0
Thursday 2 Jun 2011 21:49

سنگین واقعات کا نوٹس نہ لینے کا وقت گزر گیا، ن لیگ بجٹ میں غریب عوام پر ناجائز بوجھ پڑنے نہیں دیں گی، نواز شریف

سنگین واقعات کا نوٹس نہ لینے کا وقت گزر گیا، ن لیگ بجٹ میں غریب عوام پر ناجائز بوجھ پڑنے نہیں دیں گی، نواز شریف
اسلام آباد:اسلام ٹائمز۔نواز شریف نے کہا ہے پارلیمنٹ کا تقدس برقرار رکھنے کیلئے وہ ہر قربانی دیں گے۔ حقائق منظر عام پر لانے کیلئے اب فیصلہ کن انداز میں حکومت کے پیچھے پڑگئے ہیں۔ ایبٹ آباد اور پی این ایس مہران کے واقعات پر آزادانہ کمیشن بننا چاہئے۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نواز شریف نے کہاکہ حکومت نے ایبٹ آباد واقعہ پر کمیشن کی تشکیل میں اپوزیشن لیڈر تو درکنار کمیشن کے ارکان سے بھی مشورہ کرنا گوارا نہیں کیا۔ انہوں نے کمیشن کو یکطرفہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت پارلیمنٹ کا تقدس پامال کرنے سے گریز کرے۔ پارلیمانی قرار داد پر من و عن عمل کیا جائے۔ پی این ایس مہران کے واقعے پر بھی کمیشن بننا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ سنگین واقعات کا نوٹس نہ لینے کا وقت گزر گیا۔ مسلم لیگ ن بطور اپوزیشن جماعت اپنے فرض کی ادائیگی میں غفلت نہیں کرے گی۔ پارلیمنٹ کی بالادستی قائم کرنے کیلئے ہر آپشن کھلا ہے۔ نواز شریف کا کہنا تھا آخر حکومت کس بات سے گھبرا رہی ہے؟ کسی کا پول کھلتا ہے تو کھل جائے۔ قوم سے حقائق نہ چھپائے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ بجٹ میں غریب آدمی پر مزید بوجھ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ حکومت کے پاس اکثریت نہیں اور جو لوگ حکومت میں شامل ہیں وہ نہ حکومت کے ہیں اور نہ کسی اور کے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہیلری کلنٹن کا پاکستان میں کرپشن کنٹرول کرنے کا بیان کرپشن کرنے والوں کے لئے ڈوب مرنے کا مقام ہے۔ نواز شریف نے صحافی سلیم شہزاد،ولی خان بابر کے قتل اور بلوچستان میں غیر ملکیوں کی ہلاکت کے واقعات کی بھی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ کمیشن تو بنا نہیں اور بننے سے پہلے ٹوٹ گیا آزادکمیشن بنانے کے طریقہ کار پر اختلاف ہے، پارلیمنٹ کی متفقہ قرارداد پر بھی عملدرآمد نہیں ہو رہا،بغیر مشاورت کے اقدامات سے ملک میں کنفیوژن پھیلتی ہے،پارلیمنٹ کے تقدس کو پامال نہیں کرناچاہیے ،حکومت قرارداد کی روح کی مطابق مشاورت سے کمیشن تشکیل دے، وزیر اعظم، قائدحزب اختلاف کی کمیشن پربھی مشاورت ہونی چاہیے،مشترکہ قرارداد پر حکومت من وعن عمل کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے ہمارے اصرار پر کمیشن بنانے پر اتفاق کیا،حکومت کی ذمے داری ہے کہ متفقہ قرارداد پر عمل کرے، میاں نواز شریف نے کہا کہ طے ہوا تھاکہ ایبٹ آباد واقعے کی تحقیقات کیلئے آزاد کمیشن بنے گا، آزاد کمیشن وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈر کی مشاورت سے بننا تھا، مشاورت کا مطلب کمیشن کے اراکین، اغراض مقاصد تھا، کمیشن کا مقصد ایبٹ آباد آپریشن کی تحقیقات کرنا تھا، مسلم لیگ نے وزیر اعظم سے عدالتی کمیشن کا مطالبہ کیا تھا، مشترکہ قرارداد میں طے کیا گیاتھاکہ کمیشن آزاد ہو، وزیراعظم نے کمیشن بنانے کیلئے کس سے مشورہ کیا ہمیں پتا نہیں،کمیشن کے نامزد کیے گئے ممبران سے بھی مشاورت نہیں کی گئی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت پی این ایس مہران واقعے پرآزاد کمیشن تشکیل دے۔
اس سے قبل نواز شریف کی زیر صدارت مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس پنجاب ہاؤس میں ہوا، ذرائع کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ بجٹ اجلاس کے موقع پر شدید احتجاج کیا جائے گا، تاکہ حکومت کو بجٹ میں عوام پر بوجھ ڈالنے کے اقدامات سے روکا جائے، غیر ترقیاتی اخراجات، صدر اور وزیراعظم کے اخراجات میں اضافے اور سانحہ ایبٹ آباد پر بننے والے کمیشن کے حوالے سے بھی احتجاج کا فیصلہ کیا گیا ہے،اجلاس میں چوہدری نثار علی، راجہ ظفرالحق، جاوید ہاشمی، خواجہ آصف، اسحاق ڈار اور دیگرپارٹی ارکان شریک ہوئے۔
خبر کا کوڈ : 76484
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے