0
Monday 3 Dec 2018 13:09

چیف جسٹس کا کے پی کے میں صحت اور تعلیم کے شعبہ کی کارگردگی پر اظہار عدم اطمینان

چیف جسٹس کا کے پی کے میں صحت اور تعلیم کے شعبہ کی کارگردگی پر اظہار عدم اطمینان
اسلام ٹائمز۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے صوبہ خیبر پختونخوا میں صحت اور تعلیم کے شعبہ کی کارگردگی پر اظہار عدم اطمینان کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ کس بنیاد پر کے پی کو صحت اور تعلیم میں جنت بنانے کی بات کی جاتی ہے۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں خیبر پختونخوا کے سرکاری ہسپتالوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔ سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ کیا ویزر صحت عدالت میں موجود ہیں، جس پر صوبائی حکام نے بتایا کہ وہ آج عدالت نہیں آسکے ہیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ وزیر صحت عدالت نہیں آرہے ہیں اب میں خود چند روز میں پشاور کے ذہنی ہسپتال کا دورہ کرونگا۔ خیبر پختونخوا کے سرکاری ہسپتالوں سے متعلق کیس کی سماعت میں چیف جسٹس کے استفسار پر صوبائی سیکرٹری صحت نے بتایا کہ تریسٹھ سرکاری ہسپتالوں کے یومیہ 4 ہزار کلو فضلے میں سے 3 ہزار 600 کلو فضلے کو ٹھکانے لگایا جاتا ہے جبکہ باقی فضلے کو تلف کرنے کیلئے 200 ملین روپے مختص کردیئے گئے ہیں۔

جس پر چیف جسٹس نے کے پی حکومت کی صحت اور تعلیم کے شعبہ کی کارگردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے کہا کہ ذہنی امراض کے ہسپتال میں لوگ جانوروں کی طرح رہ رہے ہیں، اس طرح تو لوگ اپنے گھروں میں جانوروں اور کتوں کو بھی نہیں رکھتے۔ ہسپتالوں سے زائد المعیاد ادویات برآمد ہوتی ہیں آپ بلند دعوے کرتے ہیں کہ کے پی کو جنت بنا دیا ہے، اپنے سخت ریمارکس میں چیف جسٹس نے کہا کہ پی ٹی آئی والے اتنے سالوں سے کہہ رہے تھے کہ ذہنی امراض کے ہسپتالوں کی حالت بہتر کردی ہے۔ پانچ سال سے کے پی کے میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے، کس بنیاد پر خیبر پختونخوا کو صحت اور تعلیم میں جنت بنانے کی بات کی جاتی ہے۔ آئندہ چند روز میں خود اسپتال کا دورہ کروں گا۔ بعدازاں عدالت نے ہسپتال کا فضلہ ٹھکانے لگانے کے نظام کی تنصیب کے بارے میں ماہانہ رپورٹ طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت دو ماہ تک ملتوی کر دی۔
خبر کا کوڈ : 764591
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے