0
Monday 24 Dec 2018 12:14
خطے میں دیرپا امن و استحکام کیلئے روابط بڑھانے کی ضرورت ہے

وزیر خارجہ کا 4 ملکی دورہ، پہلے مرحلے میں افغان صدر سے ملاقات

وزیر خارجہ کا 4 ملکی دورہ، پہلے مرحلے میں افغان صدر سے ملاقات
اسلام ٹائمز۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی 3 روزہ 4 ملکی دورے کے پہلے مرحلے میں افغانستان پہنچ گئے، جہاں انہوں نے افغان صدر اشرف غنی اور افغان ہم منصب صلاح الدین ربانی سے وفود کی سطح پر ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی اور بین الاقوامی صورتحال، افغان مفاہمتی عمل، معیشت کے مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ واضح رہے کہ کابل میں دونوں ممالک درمیان وفود کی سطح پر ہونے والے مذاکرات میں پاکستانی وفد کی قیادت شاہ محمود قریشی جبکہ افغان وفد کی قیادت صلاح الدین ربانی نے کی۔ دورہ کابل کے دوران پاکستان اور افغانستان کے وزرائے خارجہ کے درمیان ون آن ون ملاقات بھی ہوئی، جس میں خطے کی مجموعی صورتحال اور دونوں ممالک کے مابل باہمی تعلقات پر اہم گفتگو کی گئی۔ اس موقع پر دونوں وزرائے خارجہ نے دو طرفہ سیاسی، تجارتی اور ثقافتی تعلقات کے فروغ پر اتفاق کیا۔ ملاقات میں صلاح الدین ربانی نے افغان عمل کے حوالے سے ہونے والی مثبت پیشرفت سے آگاہ کیا اور پاکستان کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کو سراہا جبکہ شاہ محمود قریشی نے خطے میں دیرپا امن و استحکام کے لئے روابط بڑھانے پر زور دیا۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ افغانستان میں امن اور سلامتی کی بات کی ہے۔ خیال رہے کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی 4 روزہ ملکی دورے کے پہلے مرحلے میں افغانستان پہنچے تھے، جہاں افغانستان میں پاکستان کے سفیر اور وزارتِ خارجہ افغانستان کے سینئر حکام نے ان کا استقبال کیا تھا۔ اس دورے کے دوران ان کے ہمراہ سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ اور وزارت خارجہ کے اعلٰی حکام بھی موجود ہیں۔ 4 ملکی دورے کے دوران وہ ایران، چین اور روس بھی جائیں گے، جہاں وہ ان ممالک کے ساتھ پاکستان کے دوطرفہ تعلقات کے حوالے سے تبادلہ خیال کریں گے۔ اس کے علاوہ علاقائی تعمیر و ترقی اور افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے بھی گفتگو کی جائے گی۔ اس سے قبل کابل روانگی سے قبل شاہ محمود قریشی نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں کہا تھا کہ علاقائی ممالک کے ساتھ قریبی تجارتی و سیاسی تعلقات کا قیام پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔
خبر کا کوڈ : 768368
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش