0
Monday 7 Jan 2019 11:02

اومنی گروپ کیخلاف اتنا مواد آ چکا ہے کہ کوئی آنکھیں بند نہیں کر سکتا، چیف جسٹس

اومنی گروپ کیخلاف اتنا مواد آ چکا ہے کہ کوئی آنکھیں بند نہیں کر سکتا، چیف جسٹس
اسلام ٹائمز۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے جعلی بینک اکاؤنٹس کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے ہیں کہ اومنی گروپ کے خلاف اتنا مواد آ چکا ہے کہ کوئی آنکھیں بند نہیں کر سکتا۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس فیصل عرب پر مشتمل سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے جعلی بینک اکاؤنٹس کیس کی سماعت کی۔ بحریہ ٹاؤن کے وکیل خواجہ طارق رحیم نے عدالت کے روبرو موقف اختیار کیا کہ جے آئی ٹی رپورٹ کے پیرا گراف 275 میں فاروق ایچ نائیک کے بیٹے کا ذکر ہے، الزام لگایا گیا کہ کراچی میں فاروق نائیک کے بیٹے نے دو گھر اہلیہ کے نام پر خریدے، کہا گیا نیب فاروق نائیک اور سندھ حکومت کے گٹھ جوڑ کی تحقیقات کر رہا ہے، انہیں وکلاء کے خلاف تحقیقات پر اعتراض ہے۔

جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ ملک میں کوئی مقدس گائے نہیں ہے، تحقیقات میں علم ہو جائے گا گٹھ جوڑ ہے یا نہیں، جس پر طارق رحیم نے کہا کہ ایسی باتوں سے پنڈورا بکس کھلے گا۔ وکیل اومنی گروپ کے وکیل نے کہا کہ یکم جنوری کو افتخار درانی نے کہا کہ حکومت نے کسی کا نام ای سی ایل پر نہیں ڈالا، اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ کابینہ میں جے آئی ٹی میں نام آنے پر 172 افراد کو ای سی ایل میں شامل کرنے کا معاملہ رکھا گیا ہے، کابینہ 10 جنوری کی میٹنگ میں ای سی ایل سے متعلق فیصلہ کرے گی۔

چیف جسٹس نے اومنی گروپ کے وکیل سے مکالمے کے دوران ریمارکس دیئے کہ معاملہ کابینہ کو دوبارہ اسی لئے بھجوایا تھا، آپ کو اعتراض ہے تو میں نام ای سی ایل میں ڈال دیتا ہوں، آپ نے قسم کھا لی ہے کہ کیس آگے نہیں چلنے دینا، کیس نیب کو بھجوانے پر دلائل دیں، اومنی گروپ کے خلاف اتنا مواد آ چکا ہے کہ کوئی آنکھیں بند نہیں کر سکتا، اوپر سے چینی کی بوریاں بھی اٹھا لی گئیں، یہ بتائیں کہ معاملہ اب کس کورٹ کو بھیج دیں؟۔
خبر کا کوڈ : 770667
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب