0
Wednesday 12 Dec 2018 23:08
ہمارے فیصلوں اور پالیسیوں کا اثر لاکھوں لوگوں پر پڑتا ہے

احتساب انصاف پر مبنی ہونا چاہیئے، خود احتسابی کے عمل کو بھی اختیار کرنیکی ضرورت ہے، جام کمال خان

احتساب انصاف پر مبنی ہونا چاہیئے، خود احتسابی کے عمل کو بھی اختیار کرنیکی ضرورت ہے، جام کمال خان
اسلام ٹائمز۔ وزیراعلٰی بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ جن معاشروں میں احتساب نہ ہو وہ آگے نہیں جا سکتے، تاہم احتساب انصاف پر مبنی ہونا چاہیئے، ہمیں معاشرے میں رہتے ہوئے خود احتسابی کے عمل کو بھی اختیار کرنے کی ضرورت ہے، ہم جس جس منصب پر فائز ہیں، ہمارے فیصلوں اور پالیسیوں کا اثر لاکھوں لوگوں پر پڑتا ہے جس کے ہم جوابدہ ہیں، اگر ہم غلط فیصلے کریں گے تو لامحالہ ان کے منفی اثرات ہم پر اور ہمارے بچوں پر بھی مرتب ہوں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیب بلوچستان میں بدعنوانی کے خاتمے سے متعلق منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا، رکن صوبائی اسمبلی مبین خان خلجی، میئر کوئٹہ میٹروپولیٹن کارپوریشن ڈاکٹر کلیم اللہ، مختلف محکموں کے سیکرٹری اور دیگر حکام بھی سیمینار میں شریک تھے جبکہ ڈائریکٹر جنرل نیب بلوچستان محمد عابد جاوید نے خطبہء استقبالیہ پیش کرتے ہوئے سیمینار کے اغراض و مقاصد اور بدعنوانی کی روک تھام اور خاتمے کے لئے اپنے ادارے کی کارکردگی اور کوششوں پر روشنی ڈالی۔
 
وزیراعلٰی نے اپنے خطاب میں کہا کہ اسلام جبر کا مذہب نہیں اور دین اسلام میں مکمل ضابطہ حیات موجود ہے جس میں ایک دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے مکمل آزادی حاصل ہے، تاہم اپنی خواہشات کے تابع ہوکر ہم اس دائرہ کار سے باہر نکل جاتے ہیں اور دلیل دیتے ہیں کہ اسلام میں تنگی نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ غلط کام کرکے، جھوٹ بول کر، دوسرے کا حق مار کر اور کسی کی جان لے کر کہا جائے کہ اللہ غفور الرحیم ہے تو یہ سراسر اپنے آپ سے دھوکہ دہی ہے۔ وزیراعلٰی نے کہا کہ جب جھوٹی دلیلوں کے ساتھ انسان اپنے آپ کو مطمئن کرنے اور دوسروں کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتا ہے تو پھر برائی برائی نہیں لگتی اور نہ ہی اسے معیوب سمجھا جاتا ہے، وزیراعلٰی نے کہا کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، اسلام میں سزا اور جزا کا تصور موجود ہے، انسان اشرف المخلوقات ہے اور غلطی بھی انسانوں سے ہی ہوتی ہے تاہم برائی کو روکنے کی کوشش ضرور کرنی چاہیئے، کوئی انسان ہمیشہ اچھا یا ہمیشہ برا نہیں ہوسکتا، وزیراعلٰی جام کمال نے کہا کہ ہم بھول جاتے ہیں کہ جوانی کے بعد انسان بوڑھا اور کمزور بھی ہو جاتا ہے، اور جو انسان برائی روکنے کی کوشش ہی نہیں کرتا بلکہ اس کا حصہ بنا رہتا ہے عمر کے آخری حصے میں وہ پچھتاوے کا شکار رہتا ہے، وزیراعلٰی نے کہا کہ محنت اور کوشش کرنے والے لوگ قابل تعریف ہوتے ہیں جنہیں اللہ کی پسندیدگی بھی حاصل ہوتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان اس سطح پر پہنچ چکا ہے جہاں مزید غلطیوں کی گنجائش نہیں، ماضی کے غلط فیصلوں اور پالیسیوں کے باعث زیرتکمیل منصوبوں کا تھرو فارورڈ 400ارب روپے ہے، جن میں کئی منصوبے گذشتہ دس سالوں سے نامکمل ہیں جبکہ پرانے منصوبے مکمل کئے بغیر پی ایس ڈی پی میں نئے منصوبے شامل کئے جاتے رہے، انہوں نے کہا کہ وزیراعلٰی معائنہ ٹیم نے چھ سو سے زائد منصوبوں کا معائنہ کیا جن میں سے کئی منصوبے کاغذوں میں مکمل ہو چکے ہیں لیکن یا تو زمین پر ان کا وجو ہی نہیں یا یہ تاحال نامکمل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بات سے انکار نہیں کہ افسروں پر سیاسی دباؤ ہوتا ہے لیکن افسر بہتر حکمت عملی کے ساتھ اپنے آپ کو اس دباؤ سے نکال سکتے ہیں۔ جام کمال نے کہا کہ صوبے کے مالی معاملات جس طرح خرابی کی طرف جارہے ہیں اس کا اثر سب پر پڑے گا، معاشرتی برائیوں میں اضافہ ہوگا اور انتشار اور انارکی کی فضا پید ا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایسا ملک ہے جس میں تمام وسائل موجود ہیں لیکن پھر بھی ملکی معیشت کا انحصار بیرونی قرضوں پر ہے جو انتہائی افسوسناک ہے۔ اسی طرح بلوچستان میں بھی وسائل کی کمی نہیں صرف گڈ گورننس کا فقدان ہے، جس کی وجہ سے ہم تمام وسائل کے ہوتے ہوئے بھی پسماندگی اور غربت کا شکار ہیں۔

وزیراعلٰی نے کہا کہ بلوچستان مارا گھر ہے اور ہم سب نے یہیں رہنا ہے، ہم اپنے گھر کے ساتھ اچھا کریں گے تو سب کے لئے اچھا ہوگا، اور برا کریں گے تو سب کے لئے برا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ گورننس اسٹرکچر سب سے بڑا مسئلہ ہے، بدقسمتی سے گورننس کو بہتر بنانے کی بجائے مصنوعی سیاست کا سہارا لیا گیا، بازار میں بیٹھ کر چائے پینا اور جھاڑو پکڑ کر صفائی کرنا وزیراعلٰی کا کام نہیں ہے اس طرح تبدیلی نہیں آتی، مسائل کا پائیدار بنیادوں پر حل گڈ گورننس کے ذریعہ ہی ممکن ہے، اگر ہم اچھا کام کریں گے تو میڈیا خود ہی ہمیں اہمیت دے گا۔ وزیراعلٰی نے کہا کہ ہمیں بدعنوانی اور مس مینجمنٹ کو اس کے آغاز سے ہی قابو کرنا ہوگا، سیکرٹری ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کانظام بنائیں اور خود بھی منصوبوں کا معائنہ کرتے رہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت نے کمشنروں اور ڈپٹی کمشنروں کو ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ ساتھ تعلیم اور صحت کے شعبوں کی نگرانی کی ذمہ داریاں دی ہیں جس سے ان میں بہتری آرہی ہے، انہوں نے کہا کہ اگر افسران خوش نیتی اور جرات مندی کے ساتھ کام کریں تو نیب یا کوئی ادارہ ان کے خلاف کاروائی نہیں کرے گا، صوبے کو بہتر بنانا ہم سب کی ذمہ داری ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا، بعدازاں وزیراعلٰی کو ڈائریکٹر جنرل نیب نے بدعنوانی کے مختلف کیسز میں وصول کی گئی 46 کروڑ سے زائد خطیر رقم کا چیک دیا۔ وزیراعلٰی نے اس موقع پر اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے نیب اہلکاروں میں تعریفی اسناد تقسیم کیں جبکہ وزیراعلٰی کو ڈی جی نیب نے یادگاری شیلڈ پیش کی۔
خبر کا کوڈ : 766368
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب