0
Monday 10 Dec 2018 13:45

مسلمانوں کے درمیان خون خرابے کو بند کرانا امر واجب اور اسلامی و انسانی فریضہ ہے، ڈاکٹر علی اکبر ولایتی

مسلمانوں کے درمیان خون خرابے کو بند کرانا امر واجب اور اسلامی و انسانی فریضہ ہے، ڈاکٹر علی اکبر ولایتی
اسلام ٹائمز۔ تہران میں محبان اہلبیت عالمی کانگریس کی مرکزی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عالمی امور میں رہبر انقلاب اسلامی کے مشیر اعلیٰ اور عالمی اسلامی بیداری فورم کے سکرٹری جنرل ڈاکٹر علی اکبر ولایتی نے کہا کہ جو چیز تمام مکاتب فکر اور نظریات کو ایک دوسرے کے ساتھ مضبوطی سے جوڑتی ہے، وہ کتاب الہیٰ، حضرت ختمی مرتبت کی نبوت اور محبت اہلبیت ہے۔ ڈاکٹر علی اکبر ولایتی نے کہا کہ عالم اسلام مختلف النوع رجحانات اور نظریات کا حامل ہے، جن میں ہر ایک کا خاص مقام ہے۔ زیدی، علوی، حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی جعفری، اباضی، اسما‏عیلی، تصوف و طریقت وغیرہ سب مسلمانوں کے مختلف گروہ ہیں اور سب نے اسلامی تہذیب و تمدن کے فروغ کی راہ میں قیمتی خدمات انجام دینے کی کوشش کی ہے۔ ڈاکٹر علی اکبر ولایتی نے مسلمہ امہ کو درپیش چیلنجوں اور مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے یہ بات زور دے کر کہی کہ مسلمانوں کے درمیان خون خرابے کو بند کرانا امر واجب اور اسلامی اور انسانی فریضہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پراکسی وار نیز انتہا پسند تکفیری گروہوں کے ذریعے، اسلامی ملکوں کو کمزور اور ان کے حصے بخرے کرنے کی غرض سے شروع کئے جانے والے فتنے کا مقابلہ کرنا ہم سب کی اسلامی اور دینی ذمہ داری ہے۔

اسلامی بیداری فورم کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ فلسطین کے مظلوم عوام، پوری مظلومیت کے ساتھ امت مسملہ کے دفاع کا پرچم اپنے کاندھوں پر اٹھائے اور اسے مسلسل لہر ارہے ہیں۔ عالمی امور میں رہبر انقلاب اسلامی کے مشیر اعلیٰ نے موجودہ امریکی حکومت کی پالیسیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ میں ایک ایسا شخص برسر اقتدار آگیا ہے، جس نے امریکہ کی سازشکارانہ پالیسیوں کو ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ کھول کے رکھ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کے اقدامات دراصل امریکی حکام کی طے شدہ پالیسیوں اور سیناریو کا حصہ ہیں۔ اسلامی بیداری فورم کے سیکرٹری جنرل نے مزید کہا کہ وقت نے ثابت کر دیا ہے کہ امریکہ پچھلے چالیس برس کے دوران اپنی پالیسیوں کو دنیا بھر میں مسلط کرنے میں ناکام رہا ہے اور آئندہ بھی رہے گا۔ قابل ذکر ہےکہ عالمی محبان اہلبیت کانگریس کی مرکزی کونسل کا پہلا دو روزہ اجلاس پیر سے تہران میں شروع ہوگیا ہے، جس میں عالم اسلام کے درمیان وحدت کی راہوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اجلاس میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والی بین الاقوامی شخصیات شریک ہیں۔
خبر کا کوڈ : 765909
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش