوڈ : 764309
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب